ملاؤں نے ہمارے ہیروز کو بدعتی بنا کے کیوں پیش کیا؟

اسلامی افواج (مجاہدین) جو بنجر زمین سے ابھری انہوں نے نہ صرف اسلام بلکہ پوری دنیا کی سوچ کو نئی جلا بخشی۔ وہ فاتحین جو کہ عرب کی خالی اور بنجر سر زمین سے نکلے تھے ان کا سامنا علمی طور پر زرخیز بازنطینی اور ساسانی جڑواں تہذیبوں سے تھا، جو نئے فاتحین کے سامنے تھیں۔ مسلمانوں میں ناخواندہ افراد کی بڑی تعداد تھی انہوں نےمقامی خواندہ طبقے کو حکومت میں مدد کے لیے اپنے ساتھ شامل کیا، ساتھ ساتھ انہوں نے، یونانی علم بھی حاصل کیا؛ ان دنوں میں یورپ کے پاس یونانی علم کاخاصا حصہ تھا۔ اس علم کو بعد میں عربوں نے جو یونانی زبان کے ماہر بھی تھے لاطینی زبان میں ترجمہ کیا۔ یونانی کلچر کو سکندر اعظم کی افواج نے مشرق میں پھیلایا، اس طرح یہ ایک” خواندگی کا جہاد” تھا۔ جو تمام مسلم ممالک میں ایک مہم تھی کہ ادب و جدید سائنس میں مہارت کی تعلیم حاصل کی جائے۔ ڈاکٹر مہاتیر ایک سچے ویژنری لیڈر تھے، جنہوں نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ ابتدائی دور کے مسلمان عظیم سکالرز تھے جنہوں نے ریاضی اور سائنس میں مہارت حاصل کی اور آج بھی مسلمانوں کو اپنے اندر رواداری اور عقلیت پسندی کو پروان چڑھانا چاہیے جو علم حاصل کرنے کے لیے لازم ہے۔
عربی زبان 500 سال سے علم اور سائنس سے موافق تھی، یہ جدید دور کی جامعات میں الجبرا، ستاروں کے ناموں حتیٰ کہ سائنسی نظریات کو بھی پھیلانے کا ذریعہ تھی۔ سائنس نے اسلام کے سنہرے دور میں خوب ترقی کی کیونکہ اسلام میں عقلیت پسندی کی مضبوط روایت تھی، جسے مسلمان مفکریں کے ایک گروہ متعزلہ نے آگے بڑھایا۔ یہ روایت انسان کے اپنے اختیار پہ زور دیتی تھی، اور تقدیر کےنظریے کے خلاف تھی جو کہ یہ سکھاتا ہے کہ انسانوں کے لیے ہر بات پہلے سے ہی خدا کی طرف سے طے کر دی گئی ہے۔ متعزلہ فرقہ کی” روشن اعتدال”کے زیر اثر علم پھیلا۔ عقلیت پسندی کی یہ روایات اس وقت پیچھے دھکیل دی گئی جب بارہویں صدی میں روایتی کٹر پسندی بیدار ہوئی جس کے سرغنہ غزالی تھے جوکہ آورد کو عقل پر اور تقدیر کو انسانی اختیار پہ ترجیح دیتے تھے۔ امام نے علم ریاضی اور علم طب کو فرض کفایہ قرار دیا؛ انہوں نے حتمی طور پہ مذہبی علم کو اس سے اعلیٰ درجے پر رکھا۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ ہمارے ماضی کے مسلم مفکرین، اور آج کے کٹر مسلمان خود کو شائد غزالی کی طرز پہ ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں نہ کہ کسی بھی مسلمان عقلیت پسند الرازی، المعیاری یا عمر بن خیام کی طرز پہ۔
غزالی نے ابن سینا اور فارابی کے فلسفیانہ خیالات پر حملہ کیا۔ اس کے حملے کا نشانہ ارسطو کے چند ایک فلسفے جبکہ افلاطون اورنو افلاطونی نظریات بھی تھے۔ ابن سینا(980-1037)، اسلام کی روایت کے سنہرے دور کے ابتدائی فلسفیوں میں سے تھا جس دور میں فارابی اور ابن رشد بھی شامل تھے۔ اسے الشیخ رئیس (داناوں کا سردار) بھی کہا جاتا ہے، یہ خطاب اسے اس کے شاگردوں نے دیاتھا۔ اس کے فلسفیانہ نظریات غزالی کے حملے کا بنیادی شکار بنے جو کہ اسلام پہ فلسفے کہ اثر سے متعلق تھے۔ یورپ میں اسے اس کے مشہور طبی کارنامے ”قانون ” کی وجہ سے ”طبعیات کے شہزادے”کےلقب سے پہچانا جاتا ہے۔ لاطینی ترجموں میں اس کے کام سے بہت سے عیسائی فلاسفر متاثر ہوئے، ان میں سب سے واضح ٹامس اکوینس ہے۔ مسلم دنیا میں یونانی فلسفہ پہلے عربی فلاسفر کندی(800-865) کے ذریعے پھیلا۔ اس نے یونانی سائنس اور فلسفے پہ بہت لکھا۔ اس نے دوسرے لوگوں کو فلسفہ پڑھنے کی وہ بنیاد فراہم کی جس کی وہ پیروی کر سکتے تھے۔ اس کا مرکزی نقطہ یہ پختہ نظریہ تھا کہ یونانی وراثت ایسی اہم سچایاں لیے ہوئے ہے جسے مسلمان نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ایک ریاضی دان کے طور پر وہ ارسطوائی منطق کی اہمیت کو جان چکا تھا۔ فارابی کے مطابق مثالی حکمران کو ذہین، اور ساتھ ہی سائنس، فلسفےاور مذہب میں تعلیم یافتہ ہونا چاہیے۔ فارابی کے مطابق مسلم ریاست کے لیے بہترین حکمران ایک”فلسفی بادشاہ ”ہونا چاہیے یہ وہ تصور ہے جسے افلاطون نے ”ریپبلک”(ریاست) میں بیان کیا ہے۔ فارابی کے کارناموں میں سیاسی و سائنسی فلسفوں کے علاوہ، منطق کو دو طرح کی اقسام تخیل اور ثبوت میں تقسیم کر کے اس کا مطالعہ آسان بنانا ہے۔ اس نے بہت سی سماجی کتابیں لکھیں جس میں اس کی مشہور کتاب ارا ہل المدینہ الفضیلہ (مثالی شہر) شامل ہے۔ اس کی نفسیات اور مابعد الطبعیات کی کتابیں زیادہ تر اس کی اپنی تحقیق پر مبنی ہیں۔ اسے فلسفے، سائنس اور سیاست میں دلچسپی زیادہ تر اساتذہ اور سفر سے متاثر ہونے کی وجہ سے تھی۔
فارابی کا والد ایرانی النسل تھا اور ترکی کے دربار میں کمانڈر تھا۔ رازی شائد تمام اسلامی دنیا کا سب سے عظیم فری تھنکر تھا اور اسلامی دنیا کا اور تمام دنیا کا سب سے بڑا ماہر طبعیات تھا۔ رازی رائے (تہران کے قریب) کا رہائشی تھا، جہاں اس نے ریاضی، فلسفہ، علم فلکیات، اور ادب اور شائد الکیمیا بھی پڑھا۔ بعد میں وہ بغداد گیا جہاں اس نے علم طب پڑھا۔
جدید نوبل انعام یافتہ جو اسلامی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اپنے نوبل خطبات میں فارابی، ابن سینا، خیام یا رازی کا حوالہ دیتے ہیں؛ اسلام کے یہ عقلیت پسند مدرسوں میں تقریبا بھلائے جا چکے ہیں۔ فلسفیانہ مباحث کی تاریخ کا آغاز الغزالی اور ابن رشد سے ہوا یہ اسلامی مشرق میں عام طور پہ، اور سلطنت عثمانیہ میں مسلمانوں کے اندلس میں زوال کے بعد خاص طور پہ جاری رہا۔ در حقیقت، مشہور سلطان، مہمت دوئم (عقیدہ فاتح )1451-1481)نے سلطنت کے دو علما کو حکم دیا کہ وہ غزالی اور ابن رشد کی بحث کے خلاصہ پہ کتاب ترتیب دیں۔ یہ دونوں تحقیقی کام شائع ہوئے جن میں سے ایک اب متنازعہ ایٖڈیشن میں ہے۔ تاریخ کے اس حصے کو لکھنے کی ضرورت ہے، تاہم ابھی تک کوئی ذمہ لینے والا نہیں ہے۔ اسلام میں راسخ العقیدہ مسلمان ابن سینا (980-1037)کندی(800-865)اور ابن رشدکے مقالات کو سوچ کی تشکیل کے بنیادی سلیبس کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دیتے۔ ایک طالب علم اسلام کے اصل ہیروز کے بارے میں کم ہی جانتا ہے؛ ہم ابن سینا اورابن رشد کو مخصوص احترام دیتے ہیں لیکن ان کی سوچ کو اسلام کے معاشرتی ماحول کا حصہ نہیں بناتے۔ ہم انہیں اسلام کی کامیابی کے طور پر تو اپناتے ہیں لیکن ان کے افکار کو بھلا دیتے ہیں۔ اگر ابن رشد اور ابن سینا کے افکار اسلام کے مکالمے میں رہتے تو اسلام کے عروج کا سورج کبھی نہ غروب ہوتا۔ ہم خیام کو ایک عظیم شاعر کے طور پر بیان نہیں کر سکتے جبکہ اس کے پیغام کو مکمل طور پہ بھلا دیں۔ ہم اس سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اس کی سوچ ہمیں اجتماعیت کے تعین میں مدد کرتی ہے۔ سنہرے دور کے ان مفکریں اور ان کی کتب کے احیا کی اور انہیں تعلیمی اداروں کا لازمی حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ خیام کو ملحد، فلاسفر اور عقلیت پسند مذہب کے پیروکار کے طور پہ بیان کیا گیا ہے۔ خیام کی شاعری کے موضوعات میں موت کا یقینی ہونا، ناقابل جواب سوالات کا بے مقصد ہونا، کائنات کا پراسرار ہونا اور موجودہ لمحے کو جینا اور اس سے لطف اندوز ہونا شامل ہیں۔ اسے رباعیات سے لی گئی لائینوں میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے :
”کتنی اور مساجد، نمازیں اور روزے؟اس سے بہتر ہے کہ شراب خانوں میں مانگتے پھرو۔ خیام، شراب پیو، کیونکہ جلد ہی تمہارا خاکی بدن ایک جام، پیالے یا مرتبان میں بدل جائے گا۔ ”

