گھر والی ۔۔۔ باہر والی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت جو بازی دل سے کھیلتی ہے وہ ہار جاتی ہے اور جو بازی دماغ سے کھیلتی ہے وہ جیت جاتی ہے۔ میں نے اپنی بقا کی بازی دماغ سے کھیلی اور زندہ بچ آئی مگر دلِ مرحوم کو اللہ ہی بخشے۔ وہ ایک اجنبی عورت تھی لیکن جب میرے شوہر کی زندگی میں آئی تو اس نے میرے شوہر کے دل و دماغ دونوں پر قبضہ کر لیا۔ میں اس کا نام نہیں لکھنا چاہتی اس لیے اسے ’صنوبر‘ کہہ کر پکاروں گی۔ پیار سے لوگ اسے ملک صاحب کی نئی دلہن کہتے تھے اور میں اسے میری سوتن کے نام سے پکارتی تھی۔

میری اس سے پہلی ملاقات اسی کے گھر میں ہوئی تھی۔ ابھی اس بیچاری کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ وہ ملک صاحب کے سوتیلے ماموں کی بیٹی تھی۔ وہ پٹھان قبائلی علاقے باجوڑ کی حسینہ تھی۔ یوں لگتا ہے باجوڑ میں بےجوڑ رشتے کرنے کی روایت سی پڑ گئی تھی۔ اسی لیے اس 19 سالہ حسینہ کو 43 سالہ دادا جی بنے میاں سے بیاہ دیا گیا۔

یہ شادی اگر ان حالات میں نہ ہوتی جن میں ہوئی تھی تو شاید ایک کامیاب شادی ہوتی۔ ملک صاحب کو اپنی وہ کزن جسے وہ شاید دو بار ملے تھے بہت اچھی لگی تھی۔ ان کی رال ٹپک ٹپک پڑتی تھی مگر پھر بھی پنجاب کی روایت کے مطابق وہ اس سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ملے تھے۔ محبت تو وہ کیا کرتے کیونکہ وہ ماسوا خود کے کسی اور سے محبت کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔ میں یہ بات برملا کہہ سکتی ہوں کہ وہ محبت کے معاملے میں بنجر آدمی تھے۔ انہوں نے ضد میں آ کر بغیر سوچے سمجھے اس لڑکی سے شادی کر لی۔ میرے ناراض ہونے کے ایک ہفتے کے اندر ہی وہ مرے ساتھ  صنوبر کے بھی شوہر بن گئے۔

ہوا کچھ یوں کہ میرے سنگین الزامات سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنی والدہ کی مدد سے ان سادہ لوح پٹھانوں کو ٹھگ لیا۔ انہوں نے  صنوبر کے خاندان کو بتایا کہ میں اپنے کسی آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی ہوں جبکہ میں اپنے بچوں کو لے کر گھر سے چلی گئی تھی اور اپنے سسر کے گھر آ گئی تھی۔ ان دنوں میری ساس صاحبہ الگ رہتی تھیں کیونکہ انہیں بھی زندگی کی اٹھا پٹخ اس نہج پر لے آئی تھی کہ وہ بھی اپنے گھر سے فرار ہو کر اپنی بیٹی کے گھر چلی گئی تھیں۔

صنوبر کے گھر والے قبائلی لوگ تھے۔ غیرت اتنی کہ بڑی بہن نے آ کر جھولی پھیلائی تو وہ سمجھے انکار بہت بڑی لعنت ہے۔ انہوں نے بچی بیاہ دی۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ شادی کسی محبت یا شہوت کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ صرف مجھے ستانے کی وجہ سے کی گئی تھی۔ میرے شوہر مجھے یہ بات بتانا چاہتا تھا کہ میں تمہارے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں اور خاندان کو یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ اگر میں برا ہوتا تو میرا دوسرا بیاہ کیسے ہو جاتا۔ مگر تقدیر پر کسی کا زور ہے۔ صنوبر بہت اصول پسند تھی۔ اسے جھوٹ دھوکہ بہتان اور دوسری شر انگیز باتیں بہت بری لگتی تھیں۔ وہ ایک ہی ماہ میں جان گئی کہ صاحب کن عادات و خصائل کے مالک ہیں۔

میاں جی کو اس کی کھری شخصیت ایک آنکھ نہ بھائی۔ ویسے بھی سچا بندہ انہیں کم ہی پسند آتا ہے۔  صنوبر بھی بڑی ضدی تھی۔ عورت جب تک گھر سے باہر ہو، بڑی دلفریب لگتی ہے لیکن جب گھر کے اندر آ جائے تو گھر والی بن بیٹھتی ہے۔ صاحب لڑکی کے لیے تڑپتے تھے لیکن وہ  صنوبر‘ جو اپنے پیروں کی پکی تھی‘ اس نے اپنا وجود روز سونپنا تو دور، وہ دکھانے کے لیے تیار نہ تھی۔ صاحب اسے گھر رکھنے کی کوشش کرتے اور وہ سارا دن روتی رہتی اور گھر والوں سے کہتی رہتی کہ مجھے نہیں رہنا ان میاں صاحب کے پاس۔

صاحب کو ایک اور فکر دامنگیر ہو گئی کہ ابا جی نے رہائشی مکان تو پہلی گھر والی کے نام کر دیا ہے اور لاہور والا گھر بھی آدھا پہلی بیوی کے نام ہے۔ وہ جب چاہے مجھے نئی نویلی دلہن سمیت گھر سے باہر پھینک دے۔ سو صاحب نے پھر سے مجھ سے رابطہ قائم کیا۔ میرا وہ معاملہ کہ

ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسم میں پھر آ گئے ہم

اب میری حالت سنیے۔ ایک ماہ میں میرے کردار کا جو پوسٹ مارٹم سسرالیوں نے کیا وہ ایک جگہ میرے لیے میاں سے علیحدہ رہنا ایک اذیت ناک تجربہ تھا۔ ان حالات نے مجھے بہت لاغر کر دیا۔ نہ میں کھا سکتی تھی نہ پی سکتی تھی نہ سو سکتی تھی۔ ایک ماہ میں میرا سولہ کلو وزن کم ہو گیا۔ میں ایک نفسیاتی بحران کا شکار ہو گئی۔

میں نے اس شخص کو دوبارہ قبول کر لیا کیونکہ میں اس سے محبت کرتی تھی۔ لیکن وہ شخص جو مجھ پر اتنے ظلم کرتا تھا میں اس سے کیوں محبت کرتی تھی؟۔ اور میری طرح کی سینکڑوں عورتیں اپنے ظالم و جابر شوہروں سے کیوں محبت کرتی ہیں۔ ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا میں برسوں سے جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آخر میں نے ڈاکٹر خالد سہیل کے انسانی رشتوں کے بارے میں کالم پڑھنے شروع کے اور مجھے اس سوال کا جواب ملنا شروع ہوا۔

ڈاکٹر سہیل نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ انسانی محبتیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ بعض محبتیں صحتمند ہوتی ہیں اور بعض غیر صحتمند اور نفسیاتی طور پر بیمار۔ صحمند محبت کی بنیاد عزت و احترام پر ہوتی ہے۔ وہ شوہر بیوی کی عزت کرتا ہے اس کی رائے کا احترام کرتا ہے اور اس کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتا ہے۔ صحتمند محبت میں دو محبوب ایک دوسرے کو برابر سمجھتے ہیں۔ لیکن غیر صحتمند محبت کی بنیاد ظلم جبر اور استحصال پر ہوتی ہے۔

مجھے اندازہ ہوا کہ میری محبت غیر صحتمند تھی۔ اسی لیے میں نے اسے قبول کر لیا اور اس شخص نے میری کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور میرا استحصال کیا۔ لیکن یہ باتیں مجھے اب سمجھ میں آ رہی ہیں۔ ان دنوں میں سادہ لوح تھی اس کی شاطرانہ باتوں میں آ گئی۔ پہلے مجھے اپنے آپ پر بھی غصہ آتا تھا کہ میں نے اس کے ظلم کیوں برداشت کیے۔ اب میں نے خود کو معاف کردیا ہے۔ ڈاکٹر سہیل کی تحریریں پڑھنے کے بعد میں قدرے سکون سے ہوں۔ اب میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔ کیونکہ اب مجھے بہت سی باتیں سمجھ میں آنے لگ گئی ہیں۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” پر کلک کریں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2