لیڈری مروا بھی دیتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایت ہے کہ ایک مرتبہ چند گیدڑوں کو کہیں سے ایک کاغذ کی پرچی ملی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک گیدڑ کو لیڈر بنا کر بادشاہت کی نشانی کے طور پر اسے یہ پرچی دے دی جائے۔ چنانچہ ایک مقبول گیدڑ کو لیڈر بنا دیا گیا۔ یہ طے پایا کہ یہ پرچی اس کی لیڈری کی علامت ہے۔

لیڈر کے انتخاب کے بعد ایک گیدڑ کو خیال آیا ”بادشاہوں کے تاج ہوتے ہیں۔ ہمارے لیڈر کے پاس بھی کچھ ایسی شے ہونی چاہیے کہ دور سے دیکھ کر ہی پتہ چل جائے کہ وہ گیدڑوں کا لیڈر ہے“۔

یہ آئیڈیا سب گیدڑوں کو پسند آیا۔ ڈھنڈیا پڑی اور ان کو خربوزوں سے بھری ہوئی ایک ٹوکری مل گئی۔ خربوزے چٹ کرنے کے بعد ٹوکری کو الٹا کر لیڈر کے سر پر باندھ دیا گیا مگر اسے دکھائی دینا بند ہو گیا۔ فیصلہ ہوا کہ ٹوکری کو لیڈر کی دم سے باندھ دیا گیا۔

اب لیڈر تیار تھا۔ اس نے پرچی ہاتھ میں پکڑ کر سر سے بلند کی اور عوام سے خطاب شروع کیا۔ لیکن یہ بولنا ہی غضب ہو گیا۔ قریب ہی ایک شکاری اپنے کتوں کے ساتھ شکار کھیل رہا تھا۔ کتے گیدڑوں کے جلسے پر حملہ آور ہو گئے۔

اب خطرہ دیکھ کر باقی گیدڑ تو اپنے اپنے بھٹ میں چھپ گئے مگر لیڈر کی دم سے ٹوکری بندھی ہوئی تھی۔ وہ بھٹ میں جانے کی کوشش کرتا تو ٹوکری باہر پھنس جاتی۔

گیدڑ چلائے ”عظیم لیڈر اندر آؤ اندر آؤ۔ باہر بہت خطرہ ہے“۔
عظیم لیڈر نے سر بلند کیا اور نہایت باوقار انداز میں کہنے لگا ”میں اپنے تمام ساتھیوں کا نہایت شکرگزار ہوں۔ آپ نے مجھے عزت دی، مجھے پرچی دے کر لیڈر مقرر کیا، اقتدار کی نشانی کے طور پر ٹوکری میری دم سے باندھ دی۔ اب یہی ٹوکری مجھے مروا رہی ہے۔ یہ شکاری کتے مجھے نہیں چھوڑیں گے“۔

گیدڑ بولے ”انہیں اپنی پرچی دکھاؤ تاکہ انہیں پتہ چل جائے کہ تم ہمارے لیڈر ہو۔ یہ تمہارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو لیڈروں کے ساتھ کرنا روا ہے“۔
لیڈر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بولا ”میں انہیں پرچی دکھا چکا ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ کتے ان پڑھ ہیں۔ پڑھنے کی بجائے پرچی کھا گئے ہیں۔ اب یہ میرے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو لیڈروں کے ساتھ کرنا روا ہے“۔

ابھی لیڈر کی تقریر جاری تھی کہ شکاری کتوں نے اسے باہر کھینچا اور اس کی تکا بوٹی کر ڈالی۔
تو صاحبو، بات یہ ہے کہ پرچی کے بل پر لیڈر بننے کا یہ مطلب نہیں کہ اب آپ کا حکم ہر جگہ چلے گا، تاک میں بہت شکاری بیٹھے ہوتے ہیں، یہ لیڈری مروا بھی دیتی ہے۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1202 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar