بدھو میاں نے ہارس ٹریڈنگ کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بدھو میاں ایک پہاڑی علاقے میں رہتے تھے اور طبیعت کے نہایت سادہ تھے۔ انہیں دنیا کی کوئی خبر نہیں تھی۔ ایک دن وہ قریبی قصبے میں گئے تو ادھر ایک شخص تربوز بیچ رہا تھا۔ پہاڑی بدھو میاں نے ساری زندگی صحرائی تربوز نہیں دیکھا تھا۔ وہ قریب جا کر غور کرنے لگے کہ یہ کیا شے ہے۔ کچھ دیر غور و فکر کرنے کے بعد انہوں سوچا کہ اتنا بڑا انڈا کسی پرندے کا تو ہو نہیں سکتا، یہ ضرور کسی بڑے جانور از قسم گھوڑی کا انڈا ہو گا۔

لیکن بدھو میاں سوچے سمجھے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا کرتے۔ انہوں نے دکاندار سے تصدیق کی ”کیا یہ گھوڑی کے انڈے ہیں؟ “
دکاندار ایک سوال سے ہی تاڑ گیا کہ کس قسم کے گاہک سے پالا پڑا ہے۔ چمک کر بولا ”ہاں گھوڑی کے انڈے ہیں، مگر واپس رکھ دو۔ یہ بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ تمہارے لئے خریدنا ممکن نہیں ہو گا“۔

بدھو میاں نے قیمت پوچھی تو اس نے ہزار روپے فی انڈا کی قیمت بتا دی۔ بدھو میاں نے انٹی میں پیسے گنے تو ہزار سے کچھ اوپر ہی نکلے۔ انہوں نے باقی شاپنگ کو تو چھوڑا اور گھوڑی کا ایک انڈا خرید کر واپس گھر کی طرف چل دہے۔

راستے میں سوچنے لگے کہ ”جب میں گھر پہنچوں گا تو اس انڈے کو روئی کے ڈھیر میں ڈال کر ایک گرم سے کونے میں رکھ دوں گا۔ چند دن بعد ہی اس میں سے ایک شاندار بچھیرا نکل آئے گا۔ جب وہ کچھ بڑا ہو جائے گا تو میں اس پر سوار ہو کر گاؤں بھر میں گھوما کروں گا۔ سب لوگوں پر میرا خوب رعب پڑے گا“۔

چلتے چلتے وہ گاؤں کے قریب پہنچ گئے۔ ان کا پیاس اور بھوک سے برا حال تھا۔ گاؤں کے باہر چشمہ دکھائی دیا تو انہوں نے کپڑے اور تربوز ایک جھاڑی میں چھپائے اور خود پانی میں کود پڑے۔ پانی میں نہاتے ہوئے بھی ان کی نگاہیں جھاڑی پر ہی جمی ہوئی تھیں۔

اب کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس جھاڑی کے نیچے ایک بڑے سے بھورے خرگوش کا بھٹ تھا۔ وہ باہر نکلا اور جھاڑی سے سر نکال کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ بدھو میاں نے بھورے سے جانور کی جھلک دیکھی تو خوشی سے بے حال ہو گئے۔ ”یہ انڈا تو ٹوٹ گیا ہے اور اس میں سے بچھیرا نکل آیا ہے“۔ یہ سوچ کر وہ خوشی خوشی جھاڑی کی طرف لپکے۔ خرگوش نے ان کو اپنی طرف آتے دیکھا تو جان بچا کر ایک طرف دوڑا۔ بدھو میاں نے جلدی جلدی دھوتی باندھی اور اپنے بچھیرے کے پیچھے پیچھے دوڑے مگر اسے پکڑنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے یہ سوچ کر تربوز وہیں چھوڑ دیا کہ اس میں سے بچھِیرا تو نکل کر بھاگ گیا ہے، اب خالی چھلکے کا کیا فائدہ۔

بہت دلگرفتہ ہو کر انہوں نے اپنا سامان اٹھایا اور گھر کی طرف چلے۔ گھر پہنچ کر انہوں نے دکھی دل سے اپنی بیگم کو بتایا ”آج بہت نقصان ہو گیا ہے۔ میں نے ایک ہزار روپے خرچ کر کے گھوڑی کا انڈا خریدا تھا۔ گاؤں کے باہر چشمے میں نہانے کو رکا تو انڈے سے بچھیرا نکل کر بھاگ گیا“۔

یہ سن کر بدھو میاں کی بیگم کا بھی غم سے برا حال ہو گیا۔ وہ روتے روتے کہنے لگیں ”آہ کیا نقصان ہوا ہے۔ اگر تم اس بچھیرے کو یہاں لے آتے تو میں اس کی پشت پر بیٹھ کر اپنے میکے جاتی اور سب پر میرا بہت رعب پڑتا“۔

بدھو میاں یہ سن کر غصے سے کانپنے لگے۔ انہوں نے ایک چھڑی اٹھائی اور بیگم کی کمر پر خوب زور زور سے مارنے لگے۔ ساتھ ساتھ کہتے جاتے ”تم میرے بچھیرے کی کمر توڑنے کا سوچ رہی ہو، میں تمہاری کمر توڑ ڈالوں گا“۔

شور سن کر محلے والے جمع ہوئے اور ماجرا پوچھا۔ بدھو میاں نے ان کو اپنے نقصان کی تفصیل بتائی اور درخواست کی کہ بچھیرے کی تلاش میں ان کی مدد کی جائے۔ یہ دردناک کہانی سن کر گاؤں والے ان کے ساتھ چشمے کی طرف چل دیے۔

راستے میں ان کو ایک گڈریا ملا۔ اس نے یہ کہانی سنی تو خوب ہنسا۔ کہنے لگا کہ ”بچھِیرے انڈوں میں سے کہاں نکلتے ہیں۔ مجھے دکھاؤ کہاں ہے گھوڑی کا انڈا“۔ بدھو میاں سب کو لے کر جھاڑی کے پاس آئے اور دکھانے لگے کہ یہاں انڈا رکھا تھا جس میں سے بچھِیرا نکل کر بھاگ گیا۔

گڈریے نے جھاڑی کو الٹ پلٹ کیا تو اسے تربوز مل گیا۔ سب نے تربوز کا معائنہ کیا اور پھر بدھو میاں سے پوچھنے لگے ”یہ انڈا تو سالم ہے، بچھِیرا کہاں سے نکلا ہے؟ “
بدھو میاں نے تربوز ہاتھ میں لے کر خود دیکھنا شروع کیا۔ واقعی تربوز ثابت تھا۔ گڈریے نے ان کے ہاتھ سے تربوز چھینا اور کہنے لگا ”میں تمہیں بتاتا ہوں کہ بچھیرا کہاں ملے گا“۔ یہ کہہ کر اس نے تربوز کے دو ٹکڑے کیے، گودا خود کھا گیا اور بیچ بدھو میاں کو تھما کر کہنے لگا ”اسے اپنے صحن میں دبا دو۔ چند دن بعد ان انڈوں میں سے بچھِیرے نکلیں گے اور تمہارا آنگن بھر دیں گے“۔

تو صاحبو، بات یہ ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کی نیت جیسی بھی ہو، مگر بچھیروں کو قابو کرنا آسان نہیں ہوتا۔ بدھو میاں ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور بچھیرے دوسری پارٹیوں کے حصے میں آ جاتے ہیں۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1202 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar