عمران خان ہر نئی دلہن کو خاتون اول بننے کی یقین دہانی کراتے ہیں
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تین برس قبل اپنی دوسری شادی کے موقع پر جو پہلے دھرنے کے دوران 7 محرم الحرام کو سرانجام پائی تھی اپنی نئی دلہن ریحام خان کو سلامی میں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بہت جلد ملک کی خاتون اول بننے جارہی ہیں۔ انہوں نے یہ بات اس اعتماد کی بنیاد پر کہی تھی کیونکہ انہیں کسی نادیدہ قوت نے باور کرا دیا گیا تھا کہ وہ بہت جلد وزیراعظم بنا دیے جائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق جب ان کی دوسری اہلیہ ریحام خان نے کچھ مدت بعد ازراہ تفنن ان سے دریافت کیا کہ وہ کب ایوان وزیراعظم منتقل ہو رہے ہیں تو وہ طیش میں آگئے۔ اس طرح ان کے درمیان ناچاقی کا آغاز ہوا۔
قبل ازیں 2013ء کے عام انتخابات سے قبل جب وہ آخری مرتبہ لندن میں اپنے سابقہ سسرال گئے تو انہوں نے اپنی طلاق یافتہ بیوی جمائما گولڈ اسمتھ اور اس کی والدہ کو اپنے تینوں بچوں کی موجودگی میں ’’خوشخبری‘‘ دی تھی کہ اب ان سے آئندہ ملاقات اسلام آباد کے پرائم منسٹر ہائوس میں ہوگی۔ 2013ء کے انتخابات میں ناکام رہنے کے بعد ان کے ایجی ٹیشن کی شدت میں اضافے کا باعث ان کی یہ خفت بھی تھی جس کا سامنا انہیں اپنے سابق سسرال میں کرنا پڑا تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ تیسری شادی کرتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی ادھیڑ عمر اہلیہ محترمہ بشریٰ کو جو دو شادی شدہ بیٹیوں کی ماں ہیں اور نانی بن چکی ہیں، بعض یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ تاہم معلوم نہیں ہو سکا کہ اس مرتبہ عمران خان نے دلہن کو خاتون اول بنانے کا وعدہ کیا ہے یا نہیں۔ سیاسی حلقوں مین یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ ماضی میں کون عمران خان کو وزیر اعظم بننے کی امید دلاتا رہا ہے؟ نیز یہ کہ عمران خان کی حالیہ شادی کے بارے مین وزارت عظمیٰ کی خوش خبریاں بانٹنے والوں کا ردعمل کیا ہے


