اقبال لالہ اور نو ماہ کی طویل رات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ رات جو اس نے اپنے بیٹے کی بےگوروکفن لاش کے ساتھ اکیلے بتائی تھی، وہ رات ابھی اختتام کو نہیں پہنچی۔ جاری ہے۔ نو ماہ پر محیط رات۔

نو ماہ۔۔۔ نو ماہ میں ایک خلیہ، انسانی شکل لے کر ایک مکمل جاندار کا روپ دھار لیتا ہے۔ نو ماہ کی اس طویل رات میں ، میں نے اس معاشرے کو مکمل بے حس ، نفرت انگیز اور وحشت زدہ جانور کا روپ دھارتے دیکھا ہے۔ جوان بیٹے کی وہ لاش جو اقبال لالہ کے بوڑھے کندھوں پر آج سے نو ماہ قبل لاد دی گئی تھی، لالہ آج بھی تنہا اُس کا بوجھ اُٹھائے ہیں۔

آج بھی اُسی رات کا سامنا ہے جب لالہ نے اِس معاشرے کے افراد سے توّقع رکھی تھی کہ مذہب کے نام پر ناحق خون بہانے سے بھی گُریز نہ کرنے والا ایسا فرض شناس سماج یقیناً کفن دفن جیسےمذہبی فرضِ کفائہ اورسماجی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرے گا۔ لیکن ایسا ہُوا نہیں۔ وہ رات معاشرے کی بے حِسی اور ظالم کے خوف کی نوحہ گِری کرتی ، اقبال لالہ کے کندھوں پر جوان بےگُناہ بیٹے کی لاش کے بوجھ کا مرثیہ کرتی رہی۔

نو ماہ پہلے کی وہ رات ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔

“ كل نفس ذائقة الموت ۔۔“

موت برحق ہے۔ اور ہر جاندار نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اِسی حقیقت کا اِدراک کرتے ہوئے، مذہب اور معاشرہ ، کفن نیز دفن کو جانے والے کا ، پیچھے رہ جا نے والوں پر حق گِر دانتا ہے۔ مذہب نے اسے معاشرتی فرض گِردانا ہے۔ سماج اسے مرنے والے کا حق تسلیم کرتا ہے۔ لیکن کیا سّفاکیت کے شکار ایک بے گُناہ کی موت ، صِرف اُس کی تدفین کا ہی تقاضہ کرتی ہے؟ کیا اُس معاشرے کے افراد پر مرنے والے کا یہ قرض نہیں رہ جاتا کہ اُس سے نا حق چھینی گئی اُس کی سانسوں کا، ظالموں سے حساب لِیا جائے ؟ اور جب قاتل خود بھرے مجمع میں اپنے دریندگانہ ظلم کا کھُلے عام ِاتراتےاظہار بھی کرے!

مشال خان کا فرضِ کفایہ، پاکستان پر واجب الادا قرض ہے۔ اور یہ قرض تب تک ادا نہیں ہو گا جب تک اُس کے قاتل ، اپنے کُھلے عام اعترافی بیانات کے باوجود کُھلِ عام دندناتے رہیں گے۔ مشال خان کے کفن اور د فن کا قرض ہم پر بہ حیثیت قوم تب تک واجب رہے گا جب تک کہ مجرم عدالت کے کٹہرے میں لائے نہیں جاینگے۔ جب تک قاتل آئین و قانون کے مطابق قرار واقعی سزا نہیں پائیں گے۔

اِس طویل رات کا اختتام، اُن قاتلوں کی قانونی گرفت سے ہی ممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعدیہ وقاص

اُستانی بائی پروفیشن ہی نہیں، جبلتاً واقع ہوئی ہوں۔ زبان دراز ہے۔ جی، میں بذاتِ خود تنگ ہوں نیز شرمندہ بھی۔ برداشت کا شکریہ ۔

saadia-waqas has 4 posts and counting.See all posts by saadia-waqas