خوبصورت سواحلی زبان اور شام کی چائے


اگر لفظ ”سواحلی“ پڑھ کر آپ کے ذہن میں بھی اردو والا ”ساحل“ آتا ہے تو آدھی بات آپ سمجھ گئے ہیں
مشرقی افریقہ میں عظیم جھلیوں کے اطراف کے کم از کم چار ممالک کی قومی زبان سواحلی، تنزانیہ، کینیا، یوگنڈا اور کانگو میں دس کروڑ سے زائد لوگوں کی زبان ہے
سواحلی زبان عربی، سنسکرت، انگریزی، لاطینی، جرمن اور فارسی سمیت بہت سی زبانوں کے الفاظ سے مل کر بنی ہے۔

شروع میں عربی رسم الخط ہی رائج تھا تاہم بعد میں آنے والے عیسائی مشنریوں نے لوگوں کے ساتھ ساتھ زبان پر بھی قسمت آزمائی اور رسم الخط لاطینی میں تبدیل ہو گیا
یوں تو تمام ہی زبانیں الفاظ ایک دوسرے سے مستعار لیتی ہیں خود اردو مل کر دوسری زبانوں سے بنی ہے لیکن اس ضمن میں سواحلی کا جواب نہیں
فارسی کے اثرات سواحلی زبان پر تجارتی تعلقات کی بدولت بہت نمایاں رہے
چنانچہ یہاں کی چائے وہاں بھی چائے ہے تاہم ہمارا اچار سواحلی میں اچاری بن جاتا ہے

سامراجی اثرات کے زیر اثر سواحلی زبان میں بہت سے پرتگالی الفاظ بھی مد غم ہو گئے ہیں۔ لہذا ٹیبل یعنی میز مزا کہلاتا ہے اور پیسو وہاں پر پیسہ بن جاتا ہے اور یہاں کی سرکار وہاں پر سری کالی کہلاتی ہے

جنگ عظیم اول کے دور سے برطانوی اور جرمن افواج کی موجودگی کی بدولت انگریزی اور جرمن دونوں زبانوں کے اثرات سواحلی زبان پر مرتب ہوے

چنانچہ بائیسکل سواحلی میں بایسکلی
اور اسکول سکولی ہے
سواحلی زبان بلاشبہ ایک گلدستے کی طرح وجود میں آئی مشرقی افریقہ کے اس خوبصورت خطّے میں آنے والے پردیسی لوگوں سے بات چیت اور روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے
۔ ایک خوصورت زبان کے خد و خال نمایاں ہوئے
۔ اردو زبان سے ملتے جلتے کچھ اور لفظوں کا لطف لیجیے۔
۔ سواحلی میں برف، برفو ہے اور دوست رفیقی کہلاتا ہے

قریبو خوش آمدید کو کہتے ہیں جو قریب کی بگڑی ہوئی یا سنوری ہوئی شکل ہے
مرحبا، مرحبا ہی ہے

آسانتے، جو آسانی دے سے ملتا جلتا ہے شکریہ کا طریقہ ہے۔
پولے پولے آہستہ آہستہ کو کہتے ہیں جو ہماری پنجابی میں تقریباً انہی معانی میں مستعمل ہے

لفظ سفاری، سفر کے لئے استعمال ہوتا ہے اور دن سارے کے سارے ہی جمعہ ہیں
ہفتہ ”جمعہ مسی“ اور اتوار جمعہ پلی کہلاتا ہے۔
جبکہ جمعہ کا دن دلچسپ طور پر اجمہ کہلاتا ہے

گنتی میں چھ ستہ اور سبع سات عربی والے ہی ہیں
صبح کا وقت الفجری کیوں کہلاتا ہے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں

گدھے کو پندا اور زیبرے کو پندا ملیا کہنا غالباً اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ یہ دونوں جانور ایک دوسرے سے کس قدر ملتے جلتے ہیں
شب بخیر۔ لالا سلامہ ہے
الودع۔ ۔ ۔ بدائی
ملائکہ۔ فرشتے اور خدا کو سواحلی میں مولانا کہیں گے
آخر میں سواحلی کے معروف شاعر کی نظم کا آزاد ترجمہ

شام کی چائے

سر شام جب ہم آنگن میں بیٹھے چائے پیتے ہوئے
بچوں کو خوشی سے جھولے جھولتے دیکھ رہیں ہیں

تو اس بات کا ادرک بھی ضروری ہے کہ
عمر کی رسی اب بوسیدہ ہو چکی ہے
اور ہم سب اس جھولے سے بہت جلد گر سکتے ہیں
کبھی تم جھولا جھولتے ہووے
نصف دائرے سے بھی آگے دکھیل دیتے تھے
اور کبھی میں تمہیں گرنے سے ذرا پہلے تھام لیتا تھا
یوں ہم باری باری
جھولا جھولانے کا یہ کھیل جاری رکھتے
اور اونچا جانے کے اس کھیل میں
اپنے خوابوں اور امیدوں پر قہقہے لگاتے

اب ہم ان گمشدہ خوابوں کا انتظار کرتے ہیں
وہ خواب جو شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے
سو چلو اپنی شام کی چائے
اپنے اپنے خوابوں کی طرح اپنے حلق میں انڈیل لیں

مگر مسکراتے ہوئے
اور پھر ہونٹوں پہ لگی چاشنی کو چکھ لیں
اور یاد کریں اس گھڑی کو جب ہم پہلی بار

آموں کے پیڑ تلے ملے تھے (میٹھے)
کسی مضبوط شاخ کو تلاش کرتے ہوے
جو ہمارے جھولے کا بوجھ اٹھا سکے
لیکن اب چپ چاپ جانے سے پہلے

وہ جھولے کا ادھورا نصف چکر پورا کرنے کے لئے
ضروری ہے کے
چائے کے یہ دو کپ
صاف ہوں
۔ پہلے کی طرح۔ مگر
(Poem By : Euphrase Kezilahabi)

Facebook Comments HS