حامد میر، محمد حنیف اور بانی ایم کیو ایم
حامد میر اور محمد حنیف کو صحافت سے وابستہ ہوئے پچیس برس سے زائد عرصہ ہو گیا ۔ دونوں نے اپنے اپنے دائرے میں رہ کرصحافت میں اونچا مقام حاصل کیا۔ محمد حنیف نے صحافی کی حیثیت سے خود کو منوانے کے بعد انگریزی میں فکشن نگار کے طور پر شہرت پائی۔ دونوں کے نظریات میں بُعدالمشرقین ہے۔ حامد میر نے چند سال پہلے لبرل فاشسٹ کی جو ترکیب گھڑی تھی، اس کے دائرے میں، میرے خیال میں، محمد حنیف بھی آتے ہیں۔ حنیف اور حامد میرکی فکرمیں اشتراک کا ایک نکتہ بلوچوں سے ہونے والی زیادتیوں پر آواز اٹھانا ہے،جس سے ان کے جرأت مند ہونے کا پتا چلتا ہے۔ حامد میر صحافت میں حسین نقی کو اپنا استاد قرار دیتے ہیں اور ادھر محمد حنیف کی گُرو رضیہ بھٹی ہیں۔
دونوں نے استاد خوب چنے ہیں اور فارسی کے اس محاورے پرعمل کیا ہے کہ مٹی اٹھاؤ تو بڑے ڈھیر سے۔ بلاشبہ حسین نقی اور رضیہ بھٹی پاکستانی صحافت کا فخر ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے یہ کیا موازنۂ انیس ودبیر شروع کردیا ہے، اس تحریرمیں محمد حنیف اور حامد میرجو قِران السعدین کی صورت اکٹھے ہوئے ہیں، اس کا باعث بانی ایم کیو ایم الطاف حسین ٹھہرے ہیں ،جن سے دونوں کی اپنے صحافتی کیرئیر کے ابتدائی زمانے میں ملاقات ہوئی تھی، جس کی دل چسپ روداد محمد حنیف21 برس پہلے معتبرادبی جریدے ’’آج ‘‘کے کراچی کی کہانی نمبر میں ’’ایک اخبار نویس کا کراچی ‘‘کے عنوان سے مضمون میں رقم کرچکے ہیں ،حامد میر نے سارا قصہ 29 اگست 2016 کو اپنے کالم میں پرو دیا تھا ۔ اول الذکر کو انٹرویوکے بعد جبکہ مؤخر الذکر کو انٹرویو سے پہلے سیلف سنسرشپ کا تجربہ ہوا۔
محمد حنیف کو الطاف حسین نے بتایا کہ علامہ اقبال کو اس لیے بڑا شاعر مانا جاتا ہے کہ وہ پنجابی ہیں۔ الطاف حسین سے پوچھنا چاہیے اور اب تو بدلے ہوئے حالات میں پوچھا جا بھی سکتا ہے کہ حضور!یہ جو میرا جی ، فیض احمد فیض ، ن م راشد اور مجید امجد، کو بڑا شاعرمانا گیاہے ، کیا اس میں بھی ان کے پنجابی ہونے کو دخل ہے ؟ شمس الرحمٰن فاروقی اور شمیم حنفی کی اقبال پر کتابیں بھی انھیں پیش کرنی چاہییں تاکہ وہ جان سکیں کہ اردو کے ان ممتاز نقادوں نے اقبال کی شاعرانہ عظمت کو تسلیم کیا ہے اور خیر سے دونوں پنجابی نہیں اور وہاں کے ہیں جہاں سے ہجرت کوابھی کل پرسوں ہی الطاف حسین اجداد کی بڑی غلطی بتا رہے تھے ۔ الطاف حسین کی اقبال کے مقام سے متعلق رائے پر فارسی کا یہ مصرع ہی کہا جاسکتا ہے :
سخن فہمی عالم بالا معلوم شد
اب آپ محمد حنیف کی تحریرسے دماغ روشن کریں :
’’ میری پہلی سیاسی اسائمنٹ الطاف حسین کا ایک طویل انٹرویو تھا۔ یہ ایک ایسے انگریزی رسالے کے لیے کیا گیا جس کا نام ’’گلیمر‘‘ تھا۔۔۔ 
عزیز آباد میں 240 مربع گز پر بنے اس چھوٹے سے گھر کے چھوٹے ڈرائنگ روم میں ایک بڑا سا ایکویریم ایک کونے میں رکھا تھا جو کسی کارکن نے تحفے میں دیا تھا اور جس میں تیرتی مچھلیاں شیشے کی دیوار سے، جس پر بڑے بڑے حرفوں میں MQM لکھا تھا، سر مار رہی تھیں۔ سب سے زیادہ جس بات نے مجھے حیران کیا وہ الطاف حسین کا رے بان (Ray Ban) کا سیاہ چشمہ تھا جو انہوں نے چار گھنٹوں میں ایک بار بھی نہیں اتارا۔ میری اڈیٹر نے، جن کا سیاست کا علم مجھ سے کچھ زیادہ نہیں تھا، ماحول کے تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایکویریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’کیا یہ مچھلیاں بھی مہاجر ہیں؟‘‘ الطاف حسین نے ایک انگلی سے اپنے چشمے کو پیچھے کی طرف دبا کر ایک قہقہہ لگایا اور گولڈ لیف والے نوجوان کو سگریٹ پیش کرنے کا اشارہ کیا۔
الطاف حسین کو سیاست سے زیادہ فوج میں جانے کا شوق تھا۔ وہ رضاکار کے طور پر بھرتی بھی ہوئے لیکن وہاں اُجڈ پنجابی حوالداروں نے بجائے اُن کے جذبہ جہاد کی توقیر کرنے کے انہیں مکڑ اور بھیا کہہ کر اُن کا مذاق اڑایا۔ اُس بے عزتی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک گالی الطاف حسین نے اپنے انٹرویو میں دُہرائی۔ دراصل یہ انٹرویو سے زیادہ وعظ تھا کیوں کہ انہوں نے سوالوں کی زیادہ پروا نہیں کی، جو کچھ کہنا تھا وہ کہا۔ میری شستہ اردو، جس کا اعتراف کئی اہلِ زبان دوست بھی کرتے تھے، میری زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوئی۔ جب میں اُن کی تقریر کو کاٹ کر ایک سوال کرنے کی کوشش کر رہا تھا، الطاف حسین نے مہاجر فلسفے کے تاریخی پس منظر کا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’اب دیکھیں، آپ بھی پنجابی ہیں، آپ سے ہماری کوئی دشمنی نہیں۔‘‘ اس کے بعد میں نے یہ پروا کرنا چھوڑدی کہ میری قاف کا مخرج حلق میں ہے یا پیٹ میں۔
یہ ثابت کرنے کے بعد کہ علامہ اقبال کو اس لیے بڑا شاعر مانا جاتا ہے کہ وہ پنجابی ہیں، الطاف حسین نے اپنی موٹر سائیکل کا قصہ اتنے مزے لے لے کر سنایا کہ اگر کالا چشمہ نہ ہوتا تو ہم یقیناًاُن کی چمکتی آنکھوں کا بیان کرتے۔ یہ موٹر سائیکل جو تحریک کے آغاز کے دنوں میں بڑی کار آمد ثابت ہوئی تھی، رفتہ رفتہ پارٹی کے تبرکات میں شامل ہو گئی۔ ’’ساری اے پی ایم ایس او نے ڈرائیونگ اسی پہ سیکھی۔ آپ یوں سمجھیں کہ اُن دنوں میں تحریک ہم نے اسی موٹر سائیکل پہ چلائی۔ لیکن اب اللہ کا ایسا کرم ہے کہ دو دو پجیرو ہمارے دروازے پہ کھڑی رہتی ہیں۔ وہ لوگ جو اس ڈر سے ہمیں گیٹ سے لوٹا دیا کرتے تھے کہ ہم چندہ مانگ لیں گے، آج ہم سے ملاقات کا وقت مانگتے ہیں‘‘ الطاف حسین نے اُس دکاندار کی سی تسلی سے کہا جس کا کاروبار نیا نیا چل نکلا ہو۔
سیلف سنسر شپ کا پہلا تجربہ بھی مجھے اس انٹرویو کے چھپنے کے وقت ہوا ۔ میں نے سوال وجواب کے ساتھ ایک تعارف لکھا جو ذاتی مشاہدات پر مبنی تھا ۔ مچھلیوں والا مذاق چھپ گیا لیکن کالا چشمہ، جو میرے غیر سیاسی تجزیے کی بنیاد تھا، تحریر میں سے غائب تھا۔ ‘‘
محمد حنیف کی تحریر کا اقتباس آپ نے پڑھ لیا تو اب حامد میر کا بیان بھی پڑھ لیں، کالے چشمے کا ذکراس میں بھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

میں نے الطاف حسین کے لیے جو سوالات تیار کئے ان میں پہلا سوال یہ تھا کہ آپ نے 14 اگست 1979 کو مزار قائد کراچی پر پاکستان کا پرچم کیوں نذر آتش کیا؟ جب ہم انٹرویو کے لئے روانہ ہونے لگے تو ایک سینئر ساتھی نے مجھے پوچھا کہ تم نے جو سوالات تیار کئے ہیں وہ دکھاؤ۔ میں نے اپنے سوالات ان کے سامنے رکھ دئیے۔ وہ پہلا سوال دیکھ کر پریشان ہوگئے، کہنے لگے یہ سوال کوئی اور کرلے گا تمہیں مشکل سوال پوچھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو یہ پوچھ لینا کہ آپ دن کے وقت کالے شیشوں کی عینک اور ہاتھوں کی انگلیوں میں بہت سی انگوٹھیاں کیوں پہنے رکھتے ہیں؟
انٹرویو شروع ہوا، میری باری آئی تو میں نے کالے شیشوں والی عینک اور انگوٹھیوں والا سوال کرڈالا۔ اس سے پہلے کہ جواب آتا الطاف حسین کے پیچھے کھڑے ایک صاحب بولے ذرا تمیز سے بات کیجئے۔ میں نے اپنا لہجہ مزید نرم کیا اور چہرے پر مسکراہٹ لاکر سوال دہرایا۔ الطاف حسین نے اپنی عینک کے کالے شیشوں کے پیچھے سے چند لمحوں تک مجھے گھورا۔ پھر مسکرائے اور کہا اتنا تیز مت چلو کہیں ٹھوکر کھا کر گر نہ جانا۔ دو گھنٹے کے بعدانٹرویو ختم ہوا تو پتہ چلا کہ مجھے تمیز کا مشورہ دینے والے کوئی آفاق بھائی تھے۔‘‘
واضح رہے کہ آج کل پاکستانی سیاست میں الطاف حسین کو صرف بانی ایم کیو ایم کے بے چہرہ نام سے یاد کرنے کا چلن ہے۔ ہم نے عنوان میں اس کا التزام کیا ہے۔ وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا۔۔۔۔



