”کھانا خود گرم کر لو“ پر مرد گرم کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حقوق نسواں کے حوالے سے پاکستانی معاشرے میں کافی مبہم خیالات پائے جاتے ہیں۔ معاملات اسقدر فارغ العقل ہیں کہ چند ماہ پہلے کسی تقریب میں چند مشہور و معروف ستاروں سے پوچھا گیا کہ ”فیمینزم“ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، تو چند لوگوں نے اس لفظ سے ایسے فرار اختیار کی جیسے کسی نے کرنٹ لگا دیا ہو۔ ایک مشہور خاتون سنگر نے تو یہ تک کہ دیا، ”اگر میں نے اس سوال کا جواب دیا تو میں بہت مشکل میں پڑ جاؤں گی۔ “ یہ خاتون سنگر چند دن پہلے اپنے آپ کو فیمنسٹ گردان چکی ہیں۔ معلوم نہیں واقعی ہدایت پا گئی ہیں یا کوئی اچھا سپانسر سامنے آیاہے جنہوں نے انہیں فیمینزم کا مطلب سمجھا دیا ہے۔

پچھلے دنوں پاکستان کے بڑے شہروں میں خواتین کے حقوق کے اداروں نے اور سماجی کارکنوں نے مل کر ”عورت مارچ“ نامی ایک تحریک منعقد کی جس میں معاشرے کے ہر طبقے اور ہر حلقے سے خواتین کو دعوت دی گئی تاکہ وہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کا پہلا قدم لے سکیں اور معاشرے میں ایک مثبت سوچ کا حصہ بنیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں رنگ برنگے کپڑے پہنے کئی خواتین اس مارچ میں پرزور طریقے سے شریک ہوئیں اور طرح طرح کے دلچسپ پلے کارڈ اٹھائے۔ کسی پہ لکھا تھا ”عورتوں کو قتل کرنا بند کرو“ ”غیرت کے نام پہ قتل بند کرو“ اور ”عورتوں پہ تشدد بند کیا جائے“ وغیرہ وغیرہ۔ ایک پلے کارڈ کچھ یوں بھی تھا ”اپنا کھانا خود گرم کر لو“۔ آپ بھی بے ساختہ ہنس دیے نہ؟ ہم بھی ہنس دیے اور اس پلے کارڈ کو بھول گئے۔

مگر چند جواں جہان لوگ اس کو دل پہ ہی لے گئے۔ سوشل میڈیا پہ وہ دھما چوکڑی مچائی کہ کچھ حد نہیں۔ ”یہ کیسا مارچ ہے؟ اپنا کھانا ہم کیوں گرم کریں؟ ارے ان عورتوں کو بس یہی آتا ہے، یہ کما کے دکھائیں! دہی لا کے دکھائیں! کیا عورتیں اب ہمارا کھانا تک گرم نہیں کر سکتیں؟ ان کا اور کام ہے ہی کیا؟ یہ ڈیڈی کے پیسوں پہ پلنے والی لڑکیوں کو کیا معلوم محنت کرنا کسے کہتے ہیں!“

نومبر 2017 کی ہی بات ہے، فیروز خان نامی شخص نے سرگودھا شہر میں اپنی بیوی کا قتل کر دیا۔ جانتے ہیں کیوں؟ فیروز کی بیوی نے اس کا کھانا ٹھنڈا پیش کیا تھا۔ چانچہ بات بڑھی اور فیروز نے اپنی بیوی، روشن بی بی، کا قتل کر دیا۔ اس پہ کیا آپ کی بے ساختہ ہنسی تو نہیں چھوٹ رہی؟

مصنفہ مارگریٹ ایٹووڈ کہتی ہیں، ”مردوں کو عورتوں سے ڈر لگتا ہے کہ وہ ان کے اوپر ہنسیں گی۔ عورتوں کو ڈر لگتا ہے کہ کہیں مرد انھیں قتل نہ کر دیں۔ “ پاکستان میں عورتوں پہ تشدد کے واقعات کی فہرست سوشل میڈیا پہ موجود ٹھٹھا اڑاتے نو بالغ حضرات سے کہیں زیادہ ہے۔ اور نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں عورتوں کے خلاف تشدد کے اعداد و شمار کسی بھی ذی الشعور اور با ضمیر انسان کو ہلا دینے کے لئے کافی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہر 3 میں سے 1 عورت پہ تشدد اس کے کسی جاننے والے مرد نے کیا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی عورتوں میں گھریلو تشدد کی شرع 21 سے 50 فیصد تک موجود ہے۔ حیران کن لگ رہا ہے نہ؟ مگر اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟ محض کھانا گرم کرنے پہ پاکستانی مرد حضرات کی انا پہ جو ضرب لگی ہے، وہ 21 سے 50 فیصد پاکستانی عورتوں پہ ہر روز لگتی چوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ کبھی باپ سے، کبھی بھائی سے اور کبھی خاوند سے مار کھانے والی یہ عورت کو خاموش کرنے والے لوگ یہی مرد تو ہیں، جو صرف خانہ گرم کرنے کے نام سے اتنا چراغ پا ہو جاتے ہیں کہ زندگی میں اصل حقوق دینے پہ تو بات ہی نہیں آتی۔

بات صرف یہ ہے کہ ”کھانا خود گرم کر لو“ کہنے کو تو صرف ایک مزیدار سا جملہ ہے لیکن اس کے پاس پردہ ایک سنگین اور تکلیف دہ حقیقت موجود ہے۔ اور وہ یہ ہیں کہ ہمارے یہاں ”گھر“ کا کام کرنا مرد کی ذمہ داری نہیں سمجھی جاتی بلکہ اسے بیوی، بہن یا نوکرانی کا ذمہ سمجھا جاتا ہے۔ مرد کیونکہ ”کما” کے لاتا ہے اس لئے اس کا ٹھاٹ اٹھانا عورت پہ فرض ہے۔ عورت کیونکہ گھر پہ رہتی ہے اس لئے یقینن وہ عیاشی کرتی ہوگی۔ بچوں کی تربیت، گھر کے باقی کے کام کاج تو یقیناً جادو کی چھڑی گھمانے سے ہو جایا کرتے ہیں۔ مرد، جس کو سالوں کی نوکری کے بعد اس کا آجر اس کو کسی ترقی یا اعزاز سے نوازتا ہے، عورت کو اس کے کئی سالوں کی محنت کو گالیوں اور ملامتوں اور ان 21 سے 50 فیصد کیسز میں مار دھاڑ سے نوازتا ہے۔

اپنا کھانا خود گرم کرنے پہ اتنا تلملانا اسی لئے منظر عام پہ آیا ہے کہ مرد کی شان و شوکت کو ایک واضح ٹھیس پہنچی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو مرد مال کما کے دے وہ کوئی اور کام بھی حل کے کر لے؟ ہاں البتہ اگر عورت نوکری کرے یا پیسے کمائے، تو بھی اس پہ گھر اور بچوں کی ذمہ داری پوری ہے۔ اس ہی لئے عورت کو نوکری کی ”اجازت“ دی جاتی ہے۔ اور اگر اجازت مل جائے تو ساری زندگی احسان بھی جتایا جاتا ہے۔

ہمارے یہاں مردوں کو اپنا کام کرنا نہ سکھایا جاتا ہے نہ گھر کے کام کرنے کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اور جو کام اچھا نہ سمجھا جائے۔ وہ سمجھ لیجیے کہ عورت کے حصّے میں ضرور آئے گا۔ اپنا کھانا خود گرم کرنا اور اس پہ ہونے والا رد عمل ہی وہ آئینہ ہے شاید۔ جو عورت مارچ نے ہم کو دکھایا ہے۔ جس معاشرے میں مرد کو اپنا کام کرنے میں اتنا زیادہ شرمندہ ہونا پڑتا ہے وہ عورت کے شانہ بشانہ چلنے سے آخر کتنا گھبراتا ہوگا۔ ؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •