بنگال کی علیحدگی اور قوم کی ساخت کے بارے میں کچھ خیالات

بنگلہ دیش ایک قوم تھی اور ہے۔ بنگال کی ایک زبان، ایک جیسی شاعری، ایک طرح کی ثقافت رہی ہے۔ اگر ان کا موازنہ پنجاب اور جنوبی پنجاب یا سندھ کی نئی نہری، زرعی زمین کی ثفافت کے ساتھ کیا جائے تو وہ ثقافتی طور پر بہت آگے تھے اور کہیں زیادہ سیکیولر تھے، وہ نوبل انعام یافتہ ٹیگور اور نذرالاسلام کی سرزمین تھی۔ ہماری ریاست کی طرح وہ مذہب کی نازک ڈور کے ساتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں۔ ان

Read more

کامیابی محنت سے ملتی ہے یا قسمت سے؟

کامیابی صرف چیزیں بیچنے میں مہارت، بہت زیادہ فنون اور مہارتوں پر عبور، اعتقاد کی طاقت نہیں ہے یا انتہائی مقابلے کی دوڑ والے معاشرے کی مثال ہے جو ہمارے ذہن میں بچپن سے ہی ڈال دی جاتی ہے ہنر، ذہانت، رسک لینے، سخت محنت کرنے میں نہیں ہے۔ سنیے اور جانئیے کہ ہم کاربن کی زندگی کی پیدا وار ہیں، ہمارے پاس کاربن کوئلے اور ہیرے کی مختلف شکلیں ہیں۔ سب سے بنیادی بات جو ایک زوال پذیر کاربن

Read more

سوشل میڈیا اظہار ذات ہے۔اپنے ہیرو خود بنیں

فیس بک نے میری بہترین خوبیوں کو اجاگر کیا ہے اور بری باتوں کو دبا دیا ہے۔یقینا میں کسی بے نام شخص کی طرح منظر سے غائب نہیں ہونا چاہتا۔میں چاہتا ہوں کہ میری سوچ سائبر ذرات کی صورت اس ورچوئل دنیا میں رہے۔ میں 35۔7بلین لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہتا۔میں ایک بے نام شخص نہیں ہو نا چاہتا بلکہ میں ایک ایسا انسان بننا چاہتا ہوں جس کی سوچ اور خیال باقی رہےمیں چاہتا ہوں کہ میرے پوتے

Read more

احترام یا منافقت

عمران خان کے ننگے پاوں مدینہ میں جہاز سے اترے پہ آپ کی منصفانہ رائے کیا ہے ؟ کیا یہ احترام کا تقاضا ہے یا پھر ایک نئے ٹرینڈ کی بنیاد رکھی گئی ہے؟ میں نے سنا ہے کہ خلیفہ عمر فاروق رض مدینہ میں ہمیشہ ننگے پاوں گھومتے تھے۔ یہ مدینہ منورہ سے عقیدت بھی ہو سکتی ہے اس سے پہلے کئی عظیم ہستیوں نے کبھی مکہ مکرمہ اور کبھی مدینہ منورہ میں جوتے نہیں پہنے۔ جواب: جی امام

Read more

بادشاہ سلامت ہمارے پاس الفاظ ہی تو ہیں انہیں زنجیرمت پہنائیے

سنسر شپ اور طاقت کے زور پہ اظہار رائے کو دبانا ہمیشہ ناکام کیوں رہتا ہے؟ جب سچ کو دبایا جائے اور خاموش رہنے کا مطالبہ کیا جائے تو خاموشی در حقیقت جھوٹ ہوتی ہے۔اس لیے ہمیں کہنے دیجیے ہمارے الفاظ ہمارے جذبات کا اظہار ہیں سوچ اور اظہار رائے پر لگائی گئی پابندی تاریخ میں ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ہمیشہ ایک جھوٹا شخص ہی اظہار رائے کے آزادانہ استعمال سے پریشان ہوتا ہے سچے انسان کو اس کی پرواہ کبھی

Read more

مسلمانوں کو کھوئی ہوئی عظمت کی بحالی کے لیے کیا کرنا چاہیے

سائنس اسلام کے دورِ عروج میں پھیلی پھولی کیونکہ اسلام میں عقلیت پسندی کی ایک مضبوط روایت تھی جسے مسلمان مفکرین متعزلہ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ روایت انسان کے آزادانہ فکری چناؤ کو مانتی ہے جو کہ تقدیر اور یہ کہ ہر بات پہلے سے لکھی جا چکی ہے کی روایت کے سخت مخالف بات ہے۔ متعزلہ کے رواداری والے راستے کی بنا پہ علم نے ترقی پائی۔ اس عقلیت پسندی پہ ضرب بارہویں صدی میں پڑی جب

Read more

تاریخ کے دسترخوان پہ ہماری حرام خوری

جون ایلیا نے کہا تھا ہم تاریخ کے دستر خوان پہ ہزاروں سالوں سے حرام خوری کر رہے ہیں۔ یہ بات سچ ہے اور سچ کڑوا ہوتا ہے۔ مولانا آزاد کہتے ہیں کہ مسلمانوں نےبرصغیر پہ ایک ہزار سال بادشاہت قائم نہیں کی تھی بلکہ وہ خدا بن بیٹھے تھے۔ کوئی جمہوریت تھی نہ ہی آئین۔ اصول ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ ہمیں ہزار سال تک کے اعمال کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ احساس برتری کا یہ

Read more

پشتون قوم کو موجودہ دور میں اپنی بقا کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

آج کا دور ذہانت کا اور ورچوئل کنٹیوٹی کا دور ہے۔ اس دور میں اپنی بات پہنچانے کے لیے ذہانت اور علم درکار ہے۔ جو اہمیت دلیل اور عقلی توجہہ کو حاصل ہے وہ بندوق نہیں ہو سکتی۔ ایک سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ پشتون لوگوں کے پاس خود کو سماج کا اہم جزو ہونے کو ثابت کرنے کے لیے بصیرت کی بجائے بندوق کیوں ہے؟ پشتون قوم اپنے پشتون ولی کوڈ کا مکمل مجسم ہیں۔ پشتون لفظ پانچ

Read more