کاش عاصمہ جہانگیر اپنی صحت کا خیال رکھتیں


بارہ فروری، اتوار کے روزجب عاصمہ جہانگیر کی وفات کی خبر پڑھی تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ میں نے سوچا کہ شاید خبر غلط ہو۔ پھر اس خبر کے غلط ہونے کی دعائیں مانگیں۔ مگر صد افسوس یہ خبر صحیح ثابت ہوئی۔ ان پر اتنے خوبصورت مضمون لکھے جا چکے ہیں اور اتنا کچھ کہا گیا ہے کہ مجھے اپنے احساسات کو بیان کرنے کے لئے اُن سے زیادہ موزوں الفاظ نہیں مل رہے۔ میں اُن لوگوں سے اتفاق کرتی ہوں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ لبرل طبقے کی ماں مر گئی ہے۔ بس مجھے ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے حالانکہ وہ مجھ سے عمر میں زیادہ بڑی نہیں تھیں۔

 ان پر سوشل میڈیا پر ایک نظم لکھی دیکھی جو ناصرہ زبیری نے لکھی ہے۔

 غریبِ شہر کے حق میں دلیل تھی ایسی

جو فیصلوں کو بدل دے، وکیل تھی ایسی

پناہ لیتی تھی آکر جہاں لٹی خلقت

دیارِ خوف میں وہ اک فصیل تھی ایسی

 بلند کر کے چلی میری صنف کا پرچم

مرے گروہ میں اک ہم قبیل تھی ایسی

عاصمہ جہانگیر نے واقعی میری صنف کا پرچم بلند کر دیا ہے۔ جس طرح انہوں نے بہادری اور جانبازی سے سچ کے پرچم کو بلند کیا ہے اس کے لیے ہمیں اردو لغت کے کچھ لفظوں کو بدلنا پڑے گا۔ بہادری اور جانبازی کے لیے لفظ مردانگی کی بجائے نسوانگی اور مردانہ وار کی بجائے نسوانہ وار استعما ل کرنا ہو گا۔ انہوں نے ملک کی غیر جمہوری اور ناانصافی کی قوتوںکا ہمیشہ نسوانہ وار مقابلہ کیا ہے۔

بہت سے لوگوں کی طرح جب میں نےا ن کے مرنے کی خبر پڑھی تو پہلا خیال یہ آیا کہ انہیں کسی نے مار نہ دیا ہو کہ ان کے خلاف ریاست کی پوری مشینری سرگرم تھی۔ غداری اور کفر کے الزامات کے علاوہ ہر قسم کی گالیاں ان کو دی جاتی تھیں۔ مگر شاید ان کے بین الاقوامی سٹیٹس کی وجہ سےان کو راستے سے نہیں ہٹایا جا سکا۔ میں نے پھر ان کی اچانک موت کے سبب کے بارے میں سوچا تو اس کالم کے لکھنے کا ارادہ کیا کہ ان کےلیے تو بہت دیر ہوگئی ہے مگر شاید میری تجاویز سے ان کے چاہنے والوں اور ان کے مستقبل کے چاہنے والوں کا بھلا ہو جائے۔ (کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جو اس وقت ان کو برا کہہ رہے ہیں وہ جب تعصب کی عینک اتار کے ان کے کاموں کو دیکھیں گے تو ان کے چاہنے والوں میں سے ہو نگے)

خبروں کے مطابق عاصمہ جہانگیر کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔ ایسی دھان پان، بظاہر صحت مند نظر آنے والی عاصمہ جہانگیر کی دل کی تکلیف کی کیا وجوہات تھیں؟میں اُن کی صحت کی ہسٹری کے بارے میں کچھ نہیں جانتی مگر مجھے اُن کی وجہ کا ایک اُس تصویر سے اندازہ ہو ا جس میں وہ سگریٹ پی رہی تھیں۔ سموکنگ دل اور خون کی شریانوں کے بند ہونے کی بہت بڑی وجہ ہے۔ سگریٹ نوشی بہت طریقوں سے دل اور خون کی شریانوں کو تباہ کرتی ہے جن کی وجوہات کی مکمل تفصیل ابھی معلوم نہیں ہے۔ ان میں ایک یہ ہے کہ وہ خون کو گاڑھا کر کے شریانوں میں منجمد کر دیتی ہے اور جب دل کی شریانیں مکمل بند ہو جاتی ہیں تو دل کے دورے کا سبب بنتی ہیں۔ دماغ کی شریانیں اس طرح بند ہونے سے فالج ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کو ہائی بلڈ پریشر یا زیابطس (شوگر) ہے تو دل کے دورے اور فالج کا رسک اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ جیسا کہ عاصمہ جہانگیر کے کیس میں ہوا کہ ان کو ہائی بلڈ پریشر بھی تھا۔

بہت سے لوگ سگریٹ نوشی کے حق میں یہ تاویلیں پیش کر تے ہیں کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو سگریٹ پیتے ہیں مگر اُنہیں بڑھاپے تک دل یا پھیپھڑوں کی تکلیف نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ جو سگریٹ نہیں پیتے اُن کو یہ بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ اُن بیماریوں کی اور بھی وجوہات ہیں۔ مثلاً دل کی بیماری کی وجوہات میں موٹاپا اور موروثیت بھی شامل ہیں مگر سگریٹ نوشی ان سب وجوہات کے خطرے کے عنصر کو کئی گنا اور بڑھا دیتی ہے۔اس کی زیادہ تشریح کے لیے کسی اچھی سی ویب سائٹ پر جا کر پڑھا جا سکتا ہے۔ ایک کا لنک اس مضمون کے آخر میں درج ہے۔

سگریٹ نوشی کے خطرات صرف سگریٹ نوش افراد تک ہی محدود نہیں ہوتے بلکہ اُنکے قریبی افراد جو اُس فضا میں سانس لیتے ہیں اُن کے دل اور پھیپھڑوں کے امراض اور کینسرز کے خطرے کے عنصر بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا وہ لوگ جو سگریٹ پینا نہیں چھوڑ سکتے اُن کو گھروں، دفتروں اور پبلک مقامات پر سگریٹ نہیں پینا چاہئیں۔ وہ باہر کسی کھلی فضا میں جا کر پئیں۔

سگریٹ کا نشہ بہت برا ہے اور اسے چھوڑنا آسان نہیں ہے۔ سائنس کی کچھ نئی سٹڈیز کے مطابق بہتر یہی ہے کہ ارادہ پکا کر کے سگریٹ پینا اچانک چھوڑ دیا جائےاور کچھ دن نشہ ٹوٹنے کی تکلیف برداشت کی جائے۔ اگر یہ ناممکن ہو تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے ویلبیوٹرن کی طرز کی کسی دوا کے بارے میں دریافت کریں اور اُسے کچھ عرصے تک استعمال کریں جب تک آپ کو سگریٹ کی شدید طلب ہے۔ بعد میں یہ دوا اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق آہستہ آہستہ چھوڑیں۔ پہلے کوشش یہی کریں کہ بغیر کسی دوا کے ہی سگریٹ چھوڑ دیں۔ وہ لوگ جو سگریٹ کو دماغی سکون کے لیے پیتے ہیں اُن کو مائنڈ فل مراقبہ Mindful Meditation کرنا سیکھنا چاہیے۔یہ ریلکس ہونے کیلئے کسی خاموش جگہ پر بیٹھ کر گہری گہری سانسیں لینے کے طریقے کو کہتے ہیں۔ شروع میں اس کو دن میں دو تین بار پانچ دس منٹ تک کریں اور بعد میں اس کا ٹائم بڑھا دیں۔

سگریٹ نے ہمارے سے عاصمہ جہانگیر کو وقت سے بہت پہلے چھین لیا ہے۔ ابھی تو اُنہیں اوکاڑہ کے مزارعین کی پیروی کرنا تھی۔ ابھی تو اُنہوں نے اُن لوگوں کیلئے لڑنا تھا جنہیں ریاست بغیر جرم ثابت کیے سزا دے رہی ہے۔ ابھی تو اُنہیں ان گنت، بے گناہ لوگوں کا وکیل بننا تھا جن کا کیس لینے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔ ابھی تو انہیں پاکستان کی غیر جمہوری طاقتوں کو چیلنج کرتے رہنا تھا کہ ان کے پائے کا حق گو اور بیباک شخص اس ملک میں نہیں ہے۔ میں اُن سے کبھی نہیں ملی لیکن اگر ملاقات ہوتی تو ہاتھ جوڑ کر کہتی، عاصمہ جی سگریٹ چھوڑ دیں۔ ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں خصوصاً دل کے امراض کے ماہر کے پاس۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی فیملی بھی ان سے یہی کہتی ہو گی مگر لگتا ہے کہ وہ دوسروں کو انصاف دلانے میں اتنی مصروف تھیں کہ اپنی فکر کرنا ان کی مصروفیت میں شامل نہ تھا۔ اگر میں ان سے ملتی تو کہتی عاصمہ جی، اپنا خیال بھی رکھو اور انہیں پنجابی کا یہ محاورہ یاد کرواتی۔ جان اے، تے جہان اے۔

Click to access fs_smoking_CVD_508.pdf

اس سیریز کے دیگر حصےمحکومی کی نفسیات اور عاصمہ جہانگیر

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر غزالہ قاضی

Dr. Ghazala Kazi practices Occupational Medicine (work related injuries and illnesses) in USA. She also has a master’s degree in Epidemiology and Preventive Medicine.

dr-ghazala-kazi has 35 posts and counting.See all posts by dr-ghazala-kazi