۔۔۔۔ اور جوتا چل گیا
اردو ادب میں کبھی جوتے کی اہمیت کا پوری طرح سے اعتراف نہیں کیا گیا۔ یہ نقادوں کی کم علمی اور پڑھنے والوں کی بے خبری ہے جو وہ جوتے کے فیض سے محروم چلے آرہے ہیں۔ جس طرح انسان کے جسم میں پائوں کی اہمیت کا پوری طرح اعتراف نہیں کیا جاتا حالانکہ وہ دن بھر سارے بدن کا بوجھ اٹھائے چلتے رہتے ہیں، جہاں لے جائو، جس طرف موڑ دو اس طرف چلے جائیں گے۔ پھر بھی افسوس کی بات یہ ہے کہ باقی دوسرے اعضاء کے ذکر سے شاعروں کے دیوان بھرے پڑے ہیں۔ آنکھ، ناک، کان سے لے کر دل، جگر، پھیپھڑا، جانے کیا کیا۔ حد تو یہ ہے کہ جدید دور کے اہم شاعر افتخار عارف نے شکم کی آگ کا ذکر کر دیا۔ ذکر نہیں آیا تو پائوں میں پہنے ہوے جوتے کا۔ جوتے نہ ہوتے تو میں پوچھتا کہ کس کے سہارے اتنا چلنا پھرنا ہو رہا ہے۔ اس کا ساتھ نہ ہوتا تو من من بھر کے پائوں لیے گھر میں بیٹھے ہوتے۔
کلاسیکی شعراء کو پھر بھی ایسی باتوں کا تھوڑا بہت پاس تھا۔ چناں چہ میر اور غالب کے ہاں پائوں کا ذکر بھولے بھٹکے آتا رہتا ہے۔ میر کو پابوسی سے اتنا شغف تھا کہ سوچ کر دل میں گدگدی سی ہونے لگتی ہے۔ غالب نے پائوں کے چھالے آسمان کے ستاروں کے برابر پہنچا دیے۔ پھر ان کی ایک غزل مشہور ہوگئی جس میں پائوں کو ردیف باندھا گیا ہے ___سیم تن کے پائوں، راہ زن کے پائوں اور بُتِ نازک بدن کے پائوں۔ مگر مقطع میں خسرو شیریں سخن کے پائوں دھوکر پینے کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ جی متلا جاتا ہے، اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ پائوں میں جوتا نہیں تھا۔
غالب کی ایک غزل غلطی سمیت مشہور ہو گئی۔ اصل غزل دیوان کی طباعت میں غلطی کے ساتھ چھپ گئی۔ یہ کارستانی یقیناً مولانا حالی کی ہوگی کیونکہ انہوں نے اپنی غزل میں ایک شعر ان خضر صورت بزرگ کے خلاف لکھ رکھا ہے جس کی وجہ سے نمازیوں کو اپنی جوتیوں سے ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ غالب کے درست الفاظ میں اہم اشعار میں نقل کیے دیتا ہوں تاکہ آپ کتابت کی اغلاط ٹھیک کرلیں۔ معنی کے حساب سے درست اشعار یوں ہیں:
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار جوتا
اگر اورجیتے رہتے، یہی انتظار جوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز جوتا کوئی غم گسار جوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار جوتا
ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار جوتا
سبحان اللہ، سبحان اللہ! معنی کی کیا فراوانی ہے۔ زبان کا لطف اس پر مستزاد! جیسے نازک پائوں میں سبک سا جوتا ٹھیک بیٹھ گیا۔
میر اور غالب دونوں اردو ادب کی تاریخ میں جوتیوں سمیت داخل ہوئے ہیں۔ میر صاحب دلّی سے نکلے اور لکھنؤ پہنچے تو جس مشاعرے میں شرکت کا حال محمد حسین آزاد نے ’’آب حیات‘‘ میں لکھا ہے، اس میں کھڑکی دار پگڑی اور پچاس گز کے گھیر کےجامے کے ساتھ پائوں کی جوتی کا حال بھی لکھ دیا ہے۔ ’’ناگ پھنی کی انی دار جوتی، جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک….‘‘ مشاعرے میں اہل محفل میر کی وضع قطع پر ہنس دیے تو انہوں نے ’’کیا بودوباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو‘‘ والا قطع کہہ کر غزل میں داخل کر دیا۔ جوتا نہیں اچھالا۔ ورنہ نوک سے چوٹ لگ جاتی۔
میر کا حُلیہ آزاد نے بیان کر دیا مگر غالب جیسے بڑے شاعر کے ساتھ صریح زیادتی ہے کہ ان کے جوتوں کا حال ہمیں نہیں معلوم۔ غالب کی شکل صورت سامنے آتی ہے تو وہی کلاہِ پاپاخ۔ لیکن پائوں کے جوتے کا بیان نہیں ملتا۔ یہ نقادوں کی ناواقفیت کی صاف مثال ہے۔
پائوں پائوں چلیے تو اس ے بعد اگلا جوتا جو پڑتا ہے وہ اکبر الہٰ آبادی نے لگایا۔ انہوں نے جوتا تو جوتا، جوتا بنانے والی کمپنی بھی نظم کر دی۔
بوٹ ڈاسن نے بنایا میں نے اک مضمون لکھا
ملک میں مضمون نہ پھلا اور جوتا چل گیا
کانگریس پارٹی نے ننگے پائوں احتجاجی جلوس نکالا تو مولانا ظفر علی خان سے نہ رہا گیا۔ کہہ دیا کہ جی میں آتا ہے بڑھ کے دوں جوتا۔ یہاں سے جوتوں میں ادب و شاعری سے زیادہ سیاست داخل ہوگئی جیسے جوتےکے اندر کنکر۔ چلتے ہیں چُبھ رہا ہے، جوتا اتاریے تب کنکر نکلے گا۔
اس سے آگے بڑھیں تو جوتا ترقی پسند تحریک میں بھی شاملِ حال رہا ہے۔ بعد میں تو خیر جوتیوں میں دال بٹنے لگی تھی ورنہ اچھے دنوں میں جوتے بہت کرارے تھے۔ منٹو اور عصمت کے درمیان جوتا نہیں چلا مگر جوتے خریدنے پر بحث ہوئی۔ فحاشی کے الزام میں لاہور کی عدالت میں مقدمہ چلا تو جوتوں کی خریداری کو چل دیے۔ جوتوں کا یہ معاملہ ذکر منٹو کا اور بیان عصمت کا:
’’زری کے جوتے خریدنے ہم دونوں ساتھ گئے۔ منٹو کے پیر بہت نازک اور سفید تھے۔ جیسے کنول کے پھول۔ زری کے جوتے بہت جچنے لگے۔
’’میرے پیر بڑے بھدّے ہیں۔ میں نہیں خریدوں گی اتنے خوبصورت جوتے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ اور میرے پیر اتنے زنانے ہیں کہ مجھے ان سے شرم آتی ہے۔‘‘ مگر ہم نے کئی جوڑے جوتے خریدے۔
’’آپ کے پیر بہت خوبصورت ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’بکواس ہیں میرے پیر۔ لایئے بدل لیں۔
’’بدلنا ہی ہے تو لایئے سر بدل لیں۔‘‘ میں نے رائے دی۔
’’بخدا مجھے کوئی اعتراض نہیں‘‘ منٹو نے چہک کر کہا۔‘‘
لیکن کچھ نہیں بدلا گیا۔ ادبی تاریخ بتاتی ہے کہ پیر بدلے گئے اور نہ سر۔ بس جوتے خرید لیے گئے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ منٹو اور عصمت نے یہ جوتے عدالت کی کارروائی کے دوران نہیں اچھالے۔
زری کا نازک جوتا احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’’موچی‘‘ میں بھی آتا ہے کہ نادر اپنی شادی کے دن راجہ شیر خاں کے لیے تیار کیا جانے والا جوتا مانگ لیتا ہے۔ راجہ شیر خان کا جواب دو ٹوک ہے: میرا جوتا میرے پائوں اور ان کمینوں کے سروں کے لیے ہوتا ہے ….‘‘ اگر آپ اب بھی نہیں سمجھے ہیں تو جوتے کا اصلی مقام جان لیجئے۔
اتارتے وقت ایک جوتا دوسرے پر چڑھ جاتا ہے تو راجندر سنگھ بیدی کے ’’رحمٰن کے جوتے‘‘ میں سفر سامنے آجاتا ہے۔ لیکن یہ سفر خوش گوار نہیں رہتا۔ زندگی کی آخری منزل کی طرف لے جاتا ہے۔ جوتے نے یہ نہیں بتایا تھا۔
عظیم بیگ چغتائی کا فل بوٹ ذرا لمبا ہوگیا اور پرانا بھی۔ اسے چھوڑیے، دوچار اور جوتے گنوا لوں۔ الف لیلوی بغداد کے حوالے سے قرۃ العین حیدر نے بچّوں کے لیے کہانی کو اردو میں ڈھالا تھا۔ ٹوٹے پھوٹے جوتے، ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بار بار واپس آتے ہیں یہ جوتے، ہر بار نئی مصیبت ساتھ لے کر آتے ہیں۔ مگر یہ بات لوگوں کو کون سمجھائے؟ انتظار حسین کو ہندوستان کے سفر میں ایک خاص وضع کے جوتے کی تلاش رہی۔ بو والا پمپ، مگر جوتا نہیں ملتا۔ اس پر وہ فقرہ لگاتے ہیں کہ ہر دور جوتیاں بغل میں داب کر رُخصت ہوجاتا ہے۔ وقت تو چلا جاتا ہے، جوتے کی چوٹ رہ جاتی ہے۔
جوتے کا ادبی مقام اس قدر وسیع ہے کہ اس کے دوسری طرف کوئی سیاست دان آجائے تو جوتے کی توہین بھی ہوسکتی ہے۔ بہرحال، جو کچھ بھی آپ کہیے، سیاست دانوں کی طرف جوتے اچھالنا یا جوتے مارنا ہر اعتبار سے قابل مذمّت فعل ہے۔ لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اگر جوتے کی جگہ اس گستاخ شخص نے موزہ پھینکا ہوتا تو کیا ہوتا۔ موزے کی بوئے انفاس سے پھر وزیر موصوف کو ایک عرصے تک لوکل انز تھیزیا کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔


