کراچی لٹریچر فیسٹول اور اردو کھیل چپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ گذشتہ ہفتے والے دن کا بیان ہے۔ میں مسکراتے ہونٹوں اور پرلطف تاثرات کے حامل چہروں کے ہجوم کے درمیان سے گزر رہا تھا جن کی آپسی گفتگو سے فضا میں ایک لطیف آہنگ پیدا ہو گیا تھا۔ یہ آوازیں سمع خراش ہونے کی بجائے مکالمے کی ایک مجموعی صورتحال کا آئینہ دار تھیں جو پر اثر اور دلپذیر تھا۔ اپنے معاشرے میں ہجوم کا یہ سنہرا رخ اور اس کی اتنی خوبصورت، پرسکون اور مسکراتی تصویر دیکھنا میری اندر خوشی اور اطمینان کی ہزار وجہیں پیدا کر رہی تھی۔ یہ ایک ایسا ہجوم تھا جو آپ کو خوشی اور مسرت تلاش کرنے پر اکسا رہا تھا۔ اس کے درمیان موجودگی آپ کو نرم خو اور با اخلاق بنا رہی تھی۔ یہ نواں کراچی لٹریچر فیسٹول تھا جو بیچ لگزری ہوٹیل کے کھلے اور روشن ماحول میں منایا جا رہا تھا۔ فیسٹول کی ابتدا کھانے پینے کے اسٹالز سے ہوتی تھی تو ابتدا کتابوں سے مزین ان دکانوں پر ہوتی تھی جو سمندر کے کنارے سجائی گئیں تھیں۔ اس ابتدا انتہا اور درمیانی حصے میں موجود تعداد کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ ایک کونے کھڑے ہوکر آپ تھالی پھینکا چاہیں تو وہ سروں کے اوپر پھسلتی دوسرے سرے جا پہنچے۔ میں خوامخواہ مسکراتا سیلفیاں نکالنے والے لوگوں سے بچتا بچاتا اس قطار میں شامل ہونے کے لئے کوشاں تھا جو پہلی منزل پر بنے اکیوریس ہال کی طرف جاتی سیڑھوں پر بنی ہوئی تھی۔ اردو کھیل چپ پیش کیا جانا تھا اور اس کے شائقین کی قطار میرے لئے حیرت کا سبب تھی۔

اپنی باری پر میں قطار میں شامل ہوا اور مکڑیوں جیسی ترتیب کا حصہ بن کر اوپر جانے لگا۔ سیڑھیوں کے اختتام پر ایک پلیٹ فارم بنا تھا جس پر پہنچتے میری نظر سمندر میں موجود مینگروز کے ان درختوں کی جانب دوڑی جو جنگل کی صورت بنائے کھڑے تھے۔ بیچ لگزری ہوٹیل اور ان درختوں کے بیچ سمندر کے پانی کے اوپر سفید سندر پرندے پرواز کیے جا رہے تھے۔ ہال میں پہنچا تو اسے کھچا کھچ بھرا پایا۔ کرسی کا خالی ملنا تو الگ رہا وہاں خالی جگھیں بھی پر تھیں۔ یوں جانیں تل دھرنا ممکن نہ تھا۔ صورتحال ایسی تھی منیر نیازی کا کہا یاد آگیا۔ ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔

خیر کھچا کھچ ہال میں وقت مقررہ پر ”چپ“ نامی اردو کھیل شروع ہوا اور اس نے شروع ہوتے ہی اپنی سحر انگیزی پورے ہال میں پھیلادی۔ ہر شخص کی صورت مجسمہ بن گئی۔ ایک گھنٹے پر مشتمل اس کھیل نے انسانی احساسات کی ایسی عکاسی کی جس نے دل کے سب تار ہلا ڈالے۔ کھیل میں ہر کردار کی الگ کہانی تھی لیکن مصنف نے ان الگ الگ کہانیوں کو اس طرح جوڑا تھا کہ وہ ایک پھول کی پتیاں بن گئی تھیں۔ اس کھیل میں ایک کہانی اس ماں کی تھی جس کو حالات کے جبر نے اس جگہ لاکھڑا کیا تھا جہاں وہ نہ اپنے گم شدہ بیٹے کی تلاش میں جا سکتی تھی نہ اسے ماتم زنی کی اجازت تھی۔ ایسی ماں کے لئے جو مکالمے لکھے گئے، ایسے تیر تھے جنہوں نے روح میں گھاؤ کردئے۔ مکالمات کو سادہ اور عام زبان پہنانا اور اس کے ذریعے درد کی تفسیر لکھنے پر مصنف تحسین کے مستحق ہیں۔ اور بختاور مظہر جنہوں نے ماں کا کردار ادا کیا وہ نہ صرف کردار کی ادا کرنے میں کامیاب ہوئیں بلکہ انہوں نے اسے یادگار بنا دیا۔ ایک ماں کے اضطرار، اذیت، خوف اور اندیشوں کو جس عملی صورت سے وہ سامنے لانے میں کامیاب ہوئیں وہ قابل صد تعریف ہے۔ کئی ایک جگہ مکالمات کی ادائیگی و تاثرات سے وہ ناظرین کی آنکھوں میں آنسو لانے کا وجہ بنیں۔

ایک اور کردار جو بیٹے کا تھا، فواد خان نے ادا کیا جو اس کھیل کے مصنف بھی تھے۔ یہ ایک ایسا بیٹا تھا جو اپنے آپ سے جنگ کر رہا تھا۔ یہ ایک ایسا بھائی تھا جو نہ چاہتے اپنے گم شدہ بھائی کے مقابل ایسی جنگ کر رہا تھا جس میں اسی نے ہارنا تھا۔ اور وہ ہر لمحہ ہارتا دکھائی دیا۔ معاشرے اور بیٹا ہونے کے پیمانوں میں خود کو فٹ کرتے جہاں ایک طرف وہ اپنے آپ کے لئے قابل اذیت بن رہا تھا وہاں کوئی دوجا بھی اس سے خوش نہیں تھا۔

اور باپ کی کہانی جو سنیل شنکر نے انجام دی، یہ اس گم شدہ بیٹے کا باپ کی کہانی تھی جس کو گم شدہ بیٹے کے باپ ہونے کی ذمہ داری نے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ صرف انتظار اور امید کی مجسم صورت تھا جسے بیٹے کی واپسی زندہ رکھے ہوئے تھی۔

گم شدہ انسان کی بیوی کا کریکٹر کیف غزنوی نے یوں کیا وہ درد و الم کی پل صراط سے گزرتی دکھائی دیں۔ ایک عورت اور وہ بھی گم شدہ انسان کی بیوی ہونا، اس سے زیادہ بے آسرا کیا چیز ہو سکتی ہے؟ ایسے مشکل کردار کو کرتے کیف غزنوی نے اپنے آپ کو ثابت کیا۔

مجموعی طور پر یہ ایک ایسا کھیل تھا جسے کھیلا نہیں گیا بلکہ اپنایا گیا۔ جب کھیل اپنے اختتام پر پہنچا تو پورا ہال جو دم ساکت تھا، کھڑے ہو کر داد دیے جا رہا تھا۔ تب میری نگاہیں اسٹیج کے ساتھ پہلی صف میں بیٹھے اس سفید بالوں بوڑھے شخص تک پہنچیں جو اکیلا اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی دونوں آنکھیں سندھو ندی کی طرح بہتی جا رہی تھیں۔ مجھے لگا شاید گم شدہ انسان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ضرور تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).