افسر کام کر کے اپنی زندگی مصیبت میں کیوں ڈالیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی آدمی اپنی زندگی سکون سے گزار سکتا ہے تو وہ مشکل میں پڑ کر اپنی زندگی حرام کیوں کرے؟ برازیل کی ایک کہانی یاد آتی ہے۔ ایک کاروباری مشیر چھٹیاں گزارنے ایک ساحلی گاؤں گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک نوجوان مچھیرا اپنی چھوٹی سی کشتی میں سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر لایا۔ کشی مچھلیوں سے بھری ہوئی تھی۔

مشیر بہت متاثر ہوا اور سوچا کہ اس ان پڑھ مچھیرے کو اپنا عالمانہ مشورہ مفت دے کر اس کی زندگی آسان بنا دی جائے۔ اس نے مچھِیرے سے پوچھا ”اتنی مچھلی تم نے کتنی دیر میں پکڑی ہے؟ “
مچھیرے نے جواب دیا ”دو تین گھنٹے تو لگ گئے ہوں گے“۔

مشیر حیران ہوا ”بس دو تین گھنٹے؟ اگر تم سات آٹھ گھنٹے مچھلیاں پکڑو تو کہیں زیادہ پیسے کما سکتے ہو“۔
مچھیرے نے جواب دیا ”دو تین گھنٹے میں اتنی مچھلیاں مل جاتی ہیں کہ انہیں بیچ کر میرے گھر کا خرچہ پورا ہو جاتا ہے۔ پھر کیا فائدہ ہو گا؟ “
”باقی سارا دن تم کیا کرتے ہو؟ “
”عام طور پر میں صبح سویرے اٹھ جاتا ہوں اور سمند میں جا کر دو تین گھنٹے مچھلیاں پکڑتا ہوں۔ اس کے بعد اپنے گھر واپس جا کر بچوں سے کھیلتا ہوں۔ پھر کھانا کھا کر چند گھنٹے قیلولہ کرتا ہوں۔ شام کو دوستوں کے ساتھ نکل جاتا ہوں۔ رات گئے تک ہم گٹار بجاتے ہیں، ناچتے گاتے ہیں اور پیتے پلاتے ہیں“۔

مشیر یہ سن کر بولا ”دیکھو میں تمہیں طریقہ بتاتا ہوں جس سے تم ایک کامیاب شخص بن جاؤ گے۔ کل سے تم شام تک مچھلیاں پکڑا کرو۔ انہیں بیچ کر تمہیں اپنے خرچے سے زیادہ پیسے ملیں گے اور اس بچت سے تم ایک بڑی کشتی خرید کر پہلے سے زیادہ مچھلیاں پکڑ سکتے ہو۔ اس سے تمہاری آمدنی بھی زیادہ ہو گی اور بچت بھی اور تم مزید کشتیاں خرید کر ان پر ملازم رکھ سکتے ہو۔ اس طرح رفتہ رفتہ تم اپنی فشنگ کمپنی بنا لو گے۔ پھر تم مچھلیاں ڈبے میں بند کرنے کی فیکٹری لگا لینا اور بڑے شہر میں منتقل ہو جاتا۔ وہ فیکٹری چل نکلے تو اسے سٹاک ایکسچینج میں رجسٹر کرا کر شیئر بیچ دینا اور ملنے والے پیسوں سے دنیا بھر میں اپنا کاروبار پھیلا دینا۔ یوں تم ایک بادشاہ جتنی دولت کما لو گے“۔

مچھیرے نے کہا ”یہ سب کرتے کرتے تو میں بوڑھا ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد میں کیا کروں گا؟ “
”اس کے بعد تم ریٹائر ہو جانا اور کسی ساحلی گاؤں میں ایک گھر خرید کر وہاں بادشاہوں کی طرح رہ سکتے ہو۔ وقت گزارنے کے لئے صبح سویرے نرم نرم دھوپ میں اپنی چھوٹی سی کشتی سمندر میں لے جانا، ادھر ایک دو گھنٹے مچھلیاں پکڑنا، پھر گھر واپس آ کر کچھ دیر اپنے پوتے پوتیوں سے کھیلنا، دوپہر کا کھانا کھا کر مزے سے قیلولہ کرنا، شام کو دوستوں کے ساتھ نکل جانا اور رات گئے تھے گٹار بجانا، ناچنا گانا اور پینا پلانا اور خوب عیش کرنا“۔

مچھیرے نے اسے خوب غور سے دیکھا۔ مشیر خوش ہو گیا کہ مچھیرا اس کی کاروباری مہارت اور عقل سے بہت زیادہ متاثر ہو چکا ہے۔ پھر مچھیرا بولا ”یہ سب تو میں اس وقت بھی کر رہا ہوں۔ خواہ مخواہ محنت کر کے میں اپنی زندگی مصیبت میں کیوں ڈالوں؟ “

سرکاری افسر بھی بدقسمت ہوتے ہیں، خاص طور پر آئینی تحفظ کے خاتمے کے بعد سے۔ کوئی کام کریں تو پھنس جاتے ہیں، نہ کریں تو لوگوں سے الٹی سیدھی باتیں سنتے ہیں۔ وہ اپنا کام محنت سے کریں تو ان کی زندگی مصیبت میں پڑ جاتی ہے۔

ہم ایک جج صاحب کو جانتے ہیں جو مقدموں کا تیزی سے فیصلہ کرنے کے عادی تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ چند وکلا کو یہ بات پسند نہ آئی، ان کے خلاف ایک بڑھیا سے جائیداد کے فیصلے پر شکایت کروائی گئی، تحقیق ایسی ہوئی کہ ان کو معطل کر دیا گیا، بعد میں وہ بڑھیا دوسرے ججوں کے پاس اپنے مقدمے کی باری کا انتظار کرتی رہی مگر کبھی تاریخ نہ پڑی، اس نے شکایت واپس لینے کی کوشش کی اور بتایا کہ اس نے وکیل کے کہنے پر شکایت کی تھی اور اسی جج سے مقدمے کا فیصلہ چاہتی ہے تاکہ فیصلہ تو ہو سکے، مگر شکایت واپس نہ لے سکی۔ جج صاحب کام کرنے پر رگڑے گئے۔ سکون سے کیسوں کو ٹالتے رہتے تو راج کرتے۔

ایک دوسرے افسر ہیں، سہیل ظفر چٹھہ۔ پولیس کے ایماندار اور بہادر افسروں میں گنے جاتے ہیں، اپنے پولیس سروس کے بیچ کے ٹاپر تھے، کئی اضلاع میں ڈی پی اور رہے ہیں، عوام کو انصاف دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ علاقے کے کسی بھی شخص کو براہ راست ان تک پہنچنے میں دقت نہیں ہوتی۔ حلقے کے تھانوں میں عوام کو آسانی دلوانے میں جتے رہتے ہیں۔ پچھلے برس بہاولپور میں ایک آئل ٹینکر کا حادثہ ہوا تھا جس کے بعد تیل بہہ نکلا تو لوگ تیل جمع کرنے اکٹھے ہو گئے۔ دھماکہ ہوا اور 219 انسان چشم زدن میں زندہ جل کر کوئلہ بن گئے۔ عوام میں بے تحاشا خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا کہ گجرات کے قریب ایک اور آئل ٹینکر کو حادثہ پیش آیا۔ کوئی ہمارے جیسا انسان ہوتا تو اپنی جان کی محبت میں اس ٹینکر کے چار سو گز قریب بھی نہ جاتا کہ جانے کب کوئی چنگاری رستے ہوئے تیل کو بم بنا دے، مگر صبح سویرے سہیل ظفر چٹھہ اس کے چار فٹ قریب کھڑے دکھائی دیے تاکہ گجرات کے شہریوں پر وہ قیامت نہ ٹوٹے جو بہاولپور والوں پر ٹوٹی تھی۔ یہ نری خودکشی تھی۔ مگر فرض کو مقدم جاننے والے افسر یہ کر گزرتے ہیں۔

گزشتہ دنوں سہیل ظفر چٹھہ کے خلاف میڈیا پر ایک مہم چلتی دیکھی۔ پتہ چلا کہ ان کا کام کرنا ان کے لئے مصیبت بن گیا ہے اور ان کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ الزامات وہی پرانے ہیں جن کی انکوائری میں وہ برسوں پہلے صاف نکلے ہیں۔ وہ بھی محنت کرنے اور عوام کی زندگی کو آسان کرنے کی بجائے سکون سے دفتر کے کمرے سے سائلین کو خود سے دور رکھ کر کام کرنے کی بجائے فائل گھمانے والی افسری کرتے تو مصیبت میں نہ پڑتے۔

تحریک انصاف کرپشن کے خاتمے کے نام پر سیاست کرتی ہے۔ کرپشن تو خیر ان کو صرف پنجاب اور مرکز میں دکھائی دیتی ہے مگر اس سیاست کا اثر یہ نکلا کہ صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تین چار سال تک استعمال نہ ہونے کے سبب واپس ہوتا رہا اور صوبے میں کا نہ ہوا۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ صوبائی افسران کو ڈر تھا کہ لاکھ کوشش بھی کریں تو کسی نہ کسی لیول پر تھوڑی بہت کرپشن ہو جائے گی اور اپنی تمام تر ایمانداری اور عوام کو ریلیف دینے کی نیت کے باوجود وہ مجرم قرار پا جائیں گے۔ تو وہ بیٹھے بٹھائے مصیبت کیوں مول لیں؟ عوام جائیں بھاڑ میں، وہ آرام سے دفتر میں فائلیں گھما کر افسری کیوں نہ کریں جس میں ان کا کیرئیر بھی محفوظ ہے اور عزت بھی۔ اب آخری سال میں آ کر حکومت ان کی منتیں کر رہی ہے کہ کام کرو، تمہیں نہیں پکڑیں گے۔

ہمارے ایک استاد فرماتے ہیں کہ ”کام کریں گے تو غلطیاں تو ہوں گی، تو کیا غلطیوں کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ دیں؟ “ لیکن جب دوران کام کی جانے والی کردہ اور ناکردہ غلطیوں کو جرم بنا دیا جائے تو افسر مصیبت میں کیوں پڑیں؟ وہ کام کریں یا نہ کریں، تنخواہ تو انہیں ایک جتنی ہی ملنی ہے۔ کرپشن کو وچ ہنٹ بنائیں گے تو پھر کام نہیں ہو گا، صرف آرام ہو گا، اور آرام کرنے پر نہ کسی افسر پر مقدمہ بنتا ہے، نہ ہاتھوں میں ہتھکڑی پڑتی ہے، نہ میڈیا ٹرائل ہوتا ہے، نہ نوکری جاتی ہے اور نہ ہی عزت۔ سکون سے دن بھر چائے کافی پینے کی تنخواہ مل جاتی ہے۔ صرف عوام رل جاتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1443 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar