پشاور جہاں درجن بھر زبانیں بولی جاتی تھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(زیر نظر ترجمہ مشہور بنگالی لکھاری سید مجتبی علی کی بنگالی زبان میں لکھی گئی کتاب دیش بدیش سے ہے۔ مجتبی علی 1927 میں کابل میں درس و تدریس کے سلسلے میں کلکتہ سے روانہ ہوئے اور پشاور سے ہوتے ہوئے کابل پہنچے تھے۔ کابل میں ادو سالہ قیام کے دوران انہوں نے افغان باچا غازی امان اللہ کے خلاف بغاوت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ واپس مغربی بنگال آکر انہوں نے 1948 میں اپنی یادداشتوں کو کتابی صورت میں شائع کیا۔ زیر نظر ترجمہ ان کے پشاور کے قیام کا ہے۔ )
ترجمہ و تلخیص: عبدالحئی کاکڑ۔

میرے میزبان احمد علی نے کہا ”آپ کیوں پشاور کو اچھی طرح دیکھ نہیں لیتے؟
یہاں دیکھنے اور سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔
تاجر ثمر قند اور بُخارا سے پوستین اور تاشقند سے سماوار لے کے آتے ہیں۔
اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔
تاجر حضرات کاروان سرائے میں قیام کرتے ہیں۔
دن کو کاروبار کرتے ہیں اور رات کو تفریحی پارٹیوں کا رونق لگا رہتا ہے۔
پارٹیاں بہت پرکیف ہوتی ہیں۔
اس میں قاتل بھی شریک ہوتے ہیں اور مختلف اقسام کے گناہ دستیاب ہیں۔

آپ نے نہیں سنا ہے کہ پشاور گناہوں کا شہر ہے۔ ؟
اگر آپ کسی سرائے میں ایک ماہ تک قیام کرلیتے ہیں تو باآسانی درجن بھر زبانیں سیکھ سکتے ہیں۔
پہلے آپ پشتو، پھر فارسی، جگتئی ترک، منگول، عثمانلی، روسی اور کردی زبانیں سیکھ سکیں گے اور باقی زبانیں پھر آپ کو خود بخود سمجھ آجائیں گی۔

آپ کو موسیقی سننے کا شوق ہے؟
نہیں،
کتنی عجیب بات ہے، آپ بنگالی ہیں نا!
میں رابندر ناتھ ٹیگور کی گیتانجلی کا فارسی ترجمہ پڑھ چکا ہوں۔
واہ کیا اعلی معیار کی شاعری ہے۔
مجھے یقین ہے کہ آپ کو موسیقی سے ضرور رغبت ہوگی۔
اگر نہیں بھی ہے تو آپ عدان جان کی آواز سنے بغیر پشاور کیسے چھوڑ کے جاسکتے ہیں۔ ؟
وہ پشاور کی پری ہیں اور بارہ زبانوں میں گیت گا سکتی ہیں۔
ان کے پرستار دہلی سے بغداد تک پائے جاتے ہیں۔
اگر آپ نے ان سے ملاقات کی تو وہ خوشی کے مارے ساتویں آسمان پر پہنچ جائے گی۔ پھر ان کی دلوں پر راج کرنے کی سلطنت بغداد سے بنگال تک پھیل جائے گی۔

میں نے مایوسانہ انداز میں کہا، نہیں نہیں مجھے ایسی کوئی امید نہیں۔
نہیں نہیں آپ خود ہی محسوس کرلوگے لیکن پہلے مجھے بتاؤ آپ کو ٹیگور کی کون سی نظم زیادہ پسند ہے۔
احمد علی کچھ دیر کے لیے سوچتے رہے اور پھر کہنے لگے ”اے مادر، شھزادہ امروز“
میں سمجھ گیا ان کی مراد اس نظم سے ہے کہ ”اے ماں، میرا شھزادہ آج مجھے چھوڑ کر جارہا ہے۔ “

میں نے کہا، خان صاحب یہ کیا بات ہوئی؟ آپ پٹھان ہیں لہذا ایسی نظم نہیں سننی چاہیے۔
جب آپ کی محبت مسترد کردی جائے گی تو آپ اس کو بانہوں میں اٹھا کر گھوڑے کی پیٹھ پر سوار کرکے آسمانی بجلی کی طرح دور دراز کے علاقوں میں غائب ہو جاو گے۔
پھر کسی پہاڑی غار میں ان کے چرنوں میں بیٹھ کر اس کے دل کو جیتنے کی کوشش کروگے۔
اس کے پیروں کو چھوتے ہوئے اس سے پیار کروگے۔

مجھے اپنی بات روک دینی چاہیے کیونکہ احمد علی ایک شریف آدمی ہیں جو احتراما میری بات نہیں کاٹ سکیں گے۔
آپ رک کیوں گئے؟ اپنی بات جاری رکھیے۔
میں نے کہا کہ میں آپ کو کیوں رلاوں؟

میں سمجھ گیا کہ پٹھانوں کی عشق میں خاموشی ہوتی ہے یعنی وہ خاموش عاشق ہوتے ہیں۔
احمد علی نے میری دلجوئی کی خاطر کہا، آپ کو معلوم ہے کہ پشاور کے بازار میں کوئی بھی رقاصہ چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک نہیں ٹھہر سکتی۔
کوئی بھی نوجوان پٹھان اس کے عشق میں مبتلا ہوکر اس سے شادی کرکے گاؤں لے جائے گا۔
۔
پشاور میں رات کو یخ بستہ ہوائیں چلیں اور ہمیں اتنی راحت ملی کہ دن کو پڑنے والی 140 ڈگری کی گرمی بھول گئے۔
گھوڑوں کی پیروں کی چاپ سے سڑکوں پر زندگی کی رونق لوٹ آئی۔
خوبصورت سوتی کپڑوں میں ملبوس اور زری جوتے پہنے پٹھان گھروں سے نکل آئے۔
انہوں نے رنگین قمیضیں زیب تن کی ہوئی ہیں اور پگڑیاں، واہ اتنی خوبصورت انداز میں باندھی گئی ہیں جس کی نظیر دنیا میں کہیں اور مل ہی نہیں سکتی۔
امیر اور مڈل کلاس کے پٹھان کی سر پر پگڑی دیکھ کر مجھے لگا کہ جیسے خدا نے پگڑی باندھنے کے لئے ہی دھڑ کا اوپر کا حصہ بنایا ہے۔

خوش پوش، خوبصورت پگڑیاں باندھے، خوشبو سے معطر پٹھانوں کو سڑکوں پر ٹہلتے ہوئے دیکھ کر مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی پٹھان ہیں جنہیں میں نے کلکتہ کے ذکریا سٹریٹ پر چلتے دیکھا ہے؟
ھالی ووڈ کے ستارے بھی ان کی خوش پوشی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
( عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور ریڈیو مشال سے منسلک ہیں۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •