عاصمہ جہانگیر کی زندگی، مقاصد اور کام پر ایک نظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2002ء میں وفات پانے والے ڈاکٹر فقیرحسین ساگا علمِ حیوانات کے استاد تھے مگر دنیا میں ایک بہترین رقاص کے طور پر زیادہ جانے گئے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ رقص کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوں اور ایسا ہی ہوا۔ ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے اس وقت ہوا جب وہ ایک سٹیج پر فارمنس دے رہے تھے۔ یہ خواہش اپنے کام سے عشق رکھنے والے کئی لوگوں نے کی ہوگی۔ عاصمہ جہانگیر کا انتقال بھی اپنے محاذ پر ہوا۔ جس وقت دل کا دورہ پڑا وہ دوسروں کے حقوق کی وکالت کے ضمن میں ساتھی اعظم تارڑکو ٹیلی فون پر ہدایات دے رہی تھیں۔

زیادہ قریب سے جاننے والے لوگ۔ جن کی تعداد ہزاروں میں ہو گی۔ وہ ان کی زندگی میں ہی واقف تھے لیکن ان کے جانے کے بعد ذرائع ابلاغ کے توسط سے بہت سے لوگ جان گئے کہ زندگی کیا۔ ایک کڑا امتحان تھا جسے انہوں نے 66 برس زندگی میں پاس کیا۔ اس امتحان کے پرچے اور اس کا کڑا پن بیشتر اوقات عاصمہ جہانگیر نے خود منتخب کیے۔ ان کی پہلی قانونی جنگ (عاصمہ جیلانی بنام سرکار) کے محرکات بے شک یحییٰ خان کے مارشل لاء کے دوران ان کے والد کی گرفتاری یا بالفاظ دیگر خارجی ہوں گے لیکن عورتوں، بچوں، اقلیتو ں اور پسماندہ قومیتوں، چھوٹے صوبوں کے حقوق، جبری گمشدگیو ں اور اہانتِ دین(تکفیر) کے جھوٹے الزامات کی سختیاں برداشت کرنے والے لوگو ں کے دفاع میں لڑے گئے مقدمے تو سب ان کا اپنا چناؤ تھا۔ عدالتوں میں اور عدالتوں سے باہر امتیازی قوانین کے خلاف رائے عامہ کی بیدداری، میراتھن ریس میں عورتوں کی شمولیت پر پابندی کی سول نافرمانی(2005ء) تو آزاد فیصلے تھے۔ شہری آزادیو ں پر قد غن اور آئین کے عمرانی معاہدے میں درج معیارات کی پا مالی کے خلاف صف آراء ہونا تو ایک شعوری انتخاب تھا۔

خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی معاشی اور سماجی حیثیت کے طفیل ایک آسودہ زندگی گزار سکتے ہوں اور تن آسانیوں کی قربانی دینے کی ہمت کریں ان کے جذبے کے پیچھے عوامل سے اغماض کیسے ہو سکتا ہے۔ آج جب ان کی پہلو دارشخصیت پر ذرائع ابلاغ معلومات اور تبصرے نشر کرچکے ہیں تو حقائق کا آئینہ روبرو ہے۔ صرف ایک چشم وا یہ بات وا ضح کر دے گی کہ اس ابتری کے دور میں بھی عاصمہ جہانگیر نے سماجی رو یے اور انسانی احساس کے کچھ معیارات مقرر کر دیے ہیں۔ احساسِ ذمہ داری سے آشنا شہری، حقوق اور ذمہ داریوں کے حوالے سے کن حدود کا خیال رکھیں۔ کس حد کو پار کرناجائز ہے، کہاں کھڑے رہنا اور کہاں بیٹھ جانا ہے۔ ان کی زندگی کے تجربات اس سلسلہ میں آنے والے قافلوں اور مسافروں کی راہنمائی کر سکتے ہیں کیونکہ عاصمہ نے زندگی کے امتحانوں میں جو اصول اور اسلوب اپنائے ان سے انسانی حقوق کی جدوجہد کے کچھ واضح خطوط کھنچ گئے ہیں۔

1۔ انسانی حقوق کی تحریکیں اور سیاسی جمہوری عمل بین بین چلتے ہیں۔ لیکن سول سوسائٹی کے وہ لوگ جو اپنے شعبہ کواپنی ترجیح بنائیں انہیں یہ شعوری فیصلہ کرنا پڑے گا کہ سیاسی غیر جانبداری کو اپنی شناخت بنائیں۔ سیاسی روابط کو اپنے کام کے لئے رکاوٹ نہ بننے دیں۔ انسانی حقوق کی تحریک کی غیر جانبدارانہ پہچان ایک اثاثہ ہے۔ اس کی اپنی زمین اور وسعت ہے۔ عاصمہ جہانگیر اور قبیلٔہ کل کے استاد آئی اے رحمان نے روزنامہ ڈان میں اپنے مضمون میں اس یاد کو تازہ کیاجب کئی سال پہلے ڈاکٹر مبشر حسن نے عاصمہ جہانگیر کو سیاسی قیادت اور سیاسی جماعت بنانے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر عاصمہ اور ان کے ساتھی تیار نہ ہوئے۔

عاصمہ جہانگیر کے جانشینوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ 2006ء میں افراسیاب خٹک نے جب عوامی نیشنل پارٹی کی عملی سیا ست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے کر ایسا کیا۔ سابق سینیٹر اقبال حیدر نے کمیشن کا چیئر مین بننے سے پہلے پیپلز پارٹی کو خیر باد کہا۔ وکلاء کا فرینڈزگروپ جس کی قیادت عاصمہ جہانگیر کرتی تھیں وہ کسی سیاسی جماعت کا حاشیہ بردارنہیں تھا۔

2۔ پاکستان کے سیاق و سباق میں جہاں سماجی، سیاسی اور ریاستی اداروں کا زوال ایک رجحان بن چکا ہے۔ اس میں ادارہ سازی ایک الگ فن ہے۔ اس کے لئے ذاتی خوبیوں جن میں نظم و نسق کی صلاحیت، نوشتہ دیوار پڑھنا، وقت کی پابندی اور خوداعتمادی کے ساتھ دوسروں پر، اپنی ٹیم پر اعتماد ایک لازمی شرط ہے۔ مگر ساتھ ساتھ اداروں کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ایمانداری سے اپنی رائے بیان کرنا، پرفارمنس کے سوال پر حقیقت پسندانہ جائزہ لینا اور سخت فیصلے کرنے کی جرأت کے نمونے عاصمہ کی تنظیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ تھے۔ اس کے علاوہ اپنے ساتھیوں سے فیاضی اور پیار کا سلوک بھی مستقل نظر آتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر اور ان کی شریک قیادت نے جہاں اس بات کا خیال رکھا کہ ان کے اردگردکام کرنے والے لوگ کبھی شخصی توجہ کے متقاضی ہیں تو دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ محبت میں ایک پیمانہ اور رتبہ سب کے لئے ہو۔

3۔ انسانی حقوق کی تنظیموں پر وقتاًفوقتاً یہ آزمائش آتی رہتی ہے کہ وہ آئیڈیلزم اور عملیت پسندی میں کسی ایک کا انتخاب کریں یا ان دونوں میں کسی طرح توازن برقرار رکھیں۔ عاصمہ جہانگیر کے ہاں ایک توازن دیکھنے کو ملا انہوں نے آئیڈیلزم کو فکری اور عملیت پسندی کو عمل میں اہمیت دی۔ مثلاً انہیں اس بات کا احساس تھا کہ ان کا بیان عام پاکستانیوں کے لئے ہے۔ اس لئے وہ اپنی زبان میں مقامی محاوروں اور علامتوں کا اکثر استعمال کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کو اتفاق یا اختلاف ہو ان کی بات سب کو سمجھ آ جاتی تھی کہ وہ کیاکہنا چاہ رہی ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی لفظ اردو زبان میں موجود نہیں تو انگلش الفاظ استعمال کرنے سے ہچکچائیں بھی نہیں۔ ایک اور مثال موضوعات کے چناؤ کی ہے۔ عاصمہ کے لئے ہر قسم کے حق اہمیت رکھتے تھے۔ لیکن جس وقت مشکل موضوع پر بات کر نی پڑی اس سے فرار نہیں چاہا۔

4۔ انسانی حقوق کی تحریکو ں، اقدامات اور حکمت عملی میں الحاق کی بہت اہمیت ہے۔ اپنے ہم خیالوں کے ساتھ الحاق اورمخالف نکتہ نظر کے ساتھ مکالمہ کیاگیا۔ ایم کیو ایم اور قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی کے ساتھ فکری اختلاف کے باوجود مشکل وقت میں ان کی مدد سے گر یز نہیں کیا۔ جس قدر کمزور طبقات کی مظلو میت کی تصویر کشی ضروری ہے اتنا ہی یہ ضروری ہے کہ انصاف اور سچ کی راہ میں اپنے آپ کو کمزور سمجھنے کی غلطی کبھی نہ کی جائے۔

5۔ بعض مرتبہ لوگو ں کویہ غلط فہمی بھی ہوئی کہ عاصمہ جہانگیرخطروں کی کھلاڑی بن کر شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن شواہد کچھ اورکہتے ہیں۔ پہلی دلیل تو یہ ہے کہ اندریں حالات ہیرو بننے کی خواہش بالذات نہیں ہو سکتی۔ اگرہیر وشپ سے آگے کوئی مقاصد یا ارادے تھے تو عاصمہ کی زندگی میں اس کے شواہد نہیں ملتے۔ جو کچھ وہ کر سکیں وہی کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ انہوں نے بہادری، قانونی جدوجہد میں دکھائی لیکن جہاں اپنے آپ کو کسی خطرے سے محفوظ رکھنے کا سوال آیا وہاں پر جامِ شہادت نوش کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنی زندگی کو محفوظ رکھنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔

2006ء میں جب بلوچستان کے دورے پر نکلیں تو کوئی قافلہ نہیں بنایا، ہجوم اکٹھا نہیں کیا، ملتان اور راجن پور کے راستے ایک ٹیکسی میں جانا مناسب خیال کیا۔ جب بلوچستان کی سرحد پر انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو کوئی ایڈونچر کرنے کی خواہش نہیں کی۔

6۔ عاصمہ کے اسلوب ِ زندگی سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے۔ کہ پیشہ ورانہ ذمہ داری جو مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ انسا نیت کی خدمت کے ساتھ چل سکتی ہے۔ انسان اگر ایسے پیشے سے منسلک ہوں جس میں اسے دوسروں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا براہ راست موقع ملتا ہو تو اس سے بڑی خدمت یا عبادت یاخوشی کی بات کیا ہو گی۔ لیکن انسانی حقوق کی خدمت راتوں رات امیر ہونے کا ذریعہ صرف اس وقت بن سکتی ہے اگر امیر بننا ہی زندگی کامقصد ہو۔

7۔ سماجی بھلائی کے جذبے اور سماجی خدمت کی وجہ سے نیک نامی مل سکتی ہے(اور بدنامی بھی) لیکن اعلیٰ مقصد حیات اور شہرت میں تصادم کی صورت آ جائے تو اس آزمائش کو مقصد کے حق میں حل کر لیا جائے۔ ذاتی نیک نامی کو کمزوروں کے حقوق کی ڈھال بنایا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ ذاتی منفعت پرستی اور شہرت انسانی حقوق کے کام کا مقصد نہیں ہو سکتا۔ عاصمہ جہانگیر اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے وفد کا حصہ تھیں جنہوں نے امریکہ کی گوانتانامو جیل کا تحقیقاتی دورہ کیا اور اپنی رپوررٹ میں وہاں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر امریکی حکومت کو شدید تنقید کا نشانا بنایا۔ صرف یہی کیا درجنوں ملکوں کے دورے کئے۔ ان کے دو ٹوک، جاندار اور منطقی استدلال کے باعث کسی بھی ملک کو ا ن کے کام کرنے کے حوالے سے تنقید کی جرأت نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سول سوسائٹی اور غیر جانبدار حلقوں کی طرف سے ان کے مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ لیکن اپنے ملک میں اپنے بین الاقوامی مرتبہ کے حوالہ سے کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کیانہ کسی سرکاری عہدہ کی خواہش کی۔ وہ دنیا کی واحد شخصیت تھیں جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصر کے تین عہدوں پر کام کیا۔ پہلے ماورائے عدالت قتل، و غیرہ، پھر مذہبی آزادی اور آخر میں ایران پر خصوصی مبصر مقرر کی گئیں۔

انسانی حقوق کے فعال کارکن جنہیں حسین نقی انسانی حقوق کے محا فظین بھی کہتے ہیں محا فظین کی تعریف حنا جیلانی یوں بیان کرتی ہیں کہ وہ شخص جسے کسی بھی انسان کے ساتھ ہونے والی زیادتی و نا انصافی کا پتہ چلے اور وہ تمام صلاحتیوں اورقانونی ذرائع کو استعمال کر کے نا انصافی کا ازالہ کروانے کے لئے جت جائے و ہ انسانی حقوق کا محافظ کہلائے گا/گی۔

انسانی حقوق کی محافظ عاصمہ جہانگیر نے اپنی تمام صلاحتیو ں کے ساتھ حکمت عملی کے جو انداز اختیارکیے ان میں کئی اصول طے ہوئے۔ انسانی حقوق کے احترام کی عَلم بردار وں اور دنیا بھر کے فہمید ہ لوگوں کی حمایت وتائید حاصل ہوئی۔

ان اصولوں کی پاسداری ایک طرز عمل ہے بلکہ طرز حیات۔ عاصمہ جہانگیر کا چھوڑاہوا یہ اثاثہ ان کے خاندان، وسیع حلقۂ احباب اور شر یک سفر ساتھیوں بلکہ بعد میں آنے والے ان لوگوں کے لئے بھی مشعل راہ ہو گاجو انسا نیت کی تکریم، سماجی انصاف اور انسانی خوشی کے چراغ روشن رکھنے کا عزم کریں گے۔

اس سیریز کے دیگر حصےدعا کی طالب عاصمہ جہانگیر کے جنازے کا آنکھوں دیکھا حال
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •