ماں کی نوکری کو اکیس توپوں کی سلامی

میرا سب سے چھوٹا بیٹا فقط پانچ ماہ کا تھا جب میں تین بچوں کے ساتھ گھر سے نکالی گئی۔ دو بچے تو خیر سے اسکول جانے کی عمروں کے اور سمجھ دار تھے، ماں کی مجبوریاں بھی کافی حد تک سمجھتے تھے۔ لیکن پانچ ماہ کے ننھے کو کہاں کسی بات کا پتا تھا۔ وہ میرے چہرے کے علاوہ اور کسی سے مانوس کب تھا! اس کے لیے تو پوری کائنات کا محور و مرکز فقط میری ہی ذات تھی۔ نکالنے والے نے مجھے زندگی کا مزہ چکھانے کے لیے اپنے بچوں کی ساری ضرورتوں کی طرف سے ہاتھ کھینچ لیا۔ رزق کی تقسیم کا معاملہ تو اللہ نے اپنے ذمہ ہی رکھا ہے یوں میرے بچوں کے لیے وسیلے بن گئے۔ میرے بھائیوں نے کاندھا بن کر سارا بوجھ اٹھا لیا اور میرے لیے وقت گزارنا آسان ہوتا چلا گیا۔
جلد ہی گھر بیٹھے بیٹھے مجھے بہت ساری جگہوں سے جاب کی پیشکش ہونے لگی۔ میں بہت خوش ہوئی، زندگی کو اپنے سہارے آگے کھینچنے کے خواب بُننے لگی، مستقبل کے خوب صورت سپنے بننے والی آنکھیں بچوں کے حال پر جمیں تو دل کی دنیا تہس نہس ہونے لگی۔ سوالات جنم لینے لگے! انہیں کس کے پاس چھوڑ کر کمانے کے لیے جاؤں گی؟ اسکول سے واپس آئیں گے تو انہیں کھانا کون دے گا؟ پڑھائے گا کون؟ گھر کے اور باہر کے سب کام کس طرح ہوں گے؟ اور پھر میرا سب سے چھوٹا، جس کو میری اتنی دوری بھی گوارا نہیں کہ مجھے ذرا دیر کو بھی نظروں سے اوجھل ہونے کی اجازت دے دے، اس کو کون سنبھالے گا؟ ساری صورت حال کا جائزہ لیا تو میرا دل گویا کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ میں نے اپنا سارا وقت بچوں کو سونپ دینے کا فیصلہ کرلیا اور سوچا انہیں اتنی توجہ دوں گی جو انہیں اچھا انسان بنانے میں مددگار ثابت ہو۔
شوہر کے گھر میں رہتے ہوئے بھی میں نے ملازمت کی مگر اس طرح کہ صبح بچوں کے ساتھ نکلتی اور دوپہر میں ساتھ ہی گھر واپس آجاتی، یوں مجھے اور بچوں کو کبھی ایک دوسرے سے دوری کا احساس ہی نہیں ہوا۔ لیکن اب تو ایک ننھا منا اور بھی تھا۔ وہ بھی ایسا جو رشتوں کے نام پر بس میری خوش بو سے ہی واقف تھا۔ اس کا گول معصوم چہرہ اور سنہری بال ساری تھکن اتار کر مجھے تازہ دم کرتے۔ جب وہ ایک سال کا ہوا تو میں نے پھر ہمت پکڑی اور سوچا ایسا آخر کب تک چلے گا؟ کسبِ معاش کے لیے تو مجھے بھی بھاگ دوڑ کرنی ہی ہوگی۔ بھائیوں پر کب تک بوجھ بنی رہوں گی؟
بچوں کی ضرورتوں سے ان کا باپ اگر بری الذمہ ہو ہی گیا تو میں بچوں کو ان کی معصوم خواہشوں سے رہا کیوں کرواؤں؟ ایک دوست سے مشورہ کیا تو اس نے کہا چھوٹے کو ڈے کیئر میں کروانا سب سے مناسب ہے۔ یوں دل پر پتھر رکھ کر علاقے کے سب سے اچھے ڈے کیئر کا رستہ دیکھا۔ تین دن متواتر بیٹے کو وہاں لے کر کر جاتی رہی۔ ملگجے حُلیے کی بوڑھی آیا کے حوالے اپنا بچہ کرکے بجھے دل کے ساتھ باہر لان میں آکر بیٹھ جاتی اور گھنٹہ بھر اپنے بیٹے کی چیخیں سنتی اور لب بھینچے رہتی۔ آخر میرا ضبط ختم ہوا میں نے نوکری کی ضرورت کو اکیس توپوں کی سلامی دے کر وہیں دفن کیا اور بچے کو سینے سے لگائے گھر لوٹ آئی۔ اس رات بہت سارے پرانے زخموں کے باوجود بہت سکون سے سوئی۔
ابھی ایک مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ مجھے ایک اسکول سے جاب کی آفر ہوئی اور یہاں مجھے بچے کو ساتھ رکھنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ میں نے خدا کا لاکھ شکر ادا کیا اور فوراً ہاں کردی۔ مگر چند ہی دنوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ بڑے بچوں کو اسکول کے لیے تیار کر کے ساتھ لے کر نکلنا اتنا مشکل نہیں، جتنا بے خبر سوئے بچے کو میٹھی نیند سے جگا کر بھوکا پیاسا لے کر نکلنا! فاطمہ اپنے مضمون میں لکھتی ہیں کہ کام کی جگہوں پر بچوں کو ساتھ رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ لیکن میں اپنے تجربے کی بنا پر کہہ سکتی ہوں کہ اتنا چھوٹا بچہ اگر کام کی جگہ پر ساتھ ہو تو ایک ماں اپنے پیشہ وارانہ امور بے فکری سے انجام دے ہی نہیں سکتی۔ یوں میں بچے کے ساتھ اسکول کی جاب کو ایک ماہ سے زیادہ چلانے کا رسک نہ لے سکی۔
میرا ننھا اسکول کے کمروں میں روتے روتے میرے پیچھے گھومتا رہتا، اس کی میٹھی نیند میں صبح صبح آنے والا خلل اس کے اندر ایسا چڑچڑا پن پیدا کر چکا تھا کہ وہ سارا سارا دن کچھ بھی کھانے کے لیے منہ نہ کھولتا، اس کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔ میں اس کو دیکھ کر خون کے آنسو روتی۔ شقی القلب باپ کی من موجی زندگی پر روز لعنت بھیجتی، اور گھر آکر سارا دن بچے کو سینے سے لپٹائے اس کو پُرسکون کرنے کی کوشش کرتی رہتی۔ وہ شدید بیمار نہ ہوتا تو بھی میں سوچ چکی تھی کہ خواہشیں ختم اور ضرورتیں کم کر لوں گی مگر خدا کے اس تحفے کی بے قدری نہیں ہونے دوں گی۔ چھوٹے کا حال دیکھ کر میرے بڑے بچے بھی کہہ اٹھے کہ مما! آپ اس کے ساتھ گھر میں رہا کریں۔ میں اپنے بچوں کی بہت شکر گزار ہوئی اور تینوں کو بانہوں میں بھر کر مسکرا دی۔ یوں میں بچوں کو پورا پورا وقت دینے کو گھر میں جم کر بیٹھ گئی اور ان کے باپ کو کورٹ سے نوٹس بھجوا دیا اور سوچا ذرا اس شخص کو بھی جھنجھوڑا جائے جو کمزور لمحوں کی غلطیوں سے میری جھولی بھر کے اطمینان سے بیٹھ گیا۔ حساب تو اس کے ذمہ بہت نکلتا ہے لیکن مجھے اس کی یہ تین خطائیں اپنی جان سے زیادہ پیاری ہیں۔
زندگی کسی بھی موڑ پر بے وفائی کر سکتی ہے۔ وقت کسی بھی لمحے بے رحم ہو سکتا ہے۔ جب تک دنیا قائم ہے انسانوں کے ساتھ ایسے معاملات ہوتے رہیں گے لیکن ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں قانون کی حکم رانی نہ ہونے نے ایوانوں سے لے کر گھروں تک، سارے معاملات خراب کر رکھے ہیں۔ اشد ضروری ہے کہ مغرب کی طرز پر باپ ہی اولاد کی پرورش کے تمام امور کا نگہبان اور ذمہ دار ہو، چاہے بچوں کی ماں اس کے نکاح میں ہو یا نہیں! اور اگر باپ زندہ نہ ہو تو ریاست بچوں کے تمام حقوق کی ضامن بنے۔ عورت جب ملازمت کے لیے نکلے تو اس کے بچوں کی حفاظت بھی ریاست کی ہی ذمہ داری قرار پائے۔ نوکری پیشہ عورتوں کی سہولت کے لیے جدید سہولیات اور تربیت یافتہ عملہ پر مشتمل ڈے کیئر سینٹر ہوں جہاں اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو چھوڑ کر مائیں لب بھینچ کر نہ نکلیں بلکہ ذہنی سکون کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں۔ اور اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکتا تو کم از کم دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ”ایک جوڑا ایک بچہ“ کا قانون سختی سے لاگو کر یا جائے تاکہ ریاست اور افراد کی غیرذمہ داری کے باعث ننھے پھول کھلنے سے پہلے ہی نہ مُرجھائیں۔
اسی بارے میں

