گرم کھانے کی غضب کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوم ٖخواتین کے موقع پر منعقدہ خواتین مارچ میں ایک خاتون کے ہاتھ میں ”کھانا خود گرم کر لو‘‘ کا پلے کارڈ دیکھا اور پھر اس سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث بھی نظر سے گزری۔ اس دیگ کا ایک دانہ ایک محترمہ کی ویڈیو ہے جس میں وہ ان خیالات کا اظہار کر تی ہیں کہ چونکہ وہ خود کما سکتی ہیں لہذا اگر کبھی انہوں نے شادی کی تو وہ کھانا گرم نہیں کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فیمینسٹ ہیں اور مر دوں کی برابری چاہتی ہیں۔ وہ آفس سے گھر آئیں تو وہ چاہتی ہیں کہ کھانا ان کا شوہر گرم کرے۔ اس کے علاوہ کچھ جذباتی بھائیوں کے تبصرے بھی پڑھے جن کو لگتا ہے کہ اگر کبھی خاتون خانہ نے کھانا گرم کرنے سے تو انکار کر دیا تو ان کی صدیوں کی کمائی گئی عزت خاک میں مل جائے گی۔

”کھانا خود گرم کر لو‘‘ کی گرما گرمی دیکھ کی لگا کہ شاید ہمارے معاشرے میں خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ کھانا خود گرم کرنا ہے۔ یہ گھر گھر کی کہانی ہے کہ کھانا گرم نہ کرنے پر باپ، شوہر یا بھائی لٹھ لے کر عورتوں پر پل پڑتے ہیں۔

مجھے شادی کے پہلے دو سال کھانا بنانا نہیں آتا تھا۔ مگر میرے شوہر نے مجھے کبھی کچھ نہیں کہا۔ یہاں تک کہ دوران نوکری میں اپنے شوہر یا گھر کو وقت نہیں دے سکی۔ ان دنوں بارہا ایسا ہوا کہ میاں کو ناشتہ خود بنانا پڑا یا کھانا باہر سے لانا پڑا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ اگر اس رشتے سے میری کچھ توقعات ہیں تو میرے شوہر کی بھی کچھ توقعات ہوں گی۔ مجھے اپنے گھر اور شوہر کو ترجیح دینی ہوگی۔

اس پر یقینا یہ اعتراض ہو گا کہ اگر میرے لیے حالات سازگار ہیں تو ضروری نہیں کہ تمام خواتین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو۔ مجھے اس بات سے قطعا انکار نہیں کہ پاکستان اور دنیا بھر میں خواتین مسائل کا شکار ہیں۔ خواتین کے مسائل کا حل نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ ایک عام شہری کوبھی اپنی ذاتی حیثیت میں ان مسائل کے تدارک کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان میں خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ گھر کے مردوں کا کھانا گرم کرنا ہے؟

پچھلے کچھ سالوں میں جینڈر سٹڈیز کا کورس مختلف جامعات میں متعارف کروایا گیا ہے۔ سال 2016 کے سی ایس ایس کے امتحانات میں پہلی بار اسے ایک اختیاری مضمون کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ جس کے بعد اس کورس کی مقبولیت میں ا ضافہ ہوا لیکن اس موضوع پر ہمارے ملک میں تحقیقی مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جینڈر سٹڈیز کی زیادہ تر کتب مغربی ممالک میں تحریر کی گئی ہیں۔ اور ہم نے اسی لٹریچر کو کو من و عن اپنے معاشرے پر لاگو کرنے کی کوشش کی۔

ہم نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ مغربی معاشرے کی سماجی ساخت یا سوشل کنسٹرکٹ اور ہمارے معاشرے کے سوشل کنسٹرکٹ میں کس قدر فرق ہے۔ بس لگ گئے اندھی تقلید میں۔
بجائے اس کے ہم کہ ہم ہنس کی چال چلتے چلتے اپنی بھی بھول جائیں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرتی ڈھانچے میں رہتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کریں اور ان کا حل اس انداز میں پیش کریں جو ہمارے معاشرے سے مطابقت رکھتا ہو۔ ہر معاشرہ اپنے سوشل سٹرکچر میں ہی رہتے ہوئے اپنے مسائل کو حل کرتا ہے۔

برطانیہ اور دیگرمغربی ممالک میں بھی عورت کےحق رائے دہی کے لیے چلائی گئی تحریک سفرجیٹ کی مثال لیں۔ یہ تحریک بھی تب شروع ہوئی جب مغربی دنیا میں یا تو بادشاہت مکمل ختم ہو گئی یا پھر کمزور ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک متبادل جمہوری نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ جب وہاں کا معاشرتی ڈھانچہ او ر معاشرتی ادارے تبدیل ہوئے تب ہی وہاں پر ایسی تحریکوں کا آغاز ہوا۔

اسی طرح اگر وراثت میں خواتین کو حصہ دینے کی بات کی جائے تو امریکہ میں 1835 میں پہلی بار شادی شدہ خواتین کو اپنے نام پر جائیداد رکھنے کا حق دیا گیا۔ سویڈن میں 1845 میں بیٹے اور بیٹی دونوں کو وراثت میں حصہ دینے کا بل پاس کیا گیا۔ لیکن اسلام نے یہ حق چودہ سو سال پہلے ہی دے دیا تھا، جس کی آج بھی منبر و محراب سے ترغیب دی جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں خواتین سے متعلق کئی اچھی روایات ہیں لیکن ہم میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو نہیں کر سکتے۔ جو نظام ہمیں بہت سے حقوق دیتا ہے وہی نظام اگر ہم پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے تو ہمیں ان سے بھاگنا نہیں چاہیے۔ ہاں اگر آپ موجودہ نظام کو یکسر تبدیل کر کے کوئی نیا نظام لانا چاہیں تو آپ کی مرضی۔

مغربی ممالک میں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ مرد بغیر شادی کے بچے پیدا کرتے ہیں پھر چھوڑ کر بھی چلے جاتے ہیں، کچھ عرصہ عورت کو استعمال کیا اور پھردل بھرنے پر تعلق ختم۔ کیا آپ اس کی بھی حمایت کریں گی؟ امریکہ میں پرو ابارشن تحریک چل رہی ہے اب آپ بھی یہی کہیں کہ پاکستان میں بھی ابارشن لیگل کر دیں۔

آپ کے فیس بک سے ہٹ کر بھی ایک دنیا آباد ہے۔ چند ایسے لوگ جن کے پاس موبائل فون ہے، انٹرنٹ ہے، انہیں ٹائپ کرنا آتا ہے، اور وہ اس قابل بھی ہیں کہ آپ نے ان کو اپنے اکاونٹ میں ایڈ کرنے کے قابل بھی سمجھا۔ وہ اگر آپ پر تعریفی کلمات کی بارش کر رہے ہیں تو معاشرے میں بہت سے ایسے افراد بھی بستے ہیں جن کا آپ کی اس ماورائی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ جو ابھی بھی سماجی روایات اور اقدار کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔ اور جتنا یہ لوگ ” خود کھانا گرم کر لو‘‘ جیسے نعرے سنتے ہیں اتنا ہی خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں سے متنفر ہوتے جاتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیان خلیج گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔

ایک فیمینسٹ کی حیثیت سے آپ کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہو گا۔ آپ اسی سماج میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی جنگ لڑیں۔ یہ راستہ دشوار ہے اور منزل بہت دور۔ آپ کو سب سے پہلے بنیادی مسائل پر توجہ دینی ہو گی۔ ابھی تو لڑکیوں کو تعلیم کا حق دلوانا ہے، خواتین کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات مہیا کرنی ہیں، ابھی تو سیاست میں عورت کا مقام بناناہے اور سیاستدان خواتین کو یہ قوت دینی ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے بل پاس کروائیں، ابھی تو ہمارے گھروں میں کام کرتی چھوٹی بچیوں کو ان کا بچپن لوٹانا ہے، ابھی تو کسی گلاب چہرے کو تیزاب کی جلن سے بچانا ہے، ابھی تو عورتوں کے لیے روزگار کے مواقع اور چھوٹے قرضوں کو لانا ہے، ابھی تو عورت کو اس کا بنیادی حق دلوانا ہے۔ اور یہ سب کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر چلنا ہے۔ ہمارے موجودہ حالات ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ اگر ہم کسی بچی کو تعلیم دلوا ئیں، گھر میں کام کرنے والی کسی چھوٹی لڑکی کواپنی بیٹی سمجھ کر اور اس کی تعلیم کو اپنا فرض سمجھ کر اس کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ سکول بھیجیں۔ ریسرچ کریں کہ کس طرح خواتین کے لیے تعلیم کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

اگر آپ ایک بیوی ہیں تو بجائے اس کے کہ آپ شوہر کا کھانا گرم کرنے سے انکار کریں اس سے یہ بات کریں کہ جس معیاری سکول میں بیٹا پڑھ رہا ہے اسی سکول میں بیٹی کو بھی داخل کراوائیں۔ اگر آپ مالی طور پر آسودہ ہیں تو کسی عورت کو کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کر دیں۔ اگر آپ کہیں نوکری کرتی ہیں تو بجائے ترقی پانے والی خاتون پر باس سے تعلق کا الزام لگانے کے اس کے کام میں اس کی مدد کریں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ باس سے تعلقات استوار کیے بغیر بھی ایک خاتون اپنے بل بوتے پر آ گے بڑھ سکتی ہے۔ اگر آپ ماں ہیں تو والدین کے حقوق پر لیکچر دینے کی بجائے کبھی بیٹے کو یہ بھی بتائیں کہ اس کی بیوی کے کیا حقوق ہیں، اگر بہن ہیں تو بھائی کو بھابھی کی مدد کرنے پر یا اس سے مشاورت کرنے پر زن مرید ہونے کے طعنے نہ دیں۔

آپ بیوی ہیں تو کسی مطلقہ عورت کو گھر نہ بسانے اور اوباشی کے طعنے نہ دیں۔ اگر آپ وکیل ہیں تو کسی بے بس عورت کا کیس مفت لڑ لیں یا جن خواتین کو ان کے حقوق نہیں معلوم ان کو اپنے حقوق سے متعلق آگاہی دیں، اگر آپ جج ہیں تو ایسی جوڈیشل رفارمز لے کر آئیں کہ عورتوں کو اپنے مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے اس ذلت سے نہ گزرنا پڑے جس سے وہ ہمارے ہاں گزرتی ہیں۔ اگر آپ سیاستدان ہیں تو پارلیمنٹ سے خواتین کے حقوق کے بل پاس کروائیں اور سول سرونٹ ہیں تو ان پر عمل کو یقینی بنائیں۔ اپنی قوت کو سمجھیں اور اس کا مثبت استعمال کریں۔

مگر آپ نے تو طبل جنگ بجا دیا ہے کیونکہ لفظی جنگ کرنا بہت آسان ہے اور عملی اقدامات کرنا بہت مشکل۔ کہنے کو میں کچھ بھی نہ مانوں اور کچھ کروں بھی نہ۔ کہنے کو ہمارے معاشرے کے سب مرد بہت برے ہیں، ہر جگہ مرد عورت کا استحصال کر رہا ہے، مگر یہ نہ بھولیں کہ یہ ہمارے ہی بھائی، باپ، بیٹے یا شوہر ہیں ان سے ہمیں نفرت نہیں کرنی، ان سے مقابلہ نہیں کرنا ان کے ساتھ چلنا ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا نہیں گرانا بلکہ ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانا ہے۔

کیا ہماری فیمینسٹ خواتین کی موجودہ پود کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ایک تحریک پر تسلط جما لیں۔ اگر کوئی آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتا تو اس کو جاہل اور گنوار کہیں یا پھر اس کو یہ طعنہ دیں کہ چونکہ اس نے فیمی نزم کی تھیوری نہیں پڑھی لہذا اس کی رائے فضول ہے۔ اگر آپ کا فیمینزم ماہواری، پیڈ سے شروع ہو کر کھانا گرم کرنے پر ختم ہو جا تا ہے تو ضروری نہیں کہ باقی سب کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو۔ فیمینزم کے نام پر خواتین کی قوت اور وسائل کو غلط جگہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب بھلے آپ ہمیں جاہل کہیں، گنوار، پینڈو یا ان پڑھ گردانیں مگرہم اس ہائی جیکڈ فیمینزم کو ماننے کے پابند نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •