زرداری صاحب، بہادر بچہ اور بلاول بھٹو کا مستقبل


کراچی پولیس کی اخلاقی معیار اس قدر پست ہوچکا تھا کہ انسپکٹر امان اللہ مروت نے، جن پر نقیب اللہ شہید کے علاوہ کئی مبینہ ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں، اپنے فیس بک سٹیٹس پر لکھ رکھا ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ میں کرتا ہوں اور جو میں نہیں کہتا، وہ میں ضرور کرتا ہوں، میں ہوں کراچی پولیس کا راوڈی راٹھور۔

کل کے زرداری کے انٹرویو سے ہمیں اس اسی کلچر کی جھلک نظر آتی ہے۔ زرداری صاحب نے راؤ انوار کو پولیس کا بہادر بچہ کہا اور فرمایا کہ چار سو افراد کی مقابلوں میں ہلاکت جھوٹ ہے اگر ایسا ہوتا تو چار سو ایف آئی آر بھی کاٹے جاتے، ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ انتہائی متنازع ہوچکا ہے اس بارے میں اور کچھ نہیں کہنا۔ ساتھ یہ کہ کراچی پولیس میں اندرونی گروپ بندیاں ہیں اور آئی جی سپریم کورٹ کے لگائے ہوئے ہیں، ہمارے نہیں۔

زرداری صاحب کے حوالے سے میری ذاتی سوچ کافی حد تک مثبت رہی ہے اور سمجھتا رہا کہ کافی چیزیں اس کے بارے میں بعض عناصر کی پھیلائی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ عناصر زرداری صاحب کو نیچا دکھا کر کچھ خاص مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس انٹرویو کے بعد زرداری صاحب بری طرح ایکسپوز ہوگئے ہیں اور ان جمہوریت پسند طبقات کی حمایت بھی کھو دی ہے جو پیپلزپارٹی کے نظریات کو مدنظر رکھ کر ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ اس وقت بھی پیپلزپارٹی میں رضا ربانی جیسے نظریاتی لوگ شامل ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک کا کلچر بن چکا ہے کہ غنڈہ گردی پر مبنی سوچ بہت زیادہ پروموٹ بھی ہوتی ہے اور سنی بھی جاتی ہے اور ہماری ذہنیت کا یہ عالم ہے کہ جب کوئی چور ڈاکو کوئی ایسی بات کہہ دیں جس میں وہ قانون و آئین کا مذاق اڑاتے ہیں اور چوری یا ڈاکے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ فلاں بندہ کتنا۔۔۔ ہے، ویسے بندہ بہادر ہے۔یا ان کی سیاست کا طریقہ کار منفی اور اخلاقیات سے ماورا ہوتا ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ دیکھو تو سہی کس قدر چالاک ہے وغیرہ۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ آپ نے جو کہا، جو کیا، وہ بنیادی اخلاقیات کے منافی ہے، جس طرح کی منفی چیزیں آپ معاشرے میں پھیلا رہے ہیں اس سے ہمارے نوجوان نسل میں زہر منتقل ہورہا ہے اور ہمارا آنے والا کل بھی اسی طرح اندھیرا رہے گا۔

زرداری صاحب کے انداز میں جس قدر تکبر تھا وہ اسی کلچر اور منفیت کا عکس تھا۔ ان کی باتوں میں سفاکیت تھی، ان کے انداز میں عام انسان کے لئے ایک مخصوص احساس تھا لیکن سفاکیت کا کیونکہ راؤ انوار صرف نقیب شہید کا قاتل نہیں، اس نے  سینکڑوں مبینہ مقابلے کئے جس میں کئی بے گناہ شہید کئے گئے، کئی مائیں آج بھی اپنے بچوں کی راہیں دیکھ رہی ہیں، کئی یتیم بچے محنت مزدوری کے لئے نکلے اپنے والد کی راہ دیکھ رہے ہیں لیکن افسوس کہ زرداری صاحب نے غموں سے نڈھال والدین یتیم بچوں کی زخموں پر نمک چھڑک کر پیپلز پارٹی کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

زرداری صاحب کے بقول سندھ پولیس میں گروپ بندی ہے تو کیا ایسی صورت میں اس کے پاس سندھ میں حکومت کرنے کا کوئی اخلاقی جواز رہ جاتا ہے؟ سچ یہ ہے کہ زرداری صاحب کی باتوں سے ان الزامات کو تقویت ملی ہے جس میں ان پر راؤ انوار کے ذریعے روزانہ مبینہ بھتہ وصول کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے مبینہ الزامات لگائے جاتے ہیں۔ انتقاماً لوگوں کو مبینہ پولیس مقابلوں میں قتل کرایا جاتا ہے۔

مجھے آکسفورڈ سے پڑھے بلاول بھٹو کے مستقبل پر ترس آتا ہے کہ ان کو مستقبل میں صرف کسی پر الزامات لگانے کا موقع ملنا ہے کیونکہ آج کل کے دور میں جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے ہر ووٹر ہر جوان کافی چیزیں سمجھتا ہے، بھٹو ازم کے نعرے پر یقین نہیں رکھتا بلکہ حقائق سمجھ کر فیصلے کریں گے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر زرداری کے بیان کے بعد پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پشتون لیڈر شپ اور کارکنوں پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کریں اور قوم کا ساتھ دے کر بنی فضا میں یکجا ہوجائیں اور اس وقت بھی بعض کارکنوں کی طرف سے پپپلز پارٹی چھوڑنے کے اعلانات سن رہے ہیں تو بعید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے بھی پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچ جائے گا لیکن زرداری صاحب کو شاید اس حوالے سے کوئی خاص دکھ نہ ہو کیونکہ وہ ایک خاص خول میں بند ہے کہ لوٹو تے پھٹو۔ لیکن تنظیمی امور میں موجود مرکزی نظریاتی لیڈر شپ پر اس کے منفی اثرات پڑیں گے کیونکہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ قانون اور آئین کی بالادستی پر زور دیا ہے۔

راؤ انوار گرفتار ہوتے ہیں یا نہیں، سزا ہوتی ہے یا نہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ اس کیس کی وجہ سے ملک کے نظام پر شدید تحفظات پیدا ہورہے ہیں کہ ایک پولیس افسر جو مجرم ثابت ہوچکا ہے، جس کے خلاف ایف آئی آر کٹ چکی ہے، اسے کیوں گرفتار نہیں کیا جا رہا؟ ہمیں یقین ہے کہ ملکی ادارے اس بارے میں سوچ ضرور رہے ہوں گے کیونکہ نقیب شہید کیس کے بعد جو فضا بنی ہے خاص کر پشتونوں میں جس طرح کے جذبات ابھر کر سامنے آئے ہیں اس کو آپ لاکھ کسی سے جھاڑنے کی کوشش کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ گھٹن ہے جو پشتون معاشرے میں ایک عرصے سے پائی جاتی تھی اور اب اگر اس گھٹن کے خاتمے کے لئے بنیادی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو اگلی دفعہ شدت میں کافی اضافہ ہوگا جو سوشل میڈیا پر آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی گریبان میں جھانک کر محسوس کریں کہ ہم گزشتہ پندرہ بیس برسوں سے کیا کرتے آرہے ہیں اور ان مظالم کے انتہا کا اختتام کب کرنا ہے، یقین مانیں کہ اب تک کسی غیر ملکی طاقت کا ہاتھ شامل نہیں ہوا لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا نہ ہو تو ان تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کرو جو بالکل حق پر مبنی ہے ورنہ اگر کوئی اور ہاتھ درمیان میں شامل بھی ہوجاتا ہے تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے، کوئی اور نہیں۔ بہرحال زرداری صاحب کے متکبر رویے اور بدخواہ باتوں سے اصل نقصان پیپلزپارٹی کو پہنچے گا اور جو انہوں نے اس بار کہا ہے اس سے پاکستان کی جمہوریت پسند حلقوں میں زرداری صاحب اور اس کے جماعت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

Facebook Comments HS