احساس کی چڑیا

اصل بات ہے جذبات کی اور احساس کی۔ ہمیں جذبے، احساس اور لہر میں فرق ہی نہیں پتا۔ بعض اوقات ہم خوبصورتی یا دل لگی کی لہر کے ساتھ بہتے ہوئے خود کو عاشق سے معشوق سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی طرح ہم کسی کے کردار پر بات کرتے ہوئے یہ بھی نظر انداز کردیتے ہیں کہ ہمارا طعنہ کسی کے دل پر کتنا بڑا اثر کرتا ہے۔ ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا ملی ہے۔ اس لئے تمہارے ساتھ برا ہورہا ہے۔ ہمارا یہ جملہ ہوتا ہے اور اگلے کو زندگی کے سارے کردہ ناکردہ گناہ یاد آجاتے ہیں۔ ہمارا صرف ایک جملہ ہوتا ہے کہ کہ اگر تم اس کے ساتھ بیٹھی تھی یا بات کررہے تھے تو جاؤ اسی کی ساتھ رہو۔ ہمارا یہ جملہ نا صرف لاتعلقی کا اظہار ہے بلکہ اگلے کے کردار پر بہت بڑا حملہ ہونے کے ساتھ ساتھ وفا پر شک بھی ہے مگر ہمیں کیا! ہم تو احساس اور محبت کو نکال کر زندگیوں میں غصہ اور عداوت لے آئے۔
احساس کی یہ ناپیدگی اور صرف انجان لوگوں کے ساتھ نہیں ہم اپنے بہت قریبی دوستوں رشتوں سے صرف اس لئے لاتعلقی اختیار کرلیتے ہیں کہ ان کے رویے ہمارے مزاض سے مختلف ہیں۔ تو بھئی فرق کیا پڑتا ہے۔ یہ عادات و خیالات مختلف ہونے سے۔ اگر ایک جیسا ہی پیدا کرنا ہوتا تو وہی پیدا کرلیتا جسے ہر شے پر اختیار ہے۔ رشتے اور تعلق اس لئے بھی ترک کردیے جاتے ہیں کہ اب ان کی ضرورت نہیں۔ ہم نے ضرورتوں کو رشتوں کا نعم البدل سمجھ لیا۔ تو یہاں نہات افسوس کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ دنیا میں نعم البدل نام کی چیز صرف ایک دھوکہ ہے۔ احساس کا کوئی نعم البدل نہیں اور دکھاوا تو احساس کا آخری نعم البدل بننے کے قابل بھی نہیں۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا رویوں کے بدلنے سے تو اصل میں ہم چیخ چیخ کر اعلان کررہے ہوتے ہیں کہ رویوں کے زخموں نے مجھے اس قدر نڈھال کردیا ہے کہ مجھے اب مزید زخم بڑھانے بھی نہیں اور دکھانے بھی نہیں۔ اسی احساس کی عدم موجودگی اور جیت کے نشے میں ہم رشتوں کو آمنے سامنے لا کر کھڑا کردیتے ہیں۔ احساس کی عدم موجودگی کی ایک بہت بڑی وجہ انا ہے۔ ہمیں جیتنا ہے رشتوں سے اور رواجوں سے۔ مگر افسوس ان دونوں سے جیت ممکن نہیں۔ آپ کو انہیں ساتھ لے کر چلنا ہے بلکہ بنا کر رکھنی ہے۔ کیوں کہ ان سے فرار آپ کو دوہری اذیت میں مبتلا کردیتا ہے۔ ایسی کوئی بھی جیت آپ کے اندر ایک مستقل بے حسی پیدا کردیتی ہے۔ فرار کی واحد وجہ ذمہ داریوں سے چشم پوشی کرنا ہے۔ کسی بھی تعلق سے اگر احساس نکال دیا جائے تو اس سے منسلک ذمہ داریوں سے فرار مل جاتا ہے۔ اپنی بزدلی اور غیر ذمہ داری پر پردے ڈالنے کے لئے ہم روپ اور بھیس بدل لیتے ہیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے 2008 میں جب میں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو انسانی حقوق کے ماہرین کو یہ کہتے سنا کہ جرائم، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ہم بے حس ہوجائیں گے اور ان سب چیزوں کے عادی ہوجائیں گے۔ تو جناب! اذیتوں کا عادی تو کوئی نہیں ہوتا مگر بے حسی والی بات کافی حد تک درست ثابت ہوئی۔ کوئی نوجوان پولیس مقابلے میں مارا جائے یا کسی معصوم بچی کو بے دردی سے قتل کردیا جائے ہمیں بس کہانی لگتی ہے۔ دوسرے ہفتے بعد ہم بھول جاتے ہیں۔ دھماکے کی صورت میں پوچھتے ہیں سکور کیا ہے؟ یعنی کسی انسان کی موت کہانی یا صبر سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اس کے دنیا سے جانے پر کتنوں کے ارمان رخصت ہوئے کس کو پرواہ۔
ایک حل ہے اس کا کہ ہم کم از کم اپنے بچوں کو احساس کی دنیا میں واپس لے آئیں اور یہ تبھی کیا جاسکتا ہے کہ ہم ان کی دنیا میں احساس کو واپس لے آئیں۔ انہیں رشتوں کی اہمیت عملی طور پر سکھائیں۔ انہیں وہی بتائیں جو کر کے دکھا سکیں۔ وہی کریں جو بتائیں اور ان کے سامنے دیگر رشتوں، طبقات اور مسائل ذمہ داری سے ڈسکس کریں۔

