وین کے حادثے میں جان کھو دینے والے بچوں کی یاد میں


یہ 20 دسمبر 2011 دوپہر 1 بج کر 35 منٹ کا وقت تھا۔ بٹگرام کے مضافات میں واقع ایک سکول کی چھٹی ہوگئی۔ کچہ بچے چلے گئے اور دوسرے بچے گاڑی کے انتظار میں تھے۔ بچوں کی نظریں گاڑی کے آنے والے راستے پر تھی۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی دکھائی گئی۔ بھوک کے مارے پھول جیسے بچوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ گاڑی پہنچتے ہی بچے اچل کر کودنے لگے اور ایک دسروں کو دھکے دے کر جنگلے تک رسائی کی کوشش کرنے لگے۔ کیونکہ گرمی کا موسم تھا اوپر ہوا بھی چل رہی تھی اور اباسین کے لہرے اور پر شکوں پہاڑوں کی نظارے بھی ہورہے تھے۔

ڈرائیور جی نے بچوں کو اطمنان سے بٹھا کر آہستہ آہستہ گاڑی روانہ کی۔ گاڑی کی رفتار محض 20 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔ گاڑی نے ابھی تین، چار موڑ لینے تھے اور پھول جیسے بچھوں نے اپنے والدین سے ملنا تھا سخت گرمی کے باوجود لواحقین سڑک پر اپنے پیاروں کا انتظار کر رہے تھے۔ کہ کچھ ہی دیر میں ان کے نھننے پھول ان تک پہنچ جائیے گے۔ گھروں میں مائیں دروازے کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ نہ جانے ابھی ان کے لخت جگر پہنچ جائے گے، ہوا کے جھونکے سے اگر دروازہ معمولی حرکت کرتا تو مایئں اٹھ جاتی کہ دل کے ٹکڑے پہنچ گئے مگر انجام سے ناواقف ماؤں کو کیا خبر تھی کہ یہ اب صرف ارمان کی حد تک ہے۔ بہنوں نے سالن گرم کرنا شروع کیا تاکہ طفل مکتب کو گھر آنے کے بعد انتظار نہ کرنا پڑے۔ ۔ ۔ ۔

ڈرائیور نے آہستہ آہستہ رفتار بڑھانے کی کوشش کی بچوں کے دل بہلانے لگے انہوں نے اپنی کتابیں سینوں سے لگائی اور حسب عادت سفر کی دعا شروع کی۔ دعا ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ اچانک گاڑی کو ایک زور دار جھٹکا لگا۔ ڈرائیور کے حواس اڑ گئے اس نے انتھک کوشش کی مگر تقدیر نے ساتھ دینے سے صاف انکار کیا۔ گاڑی مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگی اور کبوتر کی طرح قلابازیاں کھانے لگی۔ گاڑی کے شیشے ٹوٹنے لگے۔ بچوں کی کتابیں گرنے لگی اور بچے چیخنے لگے ’اللہ اللہ مر گئے“ ”ہائی امی“ ”آہ بابا“ لیکن ان کے پاس اس چیخنے کے لیے صرف 30 سیکنڈ تھے جس کے بعد ننھے پھول بے ہوش ہوگئے۔ یہ معصوم بچے جنہیں سرخ قلم استعمال کرنے کی اجازت نہ تھی اب سر سے لے کر پاؤں تک سرخ خون میں لت پت تھے۔ سکول کے اساتذہ گاڑی کی طرف دوڑنے لگے بچوں کی حالت دیکھ کر ان کے حواس بھی اڑ گئے آج انہیں معلوم ہوا کہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بے حال دیکھنا کتنا مشکل ہے

ادھر ریسیو کرنے والے لواحقین سڑک پر انتظار کر رہے تھے کہ نہ جانے بچوں نے دیر کیوں کی لیکن انہیں کیا پتا تھا کہ معصوم بچے گھاس اور جڑی بوٹیوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ وہ فون پر فون ملا رہے تھے لیکن فون بھی تو کھیتوں میں بکھرا پڑا ہے۔ اسے اٹھانے والا کون ہے؟ دوسری طرف زخموں اور موت کا سناٹا تھا۔ ایک لمبی نہ ختم ہونے والی خاموشی تھی۔ اسی دوران کسی کے ہاتھ موبائل لگا۔ اس نے جونہی موبائل آن کیا تو کالوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ اس نے فون اٹھایا اور ”ہلو گاڑی گرگئی“ کہہ کر فون بند کیا جونہی یہ آواز کانوں میں پڑ گئی۔

اللہ اللہ قیامت اسی کے ساتھ چیخ و پکار کی بلند آوازیں شروع ہوگئی۔ اب تو نہ کسی سے بات ہورہی تھی اور نہ ہی ان کے پاؤں چلنے پر آمادہ تھے۔ دل دھڑک رہے تھے کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ خدایا کرے تو کیا کرے؟ لواحقین گرتے تڑپتے کچھ دیر میں جائے حادثہ پہنچ گئے کہ ہو سکتا ہے جنت کے چڑیوں سے آخری ملاقات ہو سکے لیکن بے وفا زندگی نے کچھ والدین کی آرزوں پوری نہ کی اور معصوم بچے بزبان حال یہ کہہ رہے تھے ” پاپا اب لوری کی محفل جنت میں سجے گی اب صرف ہمارے لاشوں کی دیدار پر اکتفا کرو“
کچھ ہی دیر میں ایمبولینس پہنچ گئے۔ زخمیوں کو جلدی ایمبولنس میں لے کر ہسپتال پہنچایئے مگر موت کے علاج نے تو ڈاکٹروں کو تھکا یا۔

آج 7 سال گزر گئے بچوں کی قبروں سے یہ آواز آرہی ہے کیا اتنا جلدی ہمیں بھلایا گیا؟ کیا ہمارا غم صرف دو دن تھا؟ سکول کے نام تو تبدیل ہورہے ہیں لیکن سکول تو وہی ہے راستے بھی وہی ہے کیا ان کو اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ ہمارے نام پر ایک تقریب منعقد کرے؟ سکول صرف سبق پڑھا کر فیس لینے کا نام ہے؟

Facebook Comments HS