وائس اوور انڈسٹری کی بھیڑ چال

ابھی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم پری کا ٹریلر دیکھا تو ایک آواز نے ڈرا دیا (یہ وائس اوور آرٹسٹ کا کمال تھا) دادی اماں کہتی تھیں خالی گھر جو ہوتے ہیں۔ یہ نظم فلم کا حصہ ہے۔ بڑا تلاش کیا کہ وائس اوور آرٹسٹ کا نام مل جائے۔ لیکن بھلا ہو ہمارے پروفیشنلز کا۔ پروڈکشن کے اینڈ کریڈٹس میں شاید آپ کو چائے بنانے والے کا بھی نام مل جائے، لیکن اکثر وائس اوور آرٹسٹ کا نام پوشیدہ رکھا جاتا ہے، یہ بھی بعید نہیں کہ اس وائس اوور آرٹسٹ کو معاوضہ بھی دیا گیا یا نہیں جس کا نام بڑی مشکل سے فلم کے میوزک سی ڈی پر نظر آیا۔ اب وائس اوور آرٹسٹ کا نام پوشیدہ رکھنے میں کیا بھید ہے، یہ تو ٹیم ہی جانے۔ شاید اس کی وجہ وائس اوور انڈسٹری کا وہی گورکھ دھندا ہے، جس کی وجہ سے پروڈکشن والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وائس اوور آرٹسٹ کو کلائنٹ کے ساتھ ڈائریکٹ نہ کیا جائے۔ اور کوئی ان تک براہ راست نہ پہنچ سکے۔
ویسے دیکھا جائے تو اس ساری صورتحال میں کچھ قصور وائس اوور آرٹسٹوں کا بھی ہے۔ کچھ آرٹسٹ اپنی ویلیو خود اتنی ڈاون کردیتے ہیں جو دوسرے پروفیشنلز کے لیے مسائل کھڑے کردیتی ہے۔ اور وائس اوور انڈسٹری کا سب سے دلچسپ پہلو پروفیشنل جیلسی کا بھی ہے۔ مجال ہے کوئی فی میل وائس اوور آرٹسٹ کسی دوسری وائس اوور آرٹسٹ کو رہنمائی کردے، یا کوئی میل وائس اوور آرٹسٹ دوسرے میل آرٹسٹ کو ہاتھ تھام کر راستہ دکھادے۔ تو جب ڈیڑھ اینٹ کی اتنی ساری مسجدیں ہوں گی، تو بھیڑ چال کا مقابلہ کون اور کیوں کر کرسکے گا؟

