لاہور لٹریری فیسٹیول ۔ ایک فلاپ شو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو ادبی میلےسجانے کی روایت اب خاصی پرانی ہوچکی ہے، لیکن 2008 میں ہندوستان میں جےپور لٹریچر فیسیٹول کا پہلی بار انعقاد کیا گیا تو حسب روایت پاکستان میں بھی ادبی حلقوں نے اس طرف توجہ دی اور ادبی میلے کا انعقاد کرنے کے لئے کوشش شروع کردیں اور انہی کوششوں کے نتیجے میں دو برس بعد 2010 میں کراچی میں ایسے ہی ادبی میلے کا انعقاد کیا گیا۔ بات کراچی سے شروع ہوئی لیکن ادب کے حوالے سے لاہور نے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں لہذا جلد ہی ادبی میلے کا رخ لاہور کی جانب موڑ دیا گیا اورزندہ دلان لاہور کے شہر میں لاہور لٹریری فیسٹیول کے نام سے ادبی میلے کا انعقاد کیا گیا۔

پنجاب اور خاص کرلاہور میں فروری کا مہینہ بہار اور بسنت میلے کے لئے مشہور ہےدنیا بھر سے لوگ لاہور میں بسنت منانے کے لئے آتے تھےاورخود لاہور کے لوگوں کو بھی عید سے زیادہ بسنت کا انتظار ہوتا تھا لیکن پھر یہ اکلوتی خوشی بھی چھن گئی۔ لاہور لٹریری فیسٹیول کے شروع ہوتےہی میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا کہ فروری پھر سے ایک میلہ لائے گا اور ایسا میلہ جو تفریح اور ادب سے بھرپور ہو گا۔ لاہور لٹریری فیسٹیول کے پہلے دو تین سیزن کامیاب رہے اور ادب سے محبت رکھنے والے لوگوں بڑی تعداد نے فیسٹیول کا رخ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فیسٹیول کی رونقیں ماند پڑنے لگیں۔ ایک دو فیسٹیول تو کامیاب نہیں بلکہ بلاک بسٹر تھے لیکن اب سفر الٹا شروع ہو گیا ہے۔

جب لاہور لٹریری فیسٹیول کا آغاز ہوا تو لاہور سمیت پورے پاکستان میں دہشت گردی اپنے عروج پر تھی اور آئے روز بم دھماکے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ اگر ہم گزشتہ فیسٹیول کو دیکھیں تو پہلے،دوسرے اور تیسرے سیزن میں دہشت گردی کے خطرے کے باجود فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا اور سیکیورٹی خطرات کے باوجود عوام کی بڑی تعداد نے فیسٹیول میں شرکت کی۔ پہلی بار جب فیسٹیول دیکھنے کی غرض سےالحمراء آرٹ کمپلیکس کا رخ کیا تو تقریبا 6 بار تلاشی ہوئی اور 3 بار واک تھرو گیٹ سے گزرنا پڑا۔ اگلے برس سیکیورٹی خطرات کےپیش نظر ادبی میلے کو ایک ہوٹل میں منتقل کیا گیا لیکن عوام کی بڑی تعداد پھر بھی دیکھنے آئی۔ اس کے بالکل برعکس لاہور لٹریری فیسٹیول کے چھٹے سیزن میں سیکیورٹی خطرات انتہائی کم تھے لیکن اس کے باوجود فیسٹیول میں ویرانیاں چھائی رہیں پہلے ہالوں کے باہر لوگوں کی لائنیں ہوتی تھیں لیکن اس بار آنکھیں یہ منطر دیکھنے کے لیے ترس گئیں۔ خبر کے بھوکے میڈیا کو بھی اس بار فیسٹیول کا انعقاد خبر نہیں لگا سوائے سٹی چینلز اور ایونٹ کے میڈیا پارٹنر ڈان گروپ کے کسی بڑے میڈیا نے ایونٹ کو کور نہیں کیا۔ میڈیا پارٹنر بھی اپنے اخبارمیں یہ لکھنے پر مجبور ہوگیا کہ کچھ ایونٹس میں لوگو ں کی تعداد کم تھی آپ اس سے بخوبی اندازہ لگا سکتےہیں اگر کسی ایونٹ کا میڈیا پارٹنر لکھ دے کہ کچھ پروگراموں میں تعد اد کم تھی تو باقی خود اخذ کر لیں کہ صورتحال کیسی تھی۔

کڑوا سچ یہ ہے کہ اس مرتبہ اس ادبی میلے میں شرکاء کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اور کچھ سیشنز میں تو لوگ انگلیوں پر گنے جا سکتےتھے۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس بار لوگوں نے اس طرح شرکت نہیں کی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ لوگوں کے اس رجحان کی کمی واضح طور پر اشارہ ہے کہ اس ادبی میلے کی ساکھ گر رہی ہے اور انتظامیہ کو کچھ بہترین کرنا ہے۔ سمارٹ فون کے آتے ہی ایک نئی بریگیڈ بنی جسے سب سیلفی بریگیڈ کہتےہیں یہ وہ بریگیڈ ہے جو کہیں بھی دو چار لوگوں کے ایک ساتھ کھڑے ہونے پر سیلفی بناتےہیں اور سوشل میڈیا پر عام کردیتے ہیں لیکن اس بار اس بریگیڈ نے بھی ادبی میلے کو وہ اہمیت نہ دی جو ماضی میں دیتی آئی ہے۔ سیلفی بریگیڈ کے بعد باری منچلوں کی آتی ہے جو صرف آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے آتےہیں اور ان کا ادب سے کوئی تعلق نہیں لیکن افسوس اس بار ایسے لوگوں کی بھی خاطرخواہ کمی دیکھی گئی کچھ لوگ تو یہ کہتے بھی سنے گئے یار اس سے بہتر تھا سامنے جناح باغ چلے جاتے تو کم از کم تازہ ہوا میں واک تو ہوجاتی۔

لاہور لٹریری فیسٹیول کے نام سے ہر سال فروری میں ہونے والا یہ ادبی میلا بلکہ لاہوری ادبی میلہ لاہور کے ادب اور ادیبوں سے خالی نظر آیا۔ رواں برس انتقال کرجانےوالے کالم نگار منوبھائی اور عاصمہ جہانگیرکے لیے سیشنز رکھے گئے تھے اس کے علاوہ کسی ادیب کو یہ اعزاز نہ بخشا گیا کہ اس پر یا اس کےکام پر بات کی جائے۔ ادبی میلے میں ہرسال اردو ادب ہو یا اردوزبان سےمتعلق سیشنزنہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور اگر کوئی ہو بھی تو محض دکھاوے یا رسم پوری کرنے کے لئے رکھے جاتے ہیں۔ ان سیشنز میں بھی گنے چنے یا سفارشی لوگوں کو بار بار مدعو کیا جاتا ہے۔

ایل ایل ایف کی انتظامیہ کو سوچنا ہو گا کہ ایک کامیاب ایونٹ جو ایک برانڈ کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا کیوں غیر مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ لاہور ایک تار یخی شہر ہے جس کی ہر اینٹ کے نیچے ایک داستان چھپی ہے کیوں اس پر سیشن نہیں رکھے جاتے، پاکستان میں یہ انتخابات کا سال ہے لیکن اس حوالے سے ایک بھی سیشن نہیں رکھا گیا۔ پاکستان میں آج کل سویلین بالادستی اور اختیارات کی تقسیم کی بات ہو رہی ہے لیکن انتظامیہ نے اس حوالے سے کوئی بھی سیشن نہیں رکھا۔ آج کل ہر فیسٹیول میں نوجوانوں اور میڈیا خصوصی طور پر سوشل میڈیا کے کردار پر بات کی جاتی ہے لیکن ایل ایل ایف انتظامیہ نے اس کو بھی اہمیت نہ دی۔ پاکستان میں کئی زبانیں اور ثقافتیں ہیں لیکن دو دن کے ایونٹ میں صرف پشتو زبان کے لئے ایک سیشن تھا۔ ویسے کتنی عجیب بات ہے کہ جے پور ایونٹ جوبھارت میں ہوتا ہے اس میں موئن جوداڑو اور ہڑپہ پر سیشن رکھے جاتے لیکن پاکستان میں منعقدہ ایونٹ میں ان کے بارے نہیں سوچا جاتا ہے۔ اگر موسیقی سے متعلق بات کی جائے تو لگتا ہے ایل ایل ایف کی انتظامیہ اس شعبے کو خود نظر انداز کر نا چاہتی تھی نہیں تو ماسٹر نذر حسین جیسے موسیقار کو نہ بھولتے۔

مجھے یاد آتا ہے کہ آج سے تین سال پہلے ایک سیشن میں احمد رشید نے کہا تھا کہ آنے والے برسوں میں پی کوہن اور کئی بڑے سکالر اس ایونٹ کا حصہ ہوں گے۔ لیکن لاہور والے آج بھی راہ دیکھ رہے ہیں بلکہ الٹا ایونٹ کا حال پتلا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر کوئی غیر ملکی نہیں لا سکتے تو پاکستان میں بھی بڑے نام ہیں لازمی نہیں کہ ہر بارکشور ناہید، حناربانی اور اعتزاز احسن کو بلایا جائے۔

اور تواور اس بار ایونٹ میں کتابوں کے سٹال بھی پہلے سے کم تھے۔ کتابوں کی رونمائی کی بات کریں تو سکھوں کی پاکستان میں کھوئی تاریخ پر امردیپ سنگھ کی کتاب کے علاوہ کام پھیکا تھا۔ کراچی میں جب عابدہ حسین کی بے نظیر بھٹو پر کتاب رونمائی روکی گئی تو امکان تھا یہ لاہور میں ہو گی لیکن وہ بھی نہ ہوئی۔

لاہوری کہیں موجود ہوں اور کھانے کی بات نہ ہو تو یہ ممکن نہیں۔ چلو اگر انتظامیہ کھانے پر مباحثہ نہیں کرا سکتی تو باہر سٹال ہی اچھے لگا دے۔ گزشتہ برسوں میں اچھی کافی فری ملتی تھی اور اب پیسے دے کے بھی کچھ نہیں مل رہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •