چوتھے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چوتھے جولاہے نے بات شروع کی۔
یہ بات ماننی ہو گی کہ میرے یہ تینوں ساتھی واقعی نہایت ذہین ہیں اور اپنے سسرال میں اپنی عزت بچانے کی خاطر انہوں نے خوب عقل لڑائی ہے۔ لیکن میرا قصہ سن کر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ تینوں میرے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔

جب میں اپنے سسرال کی طرف چلا تو ساتھ دینے کے لئے گاؤں کے نائی کو بھی ساتھ لے لیا۔ ہم دونوں گھوڑے مانگ کر ان پر سوار ہوئے اور ساتھ ساتھ میری بیوی ڈولی میں بیٹھ کر چلی۔ جب ہم میرے سسرال پہنچے تو ہمارا پرتپاک استقبال ہوا۔

میرے سسر نے ہمیں عزت سے بٹھایا اور میری ساس نے کھانا پروسا۔ لیکن میری ماں نے مجھے سختی سے حکم دیا تھا کہ میں ایک عزت دار داماد کی طرح تمیز سے رہوں اور کم سے کم کھانا کھاؤں۔ سب نے مجھے کھانے کے لئے کہا لیکن میں نے یہی جواب دیا کہ آپ کھائیں میں ایک دو نوالے کھا کر آپ کا ساتھ دوں گا۔

نائی نے خوب دل کھول کر ابلے ہوئے چاول کھائے جو خاص ہمارے اعزاز میں پکائے گئے تھے۔ میری ساس نے کہا کہ ”داماد جی آپ کیوں نہیں کھا رہے ہیں۔ آئیں کھانا بہت مزیدار ہے۔ “
میں نے جواب دیا ”مجھے بھوک نہیں ہے“۔
کھانا ختم ہوا اور رکابیاں ہٹا لی گئیں۔ میری پلیٹ ان چھوئی پڑی تھی، اسے الگ سے ڈھانپ کر رکھ دیا گیا۔ گرمی کے دن تھے، سونے کا وقت ہوا تو سب گھر والوں کا بستر صحن میں لگایا گیا اور میرا اور نائی کا چھت پر۔

جب ہم چھت پر لیٹ گئے تو نائی نے پوچھا ”تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا تھا؟ “
”مجھے تب بھی بھوک لگی ہوئی تھی اور اب تو بھوک سے میری جان نکل رہی ہے۔ جاؤ ان کو کہو کہ میرا کھانا یہاں بھیج دیں“ میں نے جواب دیا۔
نائی کو میری عزت کا بہت خیال تھا۔ کہنے لگا ”اس طرح مانگتے ہوئے اچھا نہیں لگتا۔ پہلے دیکھتے ہیں اگر یہ ان گھروں میں سے ہے جہاں باورچی خانے کی چھت میں سوراخ کر کے دھواں اور گرمی نکالنے کا راستہ بناتے ہیں۔ ایسا ہوا تو میں تمہیں اس چارپائی سے رسی نکال کر اس کی مدد سے نیچے اتار دوں گا اور تم باورچی خانے میں سے کھانا چوری کر کے لے آنا“۔

تجویز معقول تھی۔ ہم نے دیکھا تو خوش قسمتی سے باورچی خانے کی چھت میں سوراخ موجود تھا۔ نائی نے میری کمر سے رسی باندھی اور مجھے نیچے اتار دیا۔ مجھے کھانا اوپر الماری میں رکھا ملا اور میں نے پیٹ بھر کر کھا لیا۔ اس کے بعد میں نے اوپر موجود نائی کو سرگوشی کی کی مجھے اوپر کھینچ لے لیکن وہ نیند کا مارا سو گیا تھا۔ میں نے کئی مرتبہ اسے جگانے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔

اب خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کوئی مہمان گھر میں آ گیا۔ میری ساس نے میری بیوی کو کہا کہ ”باورچی خانے میں جاؤ اور جو چاولوں کی پلیٹ الماری پر رکھی ہے، وہ مہمان کو لا کر دے دو۔ “

میری بیوی نے باورچی خانے کا دروازہ کھولا اور اندر آ کر الماری تلاش کرنے لگی۔ اندھیرے میں اس کا ہاتھ میرے ہاتھ سے ٹکرا گیا۔ وہ ڈر کر باہر بھاگی اور چیخنے لگی ”اندر بھوت ہے“۔ یہ سن کر میری ساس نے دروازہ باہر سے بند کر دیا اور کنڈی لگا دی۔

شور سن کر نائی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے نیچے جھانک کر پوچھا ”کیا ہوا؟ کیا تم واپس اوپر آنا چاہتے ہو؟ “
میں نے اس کی منت خوشامد کی کہ مجھے فوراً اوپر کھینچ لے۔
اس نے کہا کہ ”میں تمہیں اس شرط پر اوپر کھینچوں گا اگر تم آٹے کا ایک کنستر بھی اٹھا کر لاؤ گے اور مجھے دو گے“۔
مرتا کیا نہ کرتا میں نے ایک چھوٹا سا کنستر اٹھایا اور نائی نے مجھے اوپر کھینچ لیا۔

اسی اثنا میں میرے سسر نے گاؤں کے مولوی صاحب کو بھی بلا لیا تھا۔ کالے کپڑوں میں ملبوس مولوی صاحب دروازے کے باہر بیٹھے اور کہنے لگے ”کچھ بھوت کالے ہوتے ہیں اور کچھ سفید۔ کالے بھوت آسانی سے قابو آ جاتے ہیں مگر تمہارے گھر میں ایک بدمعاش قسم کا سفید بھوت ہے اور اس سے لڑنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ تم مجھے اس بھوت کو نکالنے کے کتنے پیسے دو گے؟

”یہ لیں پانچ اشرفیاں“ میرے سسر نے مولوی صاحب کو پیسے پکڑائے۔
مولوی صاحب بولے ”ٹھیک ہے۔ میں اسے باہر نکال دوں گا مگر اسے مار ڈالنا ضروری ہے۔ تم سب ڈنڈے پکڑ کر کھڑے ہو، میں ان پر دم کر دیتا ہوں، جب سفید بھوت نکل کر باہر بھاگے تو اسے ڈنڈوں سے مار ڈالنا۔ وہ جو مرضی کہے اسے چھوڑنا مت ورنہ وہ تمہیں مار ڈالے گا“۔

مولوی صاحب نے یہ کہہ کر دروازہ کھولا اور تاریک باورچی خانے میں داخل ہوئے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ان کو جن بھوت کے متعلق کچھ علم نہیں تھا۔ اوپر چھت کے سوراخ سے چاندنی چھلک کر اندر پڑی ایک سفید چادر پر گر رہی تھی۔ مولوی صاحب کے اسے دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے کہ یہ تو سچ مچ کا اصلی سفید بھوت ہے۔ وہ ڈر کر اپنی جگہ پر جم گئے اور تھر تھر کانپنے لگے۔

اوپر چھت سے نائی نیچے جھانک کر سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔ وہ تھا بلا کا شیطان۔ اس نے آٹے کا کنستر اٹھایا اور نیچے موجود مولوی صاحب پر سارا آٹا انڈیل دیا۔ مولوی صاحب سر سے پاؤں تک آٹے سے سفید ہو گئے اور دھول سے ان کا دم گھٹنے لگا۔ انہیں لگا کہ انہیں بھوت چمٹ گیا ہے۔ وہ ہوش کھو کر منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالتے باہر بھاگے۔

باہر میرے سسرال والے دم کیے ہوئے ڈنڈے تھامے تیار کھڑے تھے کہ مولوی صاحب سے ڈر کر سفید بھوت آئے گا تو اسے ماریں گے۔
مولوی صاحب باہر نکل کر چیخے ”مارنا مت، میں مولوی صاحب ہوں“۔
”نہیں تم سفید بھوت ہو۔ مولوی صاحب کے کپڑے تو کالے تھے۔ “ یہ کہہ کر سب نے مولوی صاحب پر ڈنڈے برسا دیے اور لاش کو دیوار سے باہر پھینک دیا۔ اس کے بعد سب سکون کی نیند سو گئے۔

گاؤں والے صبح سب اٹھے تو دن کی روشنی میں دیکھا کہ مولوی صاحب کی لاش پڑی ہوئی ہے۔ میرے سسر اور اس کے ساتھیوں کو داروغہ پکڑ کر لے گیا۔ سب کو خوب مار پڑی اور بھاری جرمانہ ہوا۔ لیکن شکر ہے کہ میری عزت بچ گئی اور میں آرام سے اپنے گھر آ گیا۔

چوتھے جولاہے نے قصہ ختم کرتے ہوئے مسافر کو کہا ”اب آپ خود ہی دیکھ لیں۔ کیا آپ یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ میں سب سے زیادہ عقلمند ہوں۔ نہ صرف یہ کہ میں اپنے سسرال میں کھانا کھانے کی بے عزتی سے بچ گیا بلکہ میری مصیبت مولوی صاحب کے سر پر آئی۔ آپ کے ان چار پیسوں کا حقدار میرے علاوہ کون دوسرا ہو سکتا ہے؟ “

مسافر خوب ہنسا۔ کہنے لگا ”واقعی تم میں سے کوئی بھی بزرجمہر سے کم عقلمند نہیں ہے۔ میں نے یہ چار پیسے تم چاروں میں برابر بانٹنے کے لئے دیے تھے۔ لیکن اب تمہاری عقلمندی کی کہانیاں سن کر میں تم میں سے ہر ایک کو چار پیسے دوں گا۔ “ یہ کہہ کر اس نے چاروں جولاہوں کو چار چار پیسے دیے اور اپنی راہ چلا گیا۔

اپنی عقلمندی سے سسرال میں عزت بچانے والے چار جولاہوں کا قصہ ختم ہوا۔ سبق یہ حاصل ہوا کہ آدمی کی عزت اسی میں ہے کہ اپنی خامی کو چھپا کر رکھے، اسے سامنے لائے گا تو خوب بے عزتی ہو گی۔ سامنے لے آیا تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ اس خامی کا علاج کر کے اسے ختم کر دیا جائے گا؟ مگر ذی شعور لوگ جانتے ہیں کہ خامی دور کرنا اہم نہیں ہے، خامی کو چھپا کر عزت بچانا اہم ہے خواہ اس کے لئے کوئی قیمت بھی کیوں نہ چکانی پڑے۔

ہم پاکستانی بھی ان چار جولاہوں کی پیروی کرتے ہیں۔ عزت بچانے کے نام پر ظلم زیادتی کو روکنے کی بجائے ظلم چھپا کر ظالم کی مدد کرتے ہیں اور خود کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

اس سیریز کے دیگر حصےتیسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1199 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar