جماعت اسلامی کے عطاء الرحمٰن کی مشال خان مقدمے پر پریس کانفرنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امیر جماعت اسلامی ضلع مردان ڈاکٹر عطاءالرحمن نے پچھلے روز ایک پریس کانفرنس کی تھی ( https://www.facebook.com/Laborsnewskatlang/videos/2059179907661777/) جو پشتوزبان میں تھی۔ اس کا مکمل ترجمہ اور بریکٹوں کے اندر راقم السطور کااس پر تبصرہ یا وضاحت نیچے دیے جارہے ہیں۔ اس سے پہلے ایک بات: اظہار رائے کی آڑمیں کسی کو کسی کی بھی بےعزتی اور توہین کا حق نہیں کجا یہ کہ کسی پیغمبر خدا یا مذہبی عقیدے یا مقدس چیز کا مذاق اڑایا جائے لیکن کسی فرد یا انبوہ کے بجائے مجاز عدالت ہی اس کے مرتکب کو سزا دلوا نے کا حق رکھتی ہے۔

”آج میری یہ پریس کانفرنس مشال کیس پرعدالتی فیصلے کے بارے میں ہے۔ اس فیصلے میں 26 افراد رہا ہوئے ہیں لیکن اس میں اوروں کوسزائیں دی گئی ہیں۔ کسی کو پھانسی کی سزا (دی گئی ہے) کسی کو 25 سال قید کی سزا اور کسی کو اس سے کم سزا دی گئی ہے۔

میں اس بارے میں پہلی بات یہ کرناچاہتا ہوں کہ حضورؐ کے ناموس پر ہر مسلمان اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ ہم حضورؐ کی شفاعت کے امیدوار ہیں اور حضور ؐ کی سیرت اور محبت کے بغیر آخرت میں ہماری کامیابی ممکن نہیں ہے۔

ہمارے پاکستان کا بھی قانون ہے توہین رسالت کا قانون یعنی Blasphemy Law اور ہماری شریعت کا بھی قانون ہے کہ جو مذہب کی توہین کرے، حضورؐ کی شان میں گستاخی کرے اس کی سزا ہے سزائے موت۔

یہاں جو یہ فیصلہ آیا تو یہ ٹھیک ہے کہ عدالت کے فیصلے ماننے چاہئیں، قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے لیکن ہم یہ کہتے ہیں اس فیصلے میں بہت قانونی سقم ہے۔ جناب سراج الحق صاحب امیر جماعت اسلامی پاکستان سے میں نے درخواست کی کہ ہم آپ سے اس مسئلے (غالباً مشال خان کیس کے فیصلے کے بعد رہا شدہ افراد کے استقبال کے موقع پر ڈاکٹر صاحب موصوف کی ویڈیو اور اس پر ردعمل) پربات کرنا چاہتے ہیں۔ میری کل ان سے (سراج الحق صاحب) سے ملاقات ہو گئی اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وکلاء اور قانون کے راستے سے ان سزاٶں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی اور وکلاء جو موقف رکھتے ہیں وہ یہ ہے اور مردان کے عوام بھی یہ موقف رکھتے ہیں کہ ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں لیکن اس فیصلے میں توہین رسالت اور گستاخی کا پہلو باالکل نظر انداز کیا گیا ہے اور اسےایک عام قتل کے طور پر لیا گیا ہے۔“ (کیا ڈاکٹر صاحب کہناچاہتے ہیں کہ چونکہ پاکستانی قانون اور شریعت میں توہین رسالت پرسزائے موت ہے اور یہاں مشال خان کی طرف سے ”گستاخی کےارتکاب“ کا معاملہ تھا اس لیے اس کے قتل کو ایک عام قتل نہیں بلکہ ”توہین رسالت کے مرتکب“ شخص کا قتل سمجھا جانا چاہیے تھا۔ کیا ڈاکٹر صاحب ایسی صورت میں قتل میں ملوث افراد کی سزا ختم کرنے کو قانون و انصاف کا تقاضا گردانتے ہیں؟)

لازم تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے جو نوٹس جاری کیا تھا اس قتل کے روز گیارہ بارہ بجے اور اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ مشال عبداللہ اور زبیرپر توہین رسالت کی بات ہے (یعنی الزام ہے) لہذا ہم انہیں ہاسٹل سے نکال رہے ہیں اور ان کے بارے میں ایک کمیٹی بنا رہے ہیں۔ ضرورت تھی کہ اس یونیورسٹی سے پوچھا جاتا کہ آپ نے توہین رسالت کی بات عبداللہ (اور مشال خان و زبیر) کے بارے میں کی تھی ایک نوٹس کی شکل میں۔ اس کی حقیقت کیا ہے؟ آیا یہ توہین ہے یا نہیں؟ ان سے معلومات اور تفتیش درکار تھی۔ (مولانا کو شاید نہیں پتہ کہ سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی نے اس بارے میں تفصیل سے گزارشات اپنی رپورٹ میں دی ہوئی ہیں جن میں یونیورسٹی انتظامیہ کے چند افراد اور ایک طلباء تنظیم کے کارکنوں پر مشال خان کے خلاف توہین رسالت کا سازش تیار کرنےکی بات کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پی ایس ایف کے صدر اور یونیورسٹی کے ایک ملازم نے واقعے سے ایک ماہ قبل مشال خان کو ہٹانے کی بات کی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی تھا کہ مشال خان یونیورسٹی میں بے ضابطگيوں کے خلاف کھل کر بات کرتے تھے جس سے یونیورسٹی انتظامیہ ان سے خوف زدہ تھی۔ رپورٹ کے مطابق مخصوص گروپ نے توہین رسالت کے نام پر لوگوں کو مشال خان کے خلاف اکسایا۔ رپورٹ میں یونیورسٹی کے بیشتر ملازمین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں چھان بین کی ضرورت ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔ مزید تفصیل کے لیے پڑھیے)

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-40143749

یہ تفتیش بھی درکارتھی کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے جب مشال کو لوگوں کے سامنے expose کر لیا اور توہین رسالت سے لنک کر دیا تو انہوں نے اس کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے۔ نہ تو حفاظتی اقدمات ہو ئے اور نہ عدالت نے ان سے پوچھا کہ اس بات کی حقیقت کیا تھی (جےآئی ٹی رپورٹ کے مطابق مشال خان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف توہین رسالت یا مذہب کے کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ویسے یونیورسٹی انتظامیہ نے اگر اس سلسلے میں کوتاہی کی ہے تو اس کے خلاف بھی ایکشن لیا جاناچاہیے لیکن جنہوں نےمشال خان کو قتل کیا اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں کیاانہیں معاف کیا جائے؟ اوراگر یونیورسٹی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات نہ لیے توکیا یہ کسی کو اس کے قتل کی اجازت یا درخواست تھی جس سے خوامخواہ ”استفادہ“ کرنا ضروری تھا؟)۔

ہم یہ بات بھی کرتے ہیں کہ مشال خان کی جو ID تھی (فیس بک کی) اس آئی ڈی کے بارے میں ایف آئی اے اور ایجنسیز کی رپورٹ کا عدالت نے انتظار نہیں کیا تاکہ معلوم ہوجاتا کہ یہ آئی ڈی کس کی تھی۔ اگر یہ آئی ڈی مشال کی نہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے تو پھر کس کی تھی؟ اس ملک میں تو Cyber crimes laws کے تحت اگر کوئی ریاست یا اداروں کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے بات کرے تو اس کی شناخت فوراً ظاہر ہو جاتی ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ اتنی زیادہ chatting جو کی گئی ہے اس میں گستاخی،توہین مذہب، الحاد اور کفر کی باتیں ہیں اور وہ یکارڈ پر موجود ہیں تو کم ازکم یہ تو واضح ہونا چاہیے کہ یہ chatting کس کی ہے یہ آئی ڈی کس کی تھی؟ تو ان چیزوں کو انہوں نے باالکل ٹچ ہی نہیں کیا اور توجہ نہیں دی ہے۔ (جےآئی ٹی رپورٹ کے مطابق مشال خان کےخلاف توہین رسالت کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ پھر مشال خان کی آئی ڈی Remembering Mashal Khan- The Humanist کےنام سے اب بھی موجود ہے (مشال خان کے اکاونٹ کالنک یہ ہے https://www.facebook.com/mashal.khan.1675275) اس پر کوئی بھی جاکر تصدیق کر سکتا ہے کہ اس میں یہ تمام مبینہ گستاخانہ مواد انہی الفاظ میں موجود ہے یا نہیں۔ واضح رہے فیس بک کی پالیسی ہے کہ جو بندہ مرجاتا ہے اس کے اپنے ذاتی اکاونٹ پر remembering کے الفاظ لگا کر اسے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ تاہم جس طرح مشال خان نے خود بھی کہا تھا کہ کسی نے اس کے نام سے ایک جعلی اکاونٹ بنایا ہوا تھا اور جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی سازش کی نشاندہی کی گئی تھی اس لیے اس کےنام سے تمام اکاٶنٹس اور اس کے خلاف تیار کیے گئے پمپلٹ کےبارے میں بھی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔)

لہذا ہمارے وکلاء ہائی کورٹ جائیں گے اور ہم ان وکلاء کےساتھ اس کیس کی حقیقت تک پہنچنے اور صحیح فیصلے کے آنے کے لیے تعاون کریں گے۔ تعاون اس شکل میں کہ پاکستانی عوام اور مردان کے غیور عوام اس بات کے پیچھے کھڑے ہوں گے کہ عدالت ایسا فیصلہ کرے اور ایسے فیصلے تک جس طرح پہنچنا چاہتی ہے پہنچے کہ اس قتل کی محرکات کو اس میں زیر غور لائے اور سامنے لائے۔۔( اس قتل کے محرکات کی جے آئی ٹی رپورٹ میں کھل کر نشاندہی کر دی گئی ہے)۔

اس طرح مشال خان کے والد نے جو بات کی تھی کہ تین قسم کے لوگ اس معاملے میں ملوث تھے اور ان سب کے بارے میں تحقیقات درکار ہیں۔
ایک، موقع پر موجود طلباء یا غیر طلباء، دوسرے، یونیورسٹی انتظامیہ اور تیسرے، پولیس انتظامیہ۔ ان دونوں سائیڈ کو سرے سے ٹچ ہی نہیں کیا گیا اور ان کی تفتیش سامنےنہیں لائی گئی۔(موصوف موقع پر موجود اور قتل میں شریک طلباء کے بارے میں یہاں نہیں بولے بلکہ ان میں سے جن کو سزا ہوئی ہے موصوف ان پر تنقید تو کیا کرتے الٹا ان کی سزا کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یونیورسٹی کے کردار پراُوپرجےآئی ٹی کی سفارشات بیان ہو چکیں جبکہ رپورٹ میں پولیس کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ پولیس کی طرف سے بروقت کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے)۔

ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کرتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کی سزاٶں کے خلاف (ہیں) یہ سزا طلباء کو نہیں دینی چاہیے تھی۔ اس وجہ سے نہیں دینی چاہیے تھی کہ ہمیں پتہ چلے کہ اس ( مشال کے قتل) کی وجہ کیا تھی اور توہین رسالت کی بات سامنے آئے کہ آیا توہین ہوئی تھی یا نہیں تو اس کے بعد جو فیصلہ ہوگااس فیصلے کو عوام قبول کریں گےاور ہم بھی قانونی لوگ ہیں عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔ ( یہ موجودہ فیصلہ بھی جےآئی ٹی کی اس تحقیق وتفتیش کے بعد ہوا ہے کہ مشال خان کے خلاف توہین کا ثبوت نہیں ملا۔ پھر اس کو ماننے سے کیوں احتراز کیا جا رہا ہے؟ ہم فرض کر لیتے ہیں مشال خان ان کے بقول توہین کے مرتکب ہوئے تھے تو اُس کا ماورائے عدالت قتل کیا اِس سے جائز ہو جاتا ہے؟)۔

اس کے ساتھ عوام یہ بھی پوچھتے ہیں کہ یہ ٹرائل بہت تیز رفتاری سے کیا گیا اور FIA کی مشال ID پر رپورٹ کا انتظار بھی نہیں کیا گیاتو ہم یہ پوچھتے ہیں کہ مردان میں عرفان نامی ایک فرد نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا علماء نے اسے لوگوں سے بچاکر قانون کے حوالے کیا، اس پر295-سی کے تحت پرچہ درج ہوا تو بتایا جائے عرفاں کا مقدمہ کہاں پہنچا؟ اس کا فٰیصلہ آجانا چاہیے۔ اسی طرح ممتاز قادری کو تو پھانسی مل گئی لیکن آسیہ مسیح کا مقدمہ، جو ممتاز قادری مقدمے کی بنیاد تھا، اس کا فٰیصلہ ابھی تک نہیں آیا۔ اسی طرح چترال میں بھی ایک بندے نے نبوت کا دعویٰ کیا تو خطیب صاحب نے اسے لوگوں سے بچایا، پولیس کے سپرد کیا، اس پر مقدمہ درج ہوا لیکن ابھی تک اس پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ (یہ ایک جائز نکتہ ہے یقیناً ان مقدمات کو جلدازجلد منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے لیکن اس تاخیر میں سازش ڈھونڈنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمارے عدالتی نظام کی ساخت ہی ایسی ہےاس میں مقدمات کا فیصلہ ہونے میں دہائیاں گزر جاتی ہیں۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل مرتب کرلینا چاہیے)۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ( نہیں صرف جسٹس) نے یہ بات ریکارڈ پر کہی ہے کہ اگرتوہین مذہب و رسالت کے مجرمان کو سزائیں نہیں ملتیں اور ان کے کیسوں کافیصلہ عدالتوں نے نہیں کیا توپاکستان کے غیرت مند مسلمان قانون کوہاتھ میں لیں گے تو اگر آپ کہتےہیں کہ کوئی قانون ہاتھ میں نہ لے، ہم اس کو justify نہیں کرتے، ہم کہتے ہیں قانون کو ہاتھ میں نہ لیں لیکن چیف جسٹس شوکت صدیقی کہتے ہیں کہ اگر عدالتیں اس قسم کی کیسوں کاتیز رفتاری سے فیصلے نہیں کرتیں تو پھر لوگ مایوس ہو کر قانون ہاتھ میں لینا شروع کردیں گے۔ ( اگر عدالتیں توہین رسالت کے ملزمان کو، چاہے عدم ثبوت یا ناکافی شہادتوں یا کسی اور وجہ سے، سزا نہ دے سکیں تو کیا لوگوں کو مایوس ہو جانے اور قانون ہاتھ میں لینے کا جواز مل جاتا ہے؟)۔

پاکستان کی تاریخ میں توہین رسالت کے قانون کے تحت ابھی تک کسی ایک فرد کو بھی سزانہیں ہوئی ہے، یہ بھی ایک بہت بڑا question mark اور بہت بڑا سوال ہے۔

مردان کے عوام پوچھتے ہیں کہ یہاں اور بھی کئی واقعات اور ظلم ہوئے ہیں لیکن ان واقعات میں مظلوموں کے رشتہ داروں اور والدین کونہ امریکہ نے ویزے دئیے نہ برطانیہ نے۔ تو مشال کا والد آج برطانیہ میں کیوں بیٹھا ہے، ملالہ کے پہلو میں کیوں کھڑا ہے، اس کو کیوں ویزہ ملاہے؟ (بہ الفاظ دیگر مطلب یہ کہ ”چونکہ ملالہ اورمشال خان کے والد کو امریکہ و برطانیہ ویزہ دے چکے ہیں تو ”ثابت“ ہو گیا کہ یہ ان ”اسلام دشمنوں“ کے ساتھی ہیں۔ پہلے ملالہ کا ”ڈرامہ“ کرکے اسلام کوبدنام کیا گیا، پھر مشال خان کی ”توہین رسالت“ کے پیچھے بھی یہی بیرونی سازش تھی اور اب اپنے ”چہیتے“کے قاتلوں کو یہی قوتیں سزا دلوانا چاہتی ہیں اور ان کے والد کو بھی نواز رہی ہیں جبکہ ”بدقسمتی سے ہمارے حکمران اس سازش کو سمجھتے نہیں یا پھر دیدہ و دانستہ غیروں کے آلہ کار اور غلام بن گئے ہیں“)۔

یہ اگرکوئی اچھاکام ہواہے تو کسی اسلامی ملک کو اسے ویزہ دینا چاہیے تھا یااسے مدینہ منورہ یامکہ معظمہ چلا جانا چاہیے تھا۔ یہ وہ سوالات ہیں جو مردان کے عوام پوچھتے ہیں لہذا ہم جماعت اسلامی جو متحدہ دینی محاذ اور مردان متحدہ کونسل کا بھی حصہ ہیں۔ اس کے تحت پچھلے دنوں ہزاروں لوگوں کاایک زبردست مظاہرہ ہوا ہے اس مظاہرہ میں لوگوں نے نعرے لگائے ہیں کہ توہین رسالت کی سزا پر عمل در آمد درکار ہے (لیکن سزا پر عمل درآمد سے پہلے جرم عدالت میں ثابت کرنا کیا ضروری ہے یا نہیں؟) اور لوگ یہ نعرے لگاتے ہیں کہ اس (مشال خان) نے گستاخی کی تھی، توہین کی تھی تو ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی اتنی بڑی گواہی اور مردان کے لوگوں کے اتنےبڑے بیانات اور اس پہلوکو بھی عدالت کو زیر غور لانا چاہیے تھا (ڈاکٹر صاحب شاید گواہی سے متعلق اسلام کی کڑی شرائط سے بے خبر نہیں ہوں گے۔ جن ہزاروں لوگوں کی گواہی کو ماننے کی بات کی جارہی ہے ان میں سے کتنے موقع کے گواہ تھے؟ کیا وہ عدالت میں گواہی دینے گئے تھے؟ اور اگر جلسوں میں ہزاروں لوگوں کی گواہی کسی کے گناہگار ہونے کا ثبوت ہے تو پھر کل اگر اس سےزیادہ لوگ باہر نکل کر اسکی بے گناہی کی دہائی دیں تو وہ بے گناہ کیوں نہ سمجھا جائے؟)

تو ہم ( ان حالات میں) توہین رسالت کے قانون پر کسی کو بھی حملے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان کا بھی قانون ہے اور شریعت کا بھی۔ پاکستان مسلم اکثریت کا ملک ہے اس میں عدالت اور قانون کسی کو یہ موقع نہیں دے سکتے کہ وہ توہین رسالت کرے۔ اس لیے ہم مردان کے عوام کو سنا جائے اور ان (باتوں) پر عدالتیں قانون کے راستے سے غور کریں کہ اس (مبینہ توہین رسالت یا قتل)کا motive کیا تھا اور وجوہات کیاتھیں؟ تو یہ پریس کانفرنس اس مقصد کے لیے تھی کہ جماعت اسلامی، اس کی ضلعی قیادت اور ہمارے دیگر ساتھی متحدہ دینی محاذ کو ہم ساتھ لیں گے۔اور ان کا یہ اعلان ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اوپن ٹرائل ہو۔ مردان میں جلوس میں لوگوں نے یہ چاہا کہ اوپن ٹرائل ہو لوگوں کے سامنے۔ جو لوگ اوپن ٹرائل کی بات کرتے ہیں وہ کسی ماٶرائے عدالت اقدام کی تعریف تو نہیں کرتے۔ ہم عدالت کو مانتےہیں اس لیے اوپن ٹرائل کی بات کرتے ہیں لیکن اس فیصلے میں سقم ہے، کمزوری ہے۔ یہ سزائیں جو دی گئی ہیں غلط دی گئی ہیں۔ یہ ہم نہیں وکلاء کہتے ہیں۔ ہمارا فیصلہ ہے ہم follow کریں گے۔ اگر دوسری طرف اور لوگ ان 26افراد کی رہائی کے خلاف عدالت جاتے ہیں تو ہم ان لوگوں کےلیے، جن کو سزائیں ملی ہیں، کی سزاٶں کےخلاف عدالت میں جائیں گے کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں، اس میں بہت سی باتیں نظر انداز کی گئی ہیں۔

اس بات کا ہم اعلان کرتےہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ ہمارا ہر کام قانون اور شریعت کے دائرے میں ہوگا۔

مجھ سے کسی نے پوچھا تھا کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر؟ میں نے کہا ممتاز قادری کےجنازے نےثابت کردیا کہ ممتاز قادری ٹھیک تھا جبکہ اس کےمخالفین ٹھیک نہیں تھے۔ پاکستان کے لوگوں کی (توہین رسالت پر قتل کے مقدمات میں سزایافتہ ملزمان جیسے ممتاز قادری) کے جنازوں میں بھرپور شرکت نے ثابت کردیا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ (تو کیا اب حق اور باطل کا پیمانہ نہ دلیل ہے اور نہ روایت و درایت بلکہ بہت بڑا جنازہ ہی کسی کے حق پر ہونے اور چھوٹا جنازہ باطل پر ہونے کا ثبوت ہے؟) اسی طرح ختم نبوت مسئلہ پر جب پارلیمان میں ڈاکہ ڈالا گیا تو لوگ بڑی تعداد میں باہر نکلے اور حکومت اور پارلیمان مجبور ہو گئے کہ خصوصی اجلاس بلایا اور قانون بحال کردیا۔

لیکن ہم اس کے ساتھ یہ بات بھی کرتے ہیں کہ یہ جو قانون والے ہیں (کیا روئے سخن عدلیہ کی طرف ہے؟) وہ پاکستان کے نظریہ کا کتنا تحفظ کرتے ہیں۔ ہمارے جو یہ حکمران ہیں انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق کون سا اسلام نافذ کیا ہے اور اسلامی دفعات کا کتنا تحفظ کیا ہے؟ یہ بھی ہمار حق ہے کہ ہم سوال کریں۔ ان شاءاللہ توہین رسالت کے قانون کے تحفظ کے لیے ہم بھرپور طریقے سے کھڑے رہیں گے، کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہم حضور ؐ کی شان، ناموس اور اپنے مذہب پر غیرت کرنے والے مسلمان ہیں۔ ہم قانون کی بات بھی کرتے ہیں اور یہ بات بھی جذبے اور غیرت سے کرتے ہیں کہ اپنے پیغمبر کی شان میں کوئی بھی گستاخی کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ اور یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا یہ نعرہ ہے کہ گستاخ رسول کی ایک سزا سر تن سے جدا۔ سر تن سے جدا پر ہم کہتے ہیں کہ عدالت اس کا سر تن سے جدا کرے گی، عدالت فیصلہ کرے گی کیونکہ یہ تو ہمارے ملک کا قانون ہے جس طرح آپ ایک عام قتل میں سزا دیتے ہیں تو جس بندے نے توہین مذہب کیا اس کی سزا شریعت میں سر تن سےجدا اور پاکستانی قانون میں بھی موت ہے۔

یہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہم آنے والی جو اپیل کررہے ہیں عدالت ان تمام باتوں کو مدنظر رکھے۔(اگر عدالت کو ہی فیصلہ کرنا ہے اور ماٶرائے عدالت قتل جرم ہے تو پھر اس کے مرتکب افراد کے حق میں اور انکی رہائی کے لیے مہم کیوں چلائی جا رہی ہے؟ کیایہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ مشال پر توہین رسالت کا الزام تھا اور عدالتی نظام اس کے کسی مرتکب کو سزا دینے سے رہا تو ایسے فرد کو ماٶرائے عدالت قتل کرنےوالے افراد سزا کے نہیں بلکہ انعام و اکرام کے مستحق ہیں؟ اگر یہ تاثر غلط ہے تو پھر ان کو غازی اور ہیرو بنا کر اور ان کی رہائی کے لیے مہم چلاکر کیا دوسروں کو بھی ماورائے عدالت ایکشن کی ترغیب نہیں دی جارہی؟)“۔

انٹرویو کا لنک یہ ہے
https://www.facebook.com/Laborsnewskatlang/videos/2059179907661777/

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •