پراونشل مینجمنٹ سروس اور ڈی ایم جی کے درمیان تنازعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈی ایم جی گروپ (DMG، PAS) فیڈرل سول سروس جبکہ پی ایم ایس (PMS) صوبائی سول سروس ہے۔ دونوں سول سروسز مقابلے کے امتحان کے ذریعہ سول سروس کا حصہ بنتی ہیں۔ دونوں کے امتحانات ہر لحاظ سے یکساں اور برابر ہیں بلکہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ایم ایس کا امتحان نسبتاً مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوٹہ سسٹم نھیں ہوتا جبکہ وفاقی سروس کے امتحان میں کوٹہ سسٹم لاگو ہوتا ہے۔ اکثر امیدوار صوبائی سول سروس کے امتحان میں فیل ہونے کے بعد وفاقی سروس کے امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اس کے باوجود ڈی ایم جی افسران خود کو اعلیٰ تصور کرتے ہیں اور صوبائی افسران کا استحصال کرتے ہیں۔ پی ایم ایس اور ڈی ایم جی میں تنازعات کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

1 نا انصافی پر مبنی سیٹوں کی تقسیم

ڈی ایم جی گروپ نے 1993 کی عبوری حکومت کے دور میں ایک غیر قانونی سیٹ شیرنگ فارمولا طے کروایا جس کے تحت صوبے کی تمام اہم آسامیوں پر براجمان ہو گئے اور صوبائی افسران کی ترقی کا راستہ روک دیا۔ یہ فارمولا مندرجہ ذیل ہے۔ ملاحظہ کریں کہ کیسے گریڈ بڑھنے کے ساتھ ساتھ پی ایم ایس کا شیئر کم ہوتے ہوتے صفر ہو جاتا ہے۔

مندرجہ بالا غیر انصافی پر مبنی فارمولا کی وجہ سے ڈی ایم جی کے دو ڈھائی سو افسران نے اپنے لیے بڑے گریڈز میں زیادہ سیٹیں حاصل کی اور پی ایم ایس کے 1200 افسران کے لیے صرف چند سیٹیں چھوڑیں جس سے پی ایم ایس افسران کی ترقی بہت دیر سے ہوتی ہے بلکہ اکثر 19 گریڈ میں ریٹائر ہو جاتے ہیں اور اس طرح صوبہ کا قیمتی سرمایہ (human resource)نا انصافی کا شکار ہو کر ضایع ہو جاتا ہے۔

2 تمام اہم آسامیوں پر ڈی ایم جی گروپ کا قبضہ۔

ڈی ایم اے افسران تمام اہم آسامیوں (چیف سیکرٹری، سیکرٹری، سیکرٹری ٹو سی ایم، سیکرٹری ٹو پی ایم، سیکرٹری فنانس) پر قابض ہو جاتے ہیں اور اس طرح حکومت کی باگ ڈور اصل میں ان ہاتھ میں ہوتی ہے اور یہ اپنی کلاس کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ صوبے اور وفاق کی تمام اہم آسامیاں دوسرے سروس گروپس کے لیے شجر ممنوعہ ہیں اور اس طرح یہ گروپ ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں رجسٹرار سپریم کورٹ بھی ڈی ایم جی گروپ کا ہی ہوتا ہے۔

1993 کے سیٹ شیرنگ فارمولا کے خلاف پی ایم ایس افسران نے کیس دائر کیا ہوا ہے لیکن ڈی ایم جی گروپ آڑے آ رہا ہے اور کیس لگنے نہیں دیتا۔

3 سینیر آسامیوں پر جونیئر ڈی ایم جی گروپ کے افسران کی تعیناتی۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود جونیئر ڈی ایم جی گروپ کے افسران سینیر آسامیوں پر براجمان ہیں۔ پنجاب میں ڈی سی کی سیٹ گریڈ 19 کی ہے لیکن گریڈ 18 کے ڈی ایم جی افسران تعینات ہیں اسی طرح کمشنر اور سیکرٹری کی سیٹ گریڈ 21 کی ہے لیکن گریڈ 19 اور 20 کے ڈی ایم جی افسران ان سیٹوں پر براجمان ہیں۔ احد خان چیمہ گریڈ 18 میں ہوتے ہوئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن رھا ہے۔ اسی طرح ڈی جی ایل ڈی کی آسامیوں گریڈ 20 کی ہے لیکن احد چیمہ گریڈ 19 میں ہوتے ہوئے اس سیٹ پر تعینات رھا۔ مندرجہ بالا مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر افسران کو نوازا جاتا ہے جس سے دیگر افسران میں بد دلی جنم لیتی ہے۔

4 ڈی ایم جی گروپ کے افسران خود کو تمام اداروں اور احتساب سے بالا تر سمجھتے ہیں

اسی لیے احد خان چیمہ اور فواد حسن فواد جیسے افسران کو احتساب کی گرفت سے بچانے کے ڈی ایم جی گروپ کے افسران کی طرف سے پنجاب میں ہڑتال کی جا رھی ہے۔

5 ڈی ایم جی کے دیگر سروس گروپس سے اختلاف۔

ڈی ایم جی گروپ کے نا صرف پی ایم ایس افسران سے اختلاف ہیں بلکہ دیگر سروس گروپس مثلاً سیکریٹریٹ گروپ، ان لینڈ ریونیو سروس، فارن سروس، انفارمیشن گروپ، پولیس سروس بھی اس گروپ کے ڈسے ہوتے ہیں اور شدید اختلاف رکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
افسر الملک کی دیگر تحریریں