ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا بچپن چھوٹی بڑی شرارتیں کرتے گزارا۔ کس کس کو یاد ہے کہ ہم بچپن میں نصاب کی کتابوں میں کہانیاں رکھ کر پڑھتے تھے۔ کتنوں کو یاد ہے کہ والدین کے لاکھ منع کرنے کے باوجود جاسوسی ڈائجسٹ، خواتین ڈائجسٹ اور ”تین عورتیں، تین کہانیاں“ پڑھتے تھے۔ یہاں غور کرنے کی بات والدین کی طرف سے منع کرنا ہے۔ اگر ہم نے پڑھنا ہی تھا تو دینی و اصلاحی کتب اور نصاب کی کتابیں بھی پڑھ سکتے تھے مگر وہ تجسس کی کشش تھی کہ ہم نے تقریباً ہر وہ کام کیا جو ہمارے والدین نے منع کیا۔
غلطی صرف ہماری ہی تو نا، تھی بلکہ دونوں طرف تھی۔ والدین گھر میں ایسی کتب اور رسائل نہ لاتے یا کم از کم ہماری پہنچ سے دور رکھتے تو بھی افاقہ ہوسکتا تھا۔ والدین نے شروع سے طریقہ یہ رکھا کہ برف دھوپ میں رکھ کر کوشش کی کہ وہ پگھلے نہ۔ بہرحال اسے پگھلنا تو تھا۔ صورتحال آج بھی اس سے مختلف نہیں۔ ہم اپنے بچوں کے سامنے موبائل استعمال کرتے ہوئے قہقہے لگاتے ہوئے دنیا و مافیا سے بے خبر ہوجاتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ موبائل ہاتھ میں نہ لیں۔
Read more