ملاؤں نے ہمارے ہیروز کو بدعتی بنا کے کیوں پیش کیا؟


naguib mahfouz

یہ بات جاننا زیادہ ضروری ہے کہ مسلم دنیا کو کیا ہوا ہے؟ یہ اپنی تباہی کی طرف کیوں گامزن ہے، جس کی وجہ سے یہ چودہویں صدی کے بعد سے زوال پزیر ہوئی جس کو حل کرنا ممکن نہیں رہا۔ جینیاتی نقطہ نظر سے، مسلمانوں اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں۔ تاریخی لحاظ سے، یقیننا، عرب اور سپین کے مسلمان اور عرب میں تہذیب اپنے عروج تھی جب نام نہاد عیسائی یورپ میں تاریک ادوار کا دور دورہ تھا۔ بلاشبہ، عربوں کے عالمانہ کام اور یونانی فلسفےاور علم فلکیات کے تراجم کے بغیر، یورپی ترقی پانچ سو سال میں ہونا ممکن نہیں تھی۔ بعد میں انہیں یونانی مسودات کے لاطینی میں عربوں نے کے تراجم تھےجو کہ پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کے تشریح سے لبریز جنہوں نے دسویں اور گیارہویں صدی میں عظیم مفکرین پروان چڑھائےجو مشرق میں تھے۔ ان میں ابو علی حسن ابن الہیثیم (ایک ماہر طبعیات پیدائش 965، ایران)، ابو ریحام محمد البیرونی؛ بیرونی(ماہر فلکیات، ماہر ریاضی اور ماہر جغرافیہ، پیدائش973)، ابو علی حسین ابن سینا، (جنہیں ابو سینا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ماہر طبعیات اور فلاسفر، پیدائش 981)، رازی، (865-925)، ہیثیم صوفی(ماہر فلکیات، 903-986)، شاعر عمر خیام (1048-1131)، شاعر معاری(973-1058)شامل ہیں۔

جب اسلامی افواج (مجاہدین)عرب سرزمین سے نکلیں، سپین سے ایران تک کا علاقہ فتح کیا، انہوں نے افلاطون، ارسطو، فیثا غورث، ارشمیدس، اور دوسرے یونانی مفکریں کے کام کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ازمینہ وسطی کے دوران مسلم دانائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یونانی عقلیت پسند فلسفے کا مسلمان مفکرین پہ اثر ہونا ہے۔ علما کہتے ہیں کہ قرون وسطیٰ میں سائنس نے اسلام میں اچھی ساکھ بنائی۔ مزید یہ کہ یونانیوں کے فلسفے پر اثر نے، قرون وسطیٰ کےمسلمان دانشوروں کی بڑی تعداد نے عقل کو عقیدے پہ ترجیح دی۔

یہ ہمارے زرخیز ماضی سے رابط ہے، جس نے ہمارے موجودہ دور کے ہیروز نے خود کو ماضی کے عقلیت پسندوں کے ساتھ جوڑا۔ شیریں عبادی ایک اور نوبل انعام یافتہ ہے جو ایران میں بنیاد پرستوں کے ہاتھوں مصیبت اٹھا رہی ہے۔ شریں عبادی، اسلام کی سب سے مشہور بیٹی ہے۔ نوبل انعام جیتنے کی تقریر میں اپنے انعام جیتنے کو کلچر اور اسلام کے باہمی ملاپ کا مرہون منت قرار دیا۔ اس نے کہا،

” مجھے میرے وطن، ثقافت اور عقیدے کے بارے میں بات کرنے دیجئے۔ میں ایرانی النسل ہوں۔ میں سائرس عظیم کی نسل سے ہوں۔ سائرس کا چارٹر انسانی حقوق کے لحاظ سے تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل دستاویز ہے۔ میں مسلمان ہوں۔ قرآن میں پغیمبر ﷺ سے کہا گیا کہہ دو:”تمہارا مذہب تمہارے لیے ہے اور میرا مذہب میرے لیے۔” یہی الہامی کتاب تمام پیغمبروں کے مشن کو تمام انسانوں کے لیے انصاف پہ قائم رہنے کی دعوت دینا بتاتی ہے۔ اسلام کی آمد سے، ایرانی تہذیب اور ثقافت انسان دوستی میں اضافہ ہوا ہے، دوسروں کی جان، عقیدےاور مذہب کا احترام، رواداری اور سمجھوتے میں اور تشدد سے بچنے میں خون بہانے اور جنگ سے بچنے میں ہے۔۔ ایرانی ادب کے روشن ستارے، خاص طور پر معرفت کے ادب میں، حافظ، مولاوی (یورپ میں رومی کے نام سے مشہور) اور عطارسے لیکر سعدی، ثنائی، نصر خسرواور نظامی، سب انسان دوستی کے سفیر تھے۔ ”

شیریں عبادی

پروفیسر احمد زویل کا فاسٹ لیزر ٹیکنیک کے استعمال کو گلیلیو کے دوربین کے استعمال سسے جوڑا جا سکتا ہے، جسے آسمان کی گنبد کی طرف ہر چیز کی چمک سے جوڑا تھا۔ زویل نے اپنی فیمٹو سیکنڈ لیزر کو دنیا کے ہر حرکت کرتے ہوئے مالیکیول پر ٹرائی کیا۔ اسےکیمسٹری میں نوبل پرائز اس وجہ سے ملا کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے واضح طور پہ مالیکیول کی زندگی میں فیصلہ کن حرکات کو دکھایا۔ کیمائی بانڈز کا بننا اور ٹوٹنا۔ وہ ارہینسس کی تھیوری کے پیچھے چھپی سچائی کو دیکھ سکتا تھا۔ اس نے عبادی کی طرح اپنی پرائز قبول کرنے کی تقریر میں اسلام اور مصر کی جڑواں تہذیبوں کی زرخیزی کا حوالہ دیا۔

”میں اپنی ذاتی زندگی کی کہانی سے شروع کرنا چاہوں گا جو وقت کے سمندر میں سفر ہے۔ جو میڈل آج مجھے عزت ماب سے ملا ہے اسے ایرک لنڈبرگ نے 1902 میں فطرت کی دیوی کو دینے کے لیے ڈئزائن کیا گیا تھا۔ جو کہ مصری زچگی کی دیوی ہے۔ وہ بادلوں میں سے قرن کثیر ہاتھوں میں لیے نکلتی اس کے چہرے پر نقاب ہوتا اور اس کا سرد اور سنجیدہ چہرہ جس پہ سائنس کی ذہانت کے ساتھ بلند تھا ڈھانپا ہوا ہوتا ہے۔ دراصل یہ سائنس کی دانشمندی ہی ہے جس نے نسل انسانی کو وقت سے آگے بڑھا دیا، فلکی کیلینڈر کے آغاز سے چھ ہزار سال پہلے آئسس کی سرزمین سے فیمٹوسیکنڈ کے دور میں کائنات صیغرہ میں آج کی رات مجھے اس کامیابی کی عزت مل رہی ہے۔ میں نے زندگی اور تعلیم کا آغاز اسی سرزمین میں آسس، مصر سے کیا، جس نے سائنس کو امریکہ میں واضح کیا، مجھے سویڈن میں نوبل پرائز دیا گیا جو مجھے واپس ابتدا میں لے گیا۔ یہی سائنس کا بین الاقومی پھیلاو ہے جسے مسٹر نوبل نے ایک صدی پہلے سوچا تھا۔ ”

ہمارے جدید دور کے نوبل انعام یافتہ زرخیز ماضی سے گہرا واسطہ رکھتے ہیں جو اب معیار بن چکا ہے۔ اسلامی نشاط ثانیہ جسے ہزار سال پہلے وجود میں آنا چاہیے تھا، جو نہیں ہوا۔ ہم کبھی بھی اس نقصان کا اندازہ نہیں کر سکتے جو چند مذہبی متعصبین کی وجہ سے انسانیت اور تہذیبوں کو پہنچا ہے۔ ہم ایک بار پھر سنگم پر ہیں، واحد راستہ دنیا سے جڑنا ہے جو ہمیں ایک رفاہی معاشرہ بنا سکتا ہے، ذہنی ترقی کا واحد راستہ تصورات کا اجتماع ہے۔

 ختم شد

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4