داستان گوئی۔۔۔ ایک کھوئی ہوئی روایت کی بازیافت


کچھ سال قبل ایک گھریلو محفل میں ہم ایک جدید داستان گو دانش حسین کے اطراف دلچسپی اور استعجاب کے عالم میں غرق ’’داستانِ امیر حمزہ‘‘ کا ایک حصہ سن رہے تھے۔ جملوں کا بہاؤ، زبان کی سلاست، اندازِ بیاں، آواز کا زیرو بم اور داستان طلسم ہوشربا کا سحر، غرض سارے کمالات کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ویسے بھی داستانوں کے سحر میں گرفتار ہونا تو انسان کے جبلی خواص میں شامل ہے۔ کچھ لمحوں کیلئے ایسا لگا کہ جیسے ہم ایک صدی قبل جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے شائقین ہیں کہ جہاں داستان گو اپنے فن کا جادو جگاتے تھے یا پھر اور پیچھے چلے جائیں کہ جب قرونِ وسطیٰ کے ایران میں سردیوں میں جلتے الاؤ سے جسم سینکتے ہوئے سڑکوں یا قہوہ خانوں میں داستانیں سننے کی روایت اپنے کمال پر تھی۔

اگلے وقتوں میں جب فلم، تھیٹر، ٹی وی جیسی تفریحات ناپید تھیں، داستان گوئی کا فن تفریح کا اہم ذریعہ تصور کیا جاتا تھا اور عوام و خواص میں یکساں مقبول تھا۔ اگر محض ایک صدی قبل کے ہندوستان میں جھانکیں تو عوام الناس اگر چوک اور نکڑوں پر تصوراتی دنیاؤں کی سیر کو نکلتے تو خواص اپنے ایوانوں اور محلوں میں طلسماتی دنیاؤں کے مزے لوٹتے۔ اس فن کے زوال تک بھی جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر داستان گو اپنی زبانی داستان سے شائقین کے ہوش و حواس کو تسخیر کر لیتے تھے۔

داستان گوئی کی ابتدائی تاریخ کا حتمی طور پر کوئی پتہ نہیں ملتا تاہم اُردو میں اس فن کی منتقلی ابتدا میں عربی سے فارسی زبان (ایران) کے ذریعہ ہندوستان تک پہنچی۔ ان داستانوں میں سے سب سے مشہور ’’داستانِ امیر حمزہ‘‘ ہے۔ ہم میں سے اکثر اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ ان کی بنیاد دراصل حضرت محمد مصطفیؐ کے چچا حضرت امیر حمزہؓ اور ان کے ساتھیوں کی جنگی شجاعت کے کارناموں پر رکھی گئی ہے اور اس کا مقصد ان کے جذبہ ایمانی، برائیوں کے خلاف صف آرائی اور جرأت مندی کا عَلم بلند کرنے کو بیان کرنا تھا۔ ان میں سے ایک اہم کردار عمروعیار کا تھا جو بحیثیت امیر حمزہ کے معاون ساتھی کے اپنی جادوئی عیاری کی مدد سے دشمن کو زیر کرنے میں ان کی مدد کرتا۔ امیر حمزہ اور عمروعیار کا مجموعہ پہلی بار 1100 عیسوی میں داستان کی صورت میں شائع ہوا۔

گو ان داستانوں کا ایک بڑا مقصد شہنشاہوں کو تفریح مہیا کرنا تھا، تاہم ان کو فنی کمال پر پہنچانے کا اصل فریضہ اور داد تو ان داستان گو افراد کو جاتی ہے کہ جو سادہ رقم کی ہوئی داستان کو بہت سارے لوازمات سے آراستہ کرتے جس میں زبان کی چاشنی، لہجہ کی بناوٹ، مکالموں کی ادائیگی وغیرہ شامل ہے۔ بیٹھے بیٹھے یا ایک جگہ کھڑے ہوئے محض جسمانی اعضاء کی حرکات و سکنات، آواز کا اتار چڑھاؤ، مرصع شاعری کے ملاپ سے جادو، عیاری، خیر و شر، حسن و طرب کی بزموں کا سماں گویا آج کے جدید تھیٹر کا سماں پیدا کرنا کہ سننے والے داستان گو کے اعجازِ بیاں سے کسی اور جہاں کے مزے لوٹنے لگتے۔ بیان کی ادائیگی میں خاص خیال رکھا جاتا کہ لہجہ اور زبان کو مقامی علاقہ کے انداز میں ڈھالا جائے تاکہ داستان سے اپنائیت کا احساس ہو۔

یہ داستانیں نویں صدی سے بیسویں صدی تک تفریح کا مقبول ذریعہ رہیں۔ ہندوستان میں حمزہ نامہ یا داستانِ امیر حمزہ کو مغلیہ شہنشاہ اکبر اعظم کے عہد میں عروج حاصل ہوا۔ اکبر کے دربار کے نو رتن میں فیضی اور ابوالفضل نے ان داستانوں کو جمع کیا۔ اس طرح حقیقت تو یہ ہے کہ ان داستانوں کو تصویری پیرہن سے آراستگی کا فریضہ اکبر کے دور کا اہم کارنامہ ٹھہرا کہ جب انکی تصویری عکاسی کپڑے پر مبنی 1400 تصاویر سے کی گئی۔ اسکا بنیادی کام ایرانی فنکار سید علی اور خواجہ عبدالصمد کی نگرانی میں ہوا۔

کئی جلدوں پر مبنی ان تصویری فولیو کی تکمیل 15 سال (1562-1577) میں انجام پائی۔ تصویر کا سائز 74x58CM تھا۔ تصاویر کی پشت پر عربی نستعلیق رسم الخط میں داستان کا متن ہوتا اور دوسری جانب منظر کی تصویر کشی۔ دو افراد اس کو پکڑتے اور داستان گو بیان دیتا۔ اس طرح گویا یہ اس زمانے کا کوئی ٹی وی ڈرامہ ہوتا۔ ان تصاویر کو البرٹ اور وکٹوریہ میوزیم میں محفوظ کرنے کا سہرا ڈون کلارک کے سر ہے۔ افسوس کہ نہ صرف ہم نے اس فن کو کھویا بلکہ اس کے بچے کھچے آثار کو بھی اپنا ثقافتی ورثا بناکر محفوظ نہ رکھ سکے۔

 اٹھارہویں اور 19 ویں صدی میں فارسی زبان سے اُردو میں منتقلی کے بعد داستان گوئی کے اس فن کو مزید وسعت ملی اور اس کا اثر ادب کی دوسری اصناف پر بھی مرتب ہوا۔ 1880ء کے بعد تقریباً دو دہائیوں تک داستانِ امیر حمزہ لکھنؤ کے گلی کوچوں اور نکڑوں میں چھائی رہی اور یہی حال دہلی میں بھی اسکی مقبولیت کا تھا تاہم اس پرانے فن میں سماجی ڈھانچہ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ زوال پیدا ہونے لگا۔ اس کی ایک وجہ غالباً داستانوں میں بزمِ حسن و طرب کا ذکر جو اسلامی ثقافت میں معیوب سمجھا جاتا تھا، تو دوسری جانب ریفارمسٹ تحریک تھی جو 1857ء کے بعد کے دور میں پیدا ہوئی۔ اس کے تحت ان داستانوں کو بوسیدہ فن کی شکل قرار دیا گیا۔

صدی کے آخری داستان گو میر باقر علی کو بیسویں صدی کے اواخر میں دہلی کے بازار میں پان، چھالیہ بیچتے دیکھا گیا۔ یہ وہ فنکار تھا جو امراء کی پیشکش کو ٹھکرا دیتا تھا۔ وہ اپنے ساتھی فنکاروں کی دنیا سے رخصتی کے بعد اپنے گھر میں داستان گوئی کی محفل منعقد کرتا۔ میر باقر کی آواز میں بیان کی ہوئی تین منٹ کی داستان آج بھی تبرکاً لندن کی لائبریری کے خزینہ میں قیمتی اور نایاب اثاثے کی صورت میں محفوظ ہے۔ بعد کے سالوں میں داستان گوئی کی جگہ بائی سکوپ اور تھیٹر نے لے لی اور یوں مشینی دوڑ میں یہ فن کہیں کچل کر وقت کی دھول میں دب گیا اور بالآخر بیسویں صدی میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ تقسیم ہند کے بعد بہت سے سنجیدہ ادیبوں مثلاً محمد حسن عسکری، پروفیسر سہیل احمد خان اور گیان چند جین نے ان داستانوں کی تہوں میں چھپی ہوئی معنویت اور حقیقت پسندی کے گوہر تلاش کئے اور اپنے تحقیقی مضامین میں اس کا ذکر کیا۔ آج کے عہد کے ادیب شمس الرحمن فاروقی کہ جن کا شمار جدید ادب کے حامیوں میں ہوتا ہے، 46 ضخیم جلدوں پر مشتمل ’’داستانِ امیر حمزہ‘‘ کو یکجا کیا۔ اسکی ہر جلد تقریباً 900 صفحات پر مشتمل ہے۔

دور جدید کے داستان گو اس قدیم فن کو دوبارہ جلا بخش رہے ہیں اور دنیا میں ہر اس جگہ اپنی داستان گوئی کا فن پیش کر رہے ہیں کہ جہاں اُردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ چند اہم نام دہلی کے دانش حسین (جو فلموں کے بھی فنکار ہیں)، محمود فاروقی جو شمس الرحمن فاروقی کے بھانجے ہیں اور فلم کے علاوہ مختلف تھیٹر گروپس سے بھی وابستہ ہیں۔ فواد خان اور کینیڈا کے جاوید دانش بھی داستان گوئی کی ترویج میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ان فنکاروں نے ماضی کے داستان گو فنکاروں کا مخصوص لباس انکرکھا پاجامہ اور ٹوپیاں پہن کر ماضی کی داستانوں کو ایک بار پھر خواص و عوام کی محافل بنا دیا ہے تاکہ فن کے دفن خزینہ کو ایک بار پھر جلا ملے۔ یہ تمام فنکار یقیناً قابل تحسین ہیں خصوصاً اس عہد میں کہ جب اُردو کے ساتھ اس کے سگے بھی سوتیلوں جیسا سلوک روا رکھ رہے ہیں۔

ایک نمونہ دیکھیئے:

Facebook Comments HS