قصہ پرویز مشرف کے پاسپورٹ کا
0848365 ایک پاسپورٹ کا نمبر ہے جو 5 جنوری 2018 کو وزارت خارجہ حکومت پاکستان کی جانب سے دبئی میں واقع پاکستانی کونسلیٹ سے جاری کیا گیا اور یہ 4 جنوری 2023 تک موثر رہے گا۔ یہ ایک ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہے اور حامل پاسپورٹ کے سابقہ ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے زائد المعیاد ہونے پر فی الفور جاری کیا گیا ہے۔ حامل پاسپورٹ پاکستانی قوانین میں درج سنگین ترین جرم "سنگین غداری” کے ملزم ہیں جن کے خلاف 2007 میں آئین توڑنے کے الزام میں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ خصوصی عدالت میں زیر التوا ہے جس میں مذکورہ ملزم کو عدالت کی جانب سے بارہا طلب کیے جانے کے باوجود مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے مفرور/اشتہاری قرار دے کر ان کی تمام جائداد ضبط کرنے کا حکم سنایا جاچکا ہے۔
پاسپورٹ ایکٹ 1974 کی دفعہ 8 کے تحت حکومت پاکستان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص جو کہ کسی بھی subversive سرگرمی میں ملوث ہو یا ماضی میں ملوث رہ چکا ہو یا پاکسان کے مفاد کے خلاف کام کر رہا ہو کا پاسپورٹ بغیر کسی شوکاز نوٹس کے اور دیگر صورتوں میں شو کاز نوٹس دے کر ضبط یا کینسل کر سکتی ہے۔ لیکن ہماری جمہوریت پسند ، سولین بالادستی، آئین و قانون کی حکمرانی اور ووٹ کا احترام کروانے کی دعویدار جماعت کی حکومت نے نہ صرف یہ کہ مذکورہ سنگین غداری کے ریاستی مفرور ملزم کے پاسپورٹ کو کینسل کرنے سے پہلو تہی برتی بلکہ اس پاسپورٹ کے ایکسپائر ہوتے ہی انہیں بلا چوں چراں نیا ڈپلومیٹک پاسپورٹ بھی تھما دیا اور کسی عدالت، اپوزیشن، میڈیا اور سوشل میڈیا کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
خیر عدالت سے کیا شکوہ کہ وہ تو پہلے ہی ضمیر کے تحت فیصلے سنانے کا اعلان کرچکی ہے۔ اپوزیشن سے گلہ بھی بلا جواز ہے کہ اپوزیشن کی ایک جماعت تو پہلے ہی پارلیمنٹ پر کھلم کھلا لعنت بھیج چکی ہے اور دوسری نے dejure ریاست کی بجائے defacto ریاست کی حمائت کا واضح عندیہ دے رکھا ہے۔ جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے تو انھیں تو بغیر عدت کے شادیوں جیسے گھمبیر مسائل کی سراغ رسانیوں سے فرصت نہیں اور سوشل میڈیا وطن عزیز میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو جھوٹ ثابت کرنے جیسے نیک کاموں میں جتا ہوا ہے۔ لے دے کر ہمارے جمہوریت پسندی، سولین بالا دستی اور ووٹ کا تقدس بحال کروانے کے دعویدار ہی بچتے ہیں اب آپ ہی بتائیے کہ ہم ان سے بھی اس بات کا شکوہ نہ کریں تو کس سے کریں۔ کیا ہمیں یہ سوچ کر کہ ہمارے "جمہوریت پسند” پچھلے چار سال سے مسلسل اسٹیبلشمنٹ کے زیرعتاب ہیں خاموش ہو جانا چاہیے؟


