فطرت سے دوری میں عظمت کیسی!


وہ کئی سالوں سے امریکا میں مقیم ہیں۔ جواں سال، وجیہہ، نہایت قابل اور محنتی۔ بخیے ادھیڑ کر سینے کے لیے تیار ہیں، مگر شادی کرنے سے ہمیشہ انکار کر دیتے ہیں۔ اپنی اس خوبی کی وجہ سے وہ خاندان میں بدلی ہوئی سوچ کے حامل ٹھہرا کر عظیم فرد قرار دیے جاتے ہیں۔

ایک اور صاحب ہیں، یہیں پاکستان میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنی اٹھائیس سالہ ازدواجی زندگی سے ذرا سا بھی عرق کشید نہیں کیا، سوائے تین بچوں کے۔ ان کی بیگم ابتدا سے ہی سنگین نفسیاتی عوارض میں مبتلا تھیں جو کہ اب انتہائی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان صاحب کی دوسری شادی کے لیے جس نے بھی آواز بلند کی وہ معتوب ٹھہرایا گیا۔ نکاح ثانیہ کا گناہ بھلا ایک مہذب خاندان میں کیوں کر سرزد ہو سکتا تھا۔ آج وہ صاحب ایک بیمار عورت سے ساری زندگی نباہ کرنے کے باعث اپنے خاندان میں ایک مثالی مرد کہلاتے ہیں اور خود بھی فخر سے سر اٹھا کر چلتے ہیں۔

ایک واقعہ اور سنیے! میری ایک دوست اور اس کے شوہر کے درمیان نکاح کا بندھن سارے بند توڑنے کے لیے کئی سالوں سے زور زور لگا رہے ہیں، روز کی توتکار سے چاروں بچے تو کیا پورا محلہ ہی پریشان ہے۔ اکثر وہ دونوں اللہ کی عطا کرہ اجازت کو مد نظر رکھتے ہوئے، ٹھنڈے دل ودماغ سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یکایک گھر کے کسی کونے سے سہیلی کی بوڑھی ساس وارد ہوتی ہیں اور وہ اپنی چادر سر سے اتار کر بیٹے کے پیروں میں ڈال کر کہتی ہیں، بیٹا! میرے سفید بالوں کی لاج رکھ لے، ہماری عزت کا کچھ تو خیال کر۔ اور پھر بیٹا مجبور ہو کر فیصلہ واپس لے لیتا ہے مگر وہ دونوں روز اسی طرح لڑتے ہیں اور بوڑھے ماں باپ اپنی عزت کو چار چاند لگتا دیکھ کر چین سے سوتے ہیں۔

نصیب دیکھیے! پڑوس میں مقیم ایک لڑکی کو شادی کے دو سال بعد ہی طلاق ہو گئی، وہ سال بھر کی بچی گود میں لیے میکے کی دہلیز پر لوٹ آئی۔ جب اس کے نکاح ثانیہ کا ذکر آتا ہے، تو سب اسے مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ، نیا مرد جانے تمہاری بیٹی کے لیے کیسا باپ ثابت ہو، کل کو بچی جوان بھی ہو گی تو نامعلوم باپ کی نظریں بدل جائیں اور تم اپنے کیے پر پچھتاؤ۔ وہ ہول کر ہر رشتے سے انکار کر دیتی ہے اور پھر سب خاندان والے اس کی عظمت کے گن گاتے ہیں جو اپنی بچی کے مستقبل کے لیے حال کی ساری خوشیاں ’’برضا و رغبت‘‘ چھوڑنے کو تیار ہے۔
چلیے، دنیا داروں کی بات چھوڑیے! ایک انتہائی کٹر مذہبی خاندان کو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں۔ مذہب تو گویا اس گھر کے مرد اور خواتین گھول کر ہی پی گئے ہیں۔ گفتگو سے لے کر حلیے تک، خلوت سے لے کر جلوت تک گھر کا بچہ بچہ شریعت کی عملی تفسیر ہے۔ کچھ ماہ قبل، خاندان کے سربراہ نے ایک بیوہ عورت کو سہارا دینے کے لیے، عین شرعی حکم کے تحت نکاح کا پیغام بھیجا جو کہ دوسری طرف قبول کر لیا گیا۔

صاحب بڑے مطمئن تھے کہ ان کے اس فعل پر ان کے دین دار خاندان میں واہ واہ کی جائے گی اور انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے گا۔ اور تو اور موصوف اپنی انتہائی دین دار بیوی کی طرف سے نہایت خوش گمان تھے کہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے شاید سوتن کو بہن ہی بنا کر گھر لے آئے گی۔ اسی خوش فہمی میں گھِر کر انہوں نے اپنے فیصلے سے گھر والوں کو آگاہ کیا ہی تھا کہ مانو قیامت ٹوٹ پڑی! کہاں کی شریعت اور کیسا دین! یہاں تو محمود اور ایاز سب ایک ہی صٖف میں کھڑے تھے۔ بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کو سہارا دینے کے وعظ سن سن کر دوسروں کو سنانے والی بیوی غش کھا کر الگ گری پڑی تھی۔ اور وہ وقت بھی آیا کہ اس خاندان میں پہلی بار آواز بلند ہوئی کہ، اگر چہ نکاح ثانیہ غیرشرعی نہیں لیکن ’’معاشرے کی رسموں‘‘ کی اپنی ایک اہمیت ہے، ان کو بھی تو نہیں چھوڑ سکتے۔ آخر کار ان صاحب کو اپنا عین شرعی حق ہی چھوڑنا پڑا۔

تھکے نہیں تو بس ایک قصہ اور! میری ایک عزیزہ نے ایک بار بڑی پریشانی سے بتایا کہ ان کے شوہر میں جنسی میلان بہت زیادہ ہے وہ اپنی سہولت کے لیے ایک نکاح اور کرنا چاہتے ہیں۔ اتنا کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں اور بات وہیں ان کے آنسوؤں میں بھیگ کر ختم ہوگئی۔ کچھ دنوں بعد دوبارہ ملیں تو محترمہ قدرے خوش گوار موڈ میں تھیں۔ میں نے جب ان سے شوہر کی بابت پوچھا تو اطمینان بھری سانس بھر کر بولیں شکر ہے انہوں نے دوسری شادی کی ضد چھوڑ ہی دی، میرے اور ان کے درمیان سمجھوتا ہو گیا ہے۔ کیسا سمجھوتا؟ میں نے سوال کیا۔ ’’ارے یار! میں نے اپنا دل بڑا کر کے انہیں اجازت دے دی ہے کہ وہ نکاح کے بغیر جس عورت سے چاہیں جنسی خواہشیں پوری کرلیں مگر سوتن بنا کر ساری زندگی میرے سر پر کسی کو نہ بٹھائیں۔ میں برداشت نہیں کرسکتی۔ ‘‘ اور ان کی یہ بات مجھ سے برداشت نہ ہو سکی اور میں وہاں سے اٹھ کر چلی آئی۔

افسوس صد افسوس! جس معاشرے کی عظمت کا معیار فطرت سے دوری ہو، اس معاشرے میں ترقی کی اگلی منازل کس طرح طے ہو سکتی ہیں۔ اللہ نے مردوں اور عورتوں کی عین فطرت کے مطابق، انہیں نکاح اور طلاق کے اختیارات سونپے لیکن معاشرے کے افراد نے انہی چیزوں کو خود پر حرام کرلیا۔ کنوارے لڑکے لڑکیاں تو نکاح کے نام سے کوسوں دور بھاگنے لگے ہیں۔ پھر، ایک بیوی کی موجودگی میں دوسرا نکاح کرنا بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا نکاحِ ثانی یا پھر روز روز کی سر پھٹول سے بچنے کے لیے طلاق یا خلع کے حق کا استعمال، یہ سب مباح امور آج کے معاشرے میں گالی بن چکے ہیں۔ کبھی مجھے لگتا ہے کہ سماج کے لوگوں نے اس طرح، خود کو رب سے زیادہ سمجھ بوجھ اور عقل و شعور والا ثابت کرنے کی بھونڈی سی کوشش کی ہے۔

ہماری خواتین خدا سے زیادہ اس بات کا علم رکھتی ہیں کہ مرد کی دوسری شادی سے پہلی عورت کا گھر خراب ہوجاتا ہے، لہذا وہ اس معاملے میں کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہوتیں۔ خدا سے زیادہ، ہمارے بزرگوں کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق یا خلع کا ہوجانا صرف اور صرف بدنامی اور شرمندگی کا باعث بنتا ہے، اسی لیے میں ایسے گھرانوں کو بھی جانتی ہوں جہاں طلاق یا خلع ہوجانے کے بعد اس معاملے کو سماج سے چھپا کر رکھا ہوا ہے، اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ چھپا کر تو گناہ ہی رکھا جاتا ہے! اب سمجھ نہیں آتا کہ لوگ اللہ کی عطا کردہ رعایت کو نعمت سمجھنے کے بجائے گناہ کیوں سمجھنے لگے ہیں؟ لیکن یہ سچ ہے کہ سماج کی روایتوں کے آگے لوگ شریعت کو بھی تسلیم کرنے سے منکر ہو چکے ہیں!

اپنے بچوں اور بچیوں کی گزرنے والی بدترین ازدواجی زندگی پر لوگوں کو دکھ نہیں ہوتا، بلکہ دکھ تو اس وقت ہوتا ہے جب وہ مزید سمجھوتے سے انکار کر کے کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اب شریعت تو ان کے ساتھ کھڑی ہے مگر معاشرہ انہیں دھتکار دیتا ہے۔ خد انے تو انسانیت پر کرم کرتے ہوئے، زندگی کو خوب صورت اور پر سکون بنانے کے لیے بے شمار روزن اور دریچے کھولے ہیں، مگر ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے انہیں بند کر رکھا ہے۔ اگر سماج کی خوشی اسی میں ہے تو پھر نصیب کا دوش کیوں اور تقدیر سے شکوہ کیسا!

Facebook Comments HS