کیا آپ کے خاندان میں کوئی شائزوفرینیا کا مریض ہے؟


شائزوفرینیا کی ذہنی بیماری جو مغرب میں سکزوفرینیا کہلاتی ہے ساری دنیا کے ایک فی صد مردوں اور عورتوں کو متاثر کرتی ہے۔ ایک ڈاکٹر اور ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں نے یہ سیکھا ہے کہ انسانی بیماریوں کی دو قسمیں ہیں۔ جسمانی بیماریاں اور ذہنی بیماریاں۔ اگر کسی انسان کا بلڈ پریشر بڑھ جائے تو ہم کہتے ہیں کہ اسے HYPERTENSION ہو گیا ہے اور اگر کسی انسان کے پیشاب میں شکر آنے لگے تو ہم کہتے ہیں کہ اسے DIABETES ہو گئی ہے۔ لوگ اپنی جسمانی بیماریوں کا ذکر کرتے ہوئے شرمندگی محسوس نہیں کرتے لیکن اگر انہیں کوئی ذہنی بیماری ہو جائے تو اسے ’پاگل پن‘ اور ’دیوانگی‘ سمجھ کر چھپاتے ہیں۔ بہت سے لوگ جسمانی بیماریوں کے لیے ڈاکٹر کے پاس لیکن ذہنی بیماریوں کے لیے پیروں فقیروں کے پاس جاتے ہیں اور گنڈا تعویز سے علاج کرواتے ہیں کیونکہ بہت سے لوگ ذہنی بیماریوں کو روحانی بیماریاں سمجھتے ہیں۔ بعض کا خیال ہوتا ہے کہ مریض پر کسی جن یا پری نے حملہ کر دیا ہے۔

جوں جوں طب اور سائنس ترقی کر رہی ہے ہم ذہنی بیماریوں کو بہتر سمجھ رہے ہیں اور ان کا مناسب علاج کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ شائزوفرینیا کی ذہنی بیماری کی بہت سی علامات ہیں میں یہاں صرف تین کا ذکر کروں گا۔

1۔  HALLUCINATIONS  شائزوفرینیا کے مریض کو غیبی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ ایسی آوازیں جو کمرے میں موجود دوسرے لوگوں کو سنائی نہیں دیتیں کیونکہ وہ اس کے اپنے بیمار ذہن کی پیداوار ہوتی ہیں۔

2۔ DELUSIONS  شائزوفرینیا کے مریض یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ لوگ ان کے خلاف ہو گئے ہیں اور انہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ میرے ایک مریض نے مجھ سے کہا ’ڈاکٹر سہیل! مجھے ہسپتال میں داخل کر لیں کیونکہ میری بیوی مجھے قتل کرنا چاہتی ہے‘

3۔ THOUGHT DISORDER  شائزوفیرینیا کے مریض کے خیالات کا ربط ختم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بامعنی مکالمہ نہیں کر سکتا۔ اس کی گفتگو وقت کے ساتھ ساتھ اور زیادہ بے ترتیب ہو جاتی ہے۔

بعض دفعہ مریض کی حالت اتنی ناگفتہ بہ ہو جاتی ہے کہ اس کے علاج کے لیے اسے نفسیاتی ہسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے۔

پچھلی چند دہائیوں کی تحقیق نے ہمیں بتایا ہے کہ شائزوفرینیا کی بیماری میں تین طرح کے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

1.      موروثی عوامل۔ اگرچہ ساری دنیا کے انسانوں میں ایک فیصد لوگوں کو شائزوفرینیا کی بیماری ہونے کا امکانات ہوتے ہیں لیکن اگر کسی بچے کا ماں یا باپ اس بیماری کا شکار ہیں تو اس بچے کے بیمار ہونے کے امکانات دس فیصد ہو جاتے ہیں اور اگر دونوں ماں باپ اس مریض کا شکار ہوں تو اس کے بیمار ہونے کے امکانات بیس فیصد ہو جاتے ہیں۔ اگر دو بچے جڑواں ہیں اور MONOZYGOTIC TWINS ہیں تو اگر ایک بچہ بیمار ہوتا ہے تو دوسرے بچے کے بیمار ہونے کے ستر فیصد امکانات ہو جاتے ہیں۔

2.      نفسیاتی عوامل۔ جو بچے بہت شرمیلے ہوتے ہیں اور جنہیں دوست بنانے میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں ایسے بچوں کے کسی نفسیاتی بحران میں بیمار ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

3.      سماجی عوامل۔ جو لوگ موروثی اور نفسیاتی عوامل سے بہت حساس ہو جاتے ہیں ایسے لوگ اگر گھر چھوڑ کر دور چلے جائیں یا ہجرت کر لیں تو ان کے لیے نئے ملک اور نئے معاشرے میں زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے اور بعض اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔

شائزوفرینیا کے علاج نے پچھلی چند دہائیوں میں بہت ترقی کی ہے۔

1۔ ادویہ۔ 1950 کی دہائی میں شائزوفرینیا کے علاج کی پہلی دوائی CHLORPROMAZINE دریافت ہوئی تھی۔ اس کے بعد کئی اور ادویہ دریافت ہوئیں۔ آج کل مغرب میں ایک مقبولِ عام دوا QUETIPINE  ہےجو اس بیماری کو کنٹرول کرتی ہے۔

2۔ تعلیم۔ مریض کو بیماری کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے کیونکہ جتنا وہ اپنی مرض کو سمجھے گا اتنا ہی اس کا بہتر علاج کرے گا۔

3۔ تھیریپی۔ مریض کو تھیریپی سے سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ذمہ داری کیسے قبول کرے اور مرض کے باوجود ایک صحتمند زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ تھیریپی میں مریض کے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی بتایا جاتاہےکہ وہ مریض کے علاج میں اس کی کیسے مدد کر سکتے ہیں۔

بہت سے شائزوفرینیا کے مریض شادی نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو بچے پیدا نہیں کرتے کیونکہ انہیں خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کے بچے بھی بیمار نہ ہو جائیں۔ اسی لیے شائزوفرینیا کے مریضوں کو GENETIC COUNSELLINGکی ضرورت ہوتی ہے۔

شائزوفرینیا کے علاج کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس بیماری کا جتنی جلد علاج کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ جب ذہنی مرض کو کئی سال بیت جاتے ہیں اور وہ CHRONIC ہو جاتی ہے تو اس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔

اس مضمون کے شروع میں میں نے عرض کیا تھا کہ بعض مریض اپنا علاج کروانے پیروں فقیروں اور روحانی بابوں کے پاس جاتے ہیں۔ میں آپ کو اپنے خاندان کا ایک واقعہ سنائوں تا کہ میرا موقف واضح ہو سکے۔

میری ممانی جان کی جب شائزوفرینیا کی تشخیص ہوئی تو پہلے انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا جس نے انہیں ہر دو ہفتے کے بعد MODECATE INJECTION لگانے کو مشورہ دیا۔ اسی دوران میرے ماموں جان انہیں ایک روحانی بابا کے پاس بھی لے گئے جنہوں نے انہیں دم کر کے پانی کا گلاس دیا اور ہفتے میں تین دفعہ پینے کو کہا۔ میری ممامی جان بہتر ہونے لگیں۔ جب میری اپنے ماموں جان سے بات ہوئی تو میں نے کہا کہ موڈیکیٹ انجکشن سے ممانی جان کو فائدہ ہو رہا ہے اور وہ صحتمند ہو رہی ہیں۔ ۔ ماموں جان کہنے لگے یہ بابا جی کے مقدس پانی کی کرامت ہے۔ میں ماموں جان کے احترام میں خاموش رہا۔ چند مہینوں کے بعد پاکستان میں موڈیکیٹ انجکشن ملنا بند ہو گئے۔ میری ممانی جان دوبارہ بیمار ہو گئیں اگرچہ وہ بابا جی کا مقدس پانی متواتر پی رہی تھیں۔ جب مجھے ممانی جان کی دوبارہ بیماری کا پتہ چلا تو میں نے کینیڈا سے ان کے لیے انجکشن بھیجے۔ جونہی انہوں نے وہ انجکشن لگوانے شروع کیے وہ دوبارہ صحتمند ہو گئیں۔

جوں جوں طب اور نفسیات کی سائنس ترقی کر رہی ہے ہم شائزوفرینیا کا بہتر علاج کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 183 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail