بنا لیجیے کسی کو بھائی، اور بھاگ جایئے گھر سے


آج تو خواتین کا عالمی دن ہے اس موقع پر یہ ہو نہیں سکتا کہ ہمارے اندر سے ایک ٹیچر یکایک بیدار نہ ہو جا ئے۔ کچھ مہینوں سے میں ’ ہم سب ‘ پر خواتین کی ان پر ظلم ہو نے والی سچی کہا نیاں پڑھ رہی ہوں، دل روتا ہے کہ خواتین بعض اوقات مصلحتاً اور کبھی مجبوراً مردوں کے خود پر ہونے والے ہر طرح کے ناروا سلوک برداشت کرتی ہیں۔ اور پھر جب برداشت جواب دے جاتی ہے تو بالآخرعلیحدگی اختیار کر لیتی ہیں۔ میں سمجھ سکتی ہوں کہ شادی کے ابتدائی ایک دو سال سمجھنے سمجھانے کے ہوتے ہیں اس میں ایک ڈرپوک عورت احتجاج نہیں کر سکتی لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد مرد کی یقیناً کوئی نہ کوئی ایسی کمزوری تو اس کے ہاتھ لگ جانی چاہیے جس کے بل پر وہ اس سے بات کر سکے اسے اپنی ذات کی اہمیت کے بارے میں بتا سکے۔ اسے اپنے فیصلے سے آگا ہ کر سکے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں کو جتنا بہتر خود سمجھ سکتے ہیں کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے کسی دوسرے سے اس بارے میں مشورہ کرنے یا ایک دوسری کی خامیاں بتا نے کے بجائے بات چیت کا رستہ اپنانا چاہیے۔ چاہے کچھ بھی ہے کسی بھی ظلم کی داستان پڑھتے ہوئے قاری کو یہ خیال تو آتا ہی ہے کہ جو خاتون اپنی داستان لکھ رہی ہے یقیناً اس کے منہ میں زبان بھی ہے، کیا اس نے کبھی اظہار نہیں کیا، کیا اس نے اپنے شوہر کے ظلم سے اکتا کر کوئی اور سہارا تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی اور اس سہارے کے بل پر اپنے میاں کو بس اب اور نہیں کا الٹی میٹم نہیں دیا۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عورت کی چیخ و پکار سن کر تو مجمع اکھٹا ہو جاتا ہے، وہ موم کی گڑیا بنی بنا احتجاج کے کیسے خاموش رہی۔ بات کرنے سے بات بنتی ہے۔ ہم نے ان کی داستانوں میں یہ نہیں پڑھا کہ انہوں نے اپنے شوہر کو ظلم سے باز رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔

میں تو گھروں میں کام کرنے والیوں کو دیکھتی ہوں وہ کتنی دبنگ ہیں۔ ایک اٹھارہ سال کی لڑکی میرے گھر میں کام کرتی تھی اس کی خالہ نے اسے میرے پاس رکھوایا تھا، خالہ کہتی تھی کہ میں اسے سمجھاؤں کہ وہ اپنے میاں کے پاس چلی جائے۔ جب میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو کہنے لگی جب تک وہ مجھے الگ نہیں رکھے گا میں اس کے پاس نہیں جاؤں گی۔ وجہ پوچھنے پر بتایا کہ سارا گھر کا کام اس کے ذمہ ہے اور اس کی جٹھانی کچھ نہیں کرتی اس پر حکم چلاتی رہتی ہے۔ واقعی یہ ایک مضبوط وجہ تھی۔

موجودہ دور میں جہاں جہاں الیکٹرانک میڈیا کی رسائی نہیں ہے ان علا قوں کو چھوڑ کر ہم نے جہاں مردوں کو بہت عیاش اور شاطر پایا وہیں عورت کی ذہانت اور مکاری کو بھی عروج پر دیکھا۔ ایک اور چھو ٹا سا واقعہ اس ضمن میں بتائے دیتی ہوں۔ میری سہلی کی بیٹی اور بیٹے کی وٹے سٹے میں شادی کر دی گئی۔ بیٹی کسی اور کو پسند کرتی تھی،اس وقت تو خاموش رہی، لیکن شادی کے بعد پاگل پن کا ڈھونگ کیا، اور شوہر نے تنگ آکر اسے چھوڑ دیا۔ اور اب وہ اپنی پسند کی شادی رچائے بیٹھی ہے۔

ایک خاتون نے ایک غیر مرد کو اپنا بھائی بنایا اور اسے اپنے شوہر کے سارے ظلم سے آگاہ کیا۔ واقعی اس کے الزامات شدید نوعیت کے تھے سارے محلے سے اس کی گواہی تھی، اس عورت نے اپنے شوہر پر اس غیر مرد کو اپنا دور پرے کا بھا ئی ظاہر کیا۔ لیکن پھر اس کے شوہر نے اس بھائی کا بھی داخلہ بند کردیا، مگر کچھ عرصے بعد وہ اپنے بچوں کو لے کر اس بھائی کے ساتھ غائب ہو گئی۔ کہنے کا مطلب ہے عورت اتنی سیدھی بھی نہیں ہوتی اور نہ اسے ہونا چا ہیے۔

اسی طرح اگر شوہر عیاش ہے، بے وفا ہے، آپ کے اوپر سوکن لانا چاہتا ہے، تب بھی شدید احتجاج کریں، اسے اس کے فیصلے سے باز رکھیں۔ قانون آپ کو ہر طرح کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ پھر بھی دوسری شادی کر لیتا ہے تب اس سے الگ رہنے کا مطالبہ کریں، مگر اس سب میں طلاق کے آپشن کو ضرور سامنے رکھیں۔ وہ آپ کو طلاق دے سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کے پاس دوسرا کیا ٹھکانہ ہے۔ اگر کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں اور آپ کے پاس، اکیلے زندگی گزرنے کے لیے وسائل، صلاحیت اور ہمت نہیں تب آپ اس کے ساتھ رہیں اور یہ کڑوا گھونٹ بڑی دانشمندی اور ذہانت سے پی لیں، کچھ ہی دنوں میں نشہ اترنے کے بعد وہ آپ کے پاس لوٹ آئے گا۔ یہ میرا زندگی بھر کا مشاہدہ ہے۔

بے زبان جانوروں کے ساتھ ظلم کرنا کچھ بے رحم لوگوں کی فطرت ہوتی ہے۔ اگر لمبے عرصے تک کوئی عورت شوہر کے ظلم بنا احتجاج کے برداشت کرتی رہے،اس کی خواہشات، خوشی کی پروا نہ کی جا تی ہو، اسے جانور سمجھا جاتا ہو، تو ایسی عورت کہ ساتھ ہمیں کوئی ہمدردی نہیں آپ بھینس، گائے، یا پھر بکری ہیں تو پھر بندھی رہیے کھونٹے سے۔ یا پھر ہمت پیدا کیجیے اپنے اندر، زندگی ایک بار ہی ملتی ہے۔ بنا لیجیے کسی کو بھائی اور بھاگ جا ئیے گھر سے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ نفسیاتی امراض میں مبتلا شوہر کے ایب نارمل رویوں کو برداشت کرنا اعصاب کو توڑ کر رکھ دیتا ہے، لیکن انہیں بھی اچھی طرح علم ہو تا ہے کہ اس کی زندگی میں شامل عورت ہی اس کا آخری سہارا ہے، لہٰذا ایسے مرد کے لیے محض اسے چھوڑ دینے کی دھمکی ہی کارگر ثابت ہو تی ہے۔ ایسے مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے، زندگی ایک بار ہی ملتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کی خوشیوں پر پورا حق ہے، لیکن اسے بھی تو زندگی پہلی بار ملی ہے، اسے اس کے مرض کے ساتھ تنہا نہ چھوڑیے، لڑیے، جھگڑیے مگر ساتھ رہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں