بچوں کے جنسی استحصال سے تحفظ کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصور میں ہونے والے زینب قتل کیس نے پوری قوم کو معاشرے میں موجود بچوں پر جنسی زیادتی کے بڑے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کردیا۔ ذرائع ابلاغ نے اس سے پہلے بھی ایسے واقعات کی رپورٹنگ کی ہے۔ غیر سرکاری تنظیمیں کئی سالوں سے بچوں کے جنسی استحصال کے بارے میں تحقیق، رپورٹنگ اور آگہی کا کام کر رہی ہیں۔ اب حکومتی اداروں نے بھی ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلے کے حل کے لئے کو ششیں شروع کردیں ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کا وش حکومتِ پنجاب کی طرف سے 7 فروری 2018 کو یومِ تحفظِ اطفال قرار دینا ہے۔
” محفوظ بچے مضبوط پاکستان‘‘ اس دن اور مہم کا نعرہ ہے۔ الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا پر آگہی کے اشتہار اُمید کی نئی کرن پیدا کر تے ہیں۔

اس دن کے حوالے سے ایک سیمینار کا اہتمام ایوانِ وزیر اعلیٰ میں کیا گیا۔ جس میں مختلف صوبائی وزاء کے علاوہ پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بُک بورڈ کے مینیجنگ ڈایئر یکٹر عبدالقیوم صاحب اورچائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئربیورو کی چیئرپرسن محترمہ صبا صادق نے شرکت کی۔ مختلف محکموں کے کئی اعلیٰ افسران اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی موجود تھے۔ سٹیج پر بشپ آف لاہور کے علاوہ چھ مولانا حضرات تشریف فرماتھے۔ اس سیمینارکی صدارت صوبا ئی وزیر ِتعلیم رانا مشہوداحمد خان نے کی۔

حکومت پنجاب کی طرف سے یہ ایک احسن اقدام تھا مگرچند مقررین کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ مسئلہ کی تہہ اوراس کے حل تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا۔ قارئین کی توجہ کے لیے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ ایک مقرر نے کہا کہ ترقی کے مغربی اور مشرقی معیار میں بہت فرق ہے۔ ہم مغربی معیار کو یکسر رد کرتے ہیں اور اسے پاکستان میں برداشت نہیں کرسکتے۔ یورپ کے بچوں کے کردارکا دیوالیہ نکل چُکا ہے۔ دوسرے نے کہا لائف سکل بیسڈ ایجوکیشن (LSBE)کے نام پر مغرب کی طرح بچوں کوشُتر بے مہار سیکس ایجوکیشن نہیں دے سکتے۔ تیسرے نے کہا مغرب نے جب حجاب پر پابندی لگائی تھی تو حکومتِ پاکستان کو چاہیے تھا تمام سکولوں، کا لجوں اور یونیورسٹیوں کی بچیوں کے سر پر دوپٹہ لینے یا حجاب پہننے کا قانون بنایا جاتا۔ اسی طرح ہم مغرب کی اس حرکت کا جواب دے سکتے تھے۔ مخلوط تعلیم کو بھی میں درست نہیں سمجھتا مگر اس پر کسی اور مجلس میں بحث ہوگی۔ ایک صاحب نے تو اکبر ا لہٰ آبادی کا قطعہ سنا ڈلا
بے پردہ جو نظر آئیں کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت ِقومی سے گڑھ گیا
پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پر مردوں کی پڑ گیا

ایک محترم وزیر نے کہا کہ زینب کے قاتل اور اس جیسے مزید مجرموں کو سرِ عام چوراہوں پر پھانسی دینی چاہے۔ مندرجہ بالا گفتگو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی مسئلے کی گہرائی کو سمجھنا باقی ہے۔

بچے کا تحفظ چار زاویوں سے ضروری ہے۔
1۔ بچہ نظر انداز نہ ہو۔ 2۔ بچے کا استحصال نہ ہو۔ 3۔ بچے پر تشدد نہ ہو۔ 4۔ بچہ زیادتی کا شکار نہ ہو۔

یومِ تحفظِ اطفال پر صرف سکول جانے والے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے تحفظ کو موضوع بنایا گیا اور اسی سے بچاوٗ کے لئے اقدامات پر بات ہوئی۔ سیمینار میں اعلان کیا گیا کی حکومت پنجاب کے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ ُبک بورڈ اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نے متحدہ علماء بورڈ کی نگرانی میں بچوں پر زیادتی کے ایشو پر آگہی دینے کے لئے ایک کتابچہ۔ ”محفوظ بچے مضبوط پاکستان ‘‘ مرتب کیا ہے جسے پورے پنجاب کے سکولوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ شائع شدہ مواد تعارفی ڈیسک پر موجود تھا۔ مواد مناسب ہے۔ کتابچہ میں بچے اپنی حفاظت خود بھی کر سکتے ہیں، والدین کی ذمہ داریاں اور اساتذہ کی ذمہ داریاں بتانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی حفاظت سے متعلق کچھ خاکے (ٹیبلو) بھی تیار کیے گئے ہیں۔

سٹیج سے با ربار اعلان کیا گیا کہ مواد مقامی تناظر میں ڈھالنے کے لئے علما کرام کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ تقریر کرنے والے علماء نے بھی اس امر کا بار بار اعادہ کیا کہ مواد کو پورے اسلامی تناظر میں تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک ایک لفظ کو بغور دیکھا اور پر کھا ہے اور انہوں نے اس پر بہت محنت کی ہے۔ سٹیج پر بیٹھے کسی بھی شخص نے اس بات کا اعتراف نہیں کیا کہ یہ مواد غیر سرکاری تنظیموں ساحل اور آہنگ کے مواد سے اخذ کیا گیا ہے۔ ساحل کا عملہ اس مواد کی تیاری میں حکومت کے ساتھ پیش پیش رہا ہے۔ ساحل کے کسی نمائندے کو نہ ہی سیٹج پر بٹھایا گیا اور نہ ہی مائیک پر بولنے کا موقع دیا گیا۔ آخر میں جب شیلڈز کی تقسیم ہوئی تو بھی ساحل اور آہنگ کے نمائندگان کو اس سے محروم رکھا گیا۔

تقریر کرنے والے کسی عالم دین نے اس ارادے کا اظہار نہیں کیا کہ وہ یہ تعلیمی مواد اپنے مدرسوں میں بھی پڑھا ئیں گے جہاں تقریباً 50000 بچے زیر تعلیم ہیں۔ ایک عالم دین نے یہ ضرور کہا کہ سٹیج پر بولنے والے تینوں بچے گورنمنٹ یا پرائیویٹ سکول سے تعلق رکھتے تھے مدرسے کے کسی بچے کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیاگیا۔ بشپ آف لاہور ڈایوسیس نے کہا کہ اُنکے سکولوں میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیزموجود ہیں اور وہ بچوں کے تحفظ سے متعلق اس کتابچہ سے ایجوکیشن بورڈ لاہور ڈایوسیس کے سکولوں میں بھرپور استفادہ کریں گے۔

چائلڈ رائیٹس موومنٹ پنجاب کے نمائندہ نے سیمینار میں بات کرتے ہوئے حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ پنجاب چائلڈ پروٹیکشن پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح صوبائی کمیشن برائے حقوقِ اطفال بھی بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے منعقدہ اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ِتعلیم نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں گے کہ پنجاب چائلڈپروٹیکشن پالیسی بنانے میں کیا مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ اس پالیسی کے اجراء کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کی طرف سے” محفوظ بچے مضبوط پاکستان‘‘ کتابچے کی تیاری اور اس کیپورے پنجاب کے پرائیویٹ اور پبلک سکولوں میں تقسیم ایک ابتدائی قدم ہے۔ اس کتابچے کی تیاری ایک خاص تناظر میں ایک ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک تدبیر ہے۔ نئی طباعت کے وقت پنجاب ٹیکسٹ ُبک بورڈ کی مختلف کتابوں میں خاکوں کی مدد سے بچوں کے تحفظ کے بارے میں پیغا مات درج ہوں گے۔ بچوں کی عمر کے مختلف مراحل کے لخاظ سے مزید مواد کی تیاری کی جائے گی۔

بچوں کے تحفظ سے متعلق اس سیمینار میں تین بچوں نے بھی موضوع پرگفتگو کی۔ بچوں کے مسائل کے حل کے لئے منعقدہ اس تقریب میں بچوں کی شراکت اس محفل کا خوب صورت پہلو ہے۔

بچوں کو جنسی زیادتی سے متعلق آگہی دینا یقینا انہیں اس بڑے خطرے سے بچانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس آگہی کے نتیجے میں بچے ایسے کیسی ممکنہ خطرے کے بارے میں اپنے والدین اور بڑوں کو آگا ہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کویہ علم ہوگاکہ اگر کوئی بچہ ایسی اذیت ناک صورت حال سے دوچار ہو تا ہے تو اس میں اس بچے کا کو ئی قصور نہیں۔ تین سال کی عمرسے بچے کو آگہی دینے کا یہ سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ بچے کو اچھا اور بُرا چھونے کے بارے میں بتایا جاسکتا ہے۔ پھر عمر کے مختلف مراحل کے ساتھ آگہی کا یہ سلسلہ آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ کسی ایک موقع یا ایک دن کا کام نہیں۔ ایک سیشن کبھی بھی کا فی نہیں ہوتا۔ مختلف بین الاقومی حفاظتی پروگراموں سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ بچے کو کم از کم چار سیشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ پورے سال کے دورانیے میں کئی چھوٹے سیشنزایک لمبے سیشن سے زیادہ مو ّثر ثابت ہوتے ہیں۔

بچوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیموں اور ماہرین سے اساتذہ کی اس مسئلے کے حل کے لئے ا ستعدادِ کار بڑھانے کی تربیت کرائی جائے جو کہ اس کتابچہ کے بہتر استعمال کے لئے بھی ضروری ہے۔ اساتذہ اور مدد گار عملہ کے لئے ایک ضابطٔہ اخلاق بنایا جائے۔ اساتذہ اور عملے کے ہر شحض کو یہ واضح کیا جائے کہ بچوں کی حفاظت سے متعلق ان سے کیا توقعات ہیں اور سکول پالیسی نہ ماننے کی صورت میں کیا سزا ہو سکتی ہے۔ چھوٹے اور بڑے بچوں کی تفریح (Recess) کا وقت مختلف ہونا چاہے۔ بچوں کے ٹائیلٹ اور کھیلنے کی جگہوں وغیرہ کی با قاعدگی سے نگرانی کی جائے۔

سکولوں کی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی میں جسمانی سزا اور ذہنی زیادتی پر بھی واضح بات ہونی چاہے۔ اگر بچوں پر جسمانی تشدد کیا جاتا ہے تو وہ جنسی ہراسانی یا جنسی زیادتی کے بارے میں بول نہیں پائیں گے۔ سکولوں کی چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی میں حساس اساتذہ، والدین اور بچوں کی جذباتی صحت کے ماہر کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین بچوں کے لئے حفاظتی نظام کا سب سے لازمی حصہ ہیں۔ حکومتِ پنجاب کے اس کتابچہ کے بارے میں سکول انتظامیہ والدین سے خصوصی رجوع کرے۔ سکولوں کی طرح مدارس میں بھی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی بنائی جائے۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل25 (3) اور اقوام متحدہ کے معاہدہ برائے حقوق ِاطفال کے آرٹیکل 19 کے مطابق یہ ریاست ِپاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں موجود تمام بچوں کو ہر قسم کا تحفظ حاصل ہو۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس مقصد کے حصول کے لئے ترجیحی بنیادوں پر وسائل مہیا کریں کیونکہ” محفوظ بچے مضبوط پاکستان ‘‘۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •