خود کھانا گرم کر لو


میڈٰیا ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ کسی بھی میڈیا ادارے میں کام کرنے والا کوئی بھی ملازم بہت سخت حالات میں کام کرنے کا عادی ہوتا ہے۔ میری شفٹ شام کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ’نیک اور صالح لوگوں‘ کی وجہ سے رات بارہ بجے میرا بھائی مجھے دفتر سے لیتا ہے، گھر آ کر میں اسے کھانا گرم کر کے دیتی ہوں۔ نہ مجھے میرے دفتر سے لینا اس کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی اس کے لیے کھانا گرم کرنا میری ذمہ داری ہے۔ ہم دونوں پھر بھی باقاعدگی سے یہ کام کرتے ہیں، وجہ ہمارے درمیاں موجود رشتے کی محبت ہے۔

عورت مارچ میں شامل ایک لڑکی کا پوسٹر سوشل میڈیا پر بہت مشہورہو رہا ہے جس پر موٹے حروف میں لکھا ہوا ہے کہ ’خود کھانا گرم کر لو‘۔ اس پوسٹر کو سوشل میڈیا مجاہدین نے طبلِ جنگ سمجھا ہے۔ بیشتر کی مردانگی کو یہ جملہ ٹُھک کر کے لگا ہے اور اب وہ بلبلاتے پھر رہے ہیں۔ ان کا درد وہی سمجھ سکتے ہیں جو اصل زندگی میں اس تکلیف سے گزرے ہوں۔

کسی آدمی نے فیس بک پر کمنٹ کیا کہ اپنا خرچ بھی خود اٹھا لو۔ میں نے وہاں کمنٹ کیا کہ اپنا خرچہ ہم خود ہی اٹھاتے ہیں بلکہ مردوں کو بھی پالتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو گھر کا ایک چکر لگا لو۔ گھر کی بیشتر چیزیں یا تو ماں اپنے جہیز میں لائی ہوگی یا گھر کی کوئی اور بہو۔ جہاں چند گھرانوں میں عورتوں پر احسان کرتے ہوئے جہیز نہیں لیا جاتا وہاں بقیہ عمر خاتونِ خانہ کی کسی بھی فرمائش پر طعنہ دے دیا جاتا ہے جہیز میں لے آنا تھا نا۔ ایسے مردوں کو کیوں نہ کہا جائے کہ خود کھانا گرم کر لو؟

کچھ روز پہلے جنید اکرم عرف گنجی سرکار کی ایک ویڈیو دیکھنے کا تفاق ہوا جس میں وہ پاکستانیوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ اگر اپنے بچوں بالخصوص بیٹوں کو باہر بھیجنا ہے تو انہیں گھر کے چیدہ چیدہ کام سکھا کر بھیجیں کیونکہ پاکستان سے باہر ایسی عیاشی بھری زندگی نہیں ہوتی، وہاں سب کام خود کرنے پڑتے ہیں۔ کھانا بنانا نہ آتا ہو تو باہر سے کھانا پڑتا ہے جس سے خرچہ بھی بڑھ جاتا ہے جو بہت چبھتا ہے۔

دو سال ہاسٹل میں اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو ایسی مشکلات سے نبرد آزما ہوتے دیکھا ہے۔ ایک پاکستانی صاحب میری یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ وہ جب بھی ملتے یہی بتاتے کہ چار ریسرچ پیپر اس جرنل میں چھپ گئے تو تین فلاں میں چھپ گئے۔ شروع شروع میں ہم بڑا متاثر ہوئے، آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگی کہ وہ بس ہمیں دیکھ کر اپنی زبان کو تھوڑی بہت جنبش کروانے کے لیے یہ سب کہتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں انگریزی بھی بہت کم لوگ بولتے ہوں وہاں کسی ہم زبان کو دیکھ کر انسان ایسی ہی اوٹ پٹانگ باتیں کرنے لگ جاتا ہے۔ ان صاحب کو کھانا پلیٹ میں نکالنا تک نہ آتا تھا۔ دیسی کھانوں کی یاد ستاتی تو ادھر ادھر موجود پاکستانیوں کی چاپلوسی کیا کرتے تھے کہ چلو آج سب مل کر دال بناتے ہیں۔ اب اس دال میں ان کا کریڈٹ بس پیسے دینے تک ہوتا باقی کام وہ دوسروں پر ڈال دیتے تھے۔ جب ان کی بے مروتی کھلنے لگی تو سب ہی انہیں دیکھ کر سرخ جھنڈا لہرا دیتے تھے۔ ہم نوکر تھوڑی ہی نہ تھے کسی کے۔ ایسے مردوں کو کیوں نہ کہا جائے کہ خود کھانا گرم کر لو؟

نوٹ: بہت سے لوگ فیمینزم کو ایک منفی عمل سمجھتے ہیں۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم فیمینزم کا اصل معنی سمجھیں۔ فیمینزم یعنی تحریک حقوق نسواں کا مطلب ہے کہ خواتین کو بھی معاشرے میں وہی حقوق ملیں جو کہ مردوں کو حاصل ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جیسے کام کی ایک جیسی اجرت، حقِ رائے دہی، اپنی زندگی پر مکمل حق، ہاں اور نا کہنے کی آزادی اور اپنی ذات کا وقار۔

ہمارے ہاں کچھ مرد حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ عورتیں اپنے حقوق کی جنگ اس لیے لڑ رہی ہیں کیونکہ وہ بے لباس ہو کر گھومنا چاہتی ہیں۔ نہیں، ہم بے لباس نہیں ہونا چاہتے بلکہ ہم اپنی مرضی کا لباس پہننا چاہتے ہیں۔ ہم آپ کی طرح سڑک کنارے کھڑے ہو کر مخالف جنس کو دیکھتے ہوئے ذو معنی اشارے یا اپنے جسم کے ’کمزور‘ حصے کو سہلانا نہیں چاہتے بلکہ ایسے حیوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کروانا چاہتے ہیں۔ ہم اس معاشرے کو عورت کے لیے بھی اتنا ہی محفوظ چاہتے ہیں جتنا یہ مردوں کے لیے ہے۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ باہر کی دنیا عورت کے لیے محفوظ نہیں ہے تو خود سے پوچھیں کہ آپ کی موجودگی کسی کے لیے ڈر یا خطرے کا باعث کیوں ہے؟ درندے انسان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اسی لیے چڑیا گھر میں انہیں پنجروں میں رکھا جاتا ہے تا کہ انسان ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔

Facebook Comments HS