یوم پاکستان کہاں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ سب چمکتے چہروں کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے موضوع تھا اس دفعہ یوم پاکستان کیسے منائیں، کہاں پارٹی رکھیں گے، کونسا شو دیکھنے چلیں گے، فرح نے لقمہ دیا نہیں بھئی ہم تو ڈانس پارٹی میں جائیں گے ہاں یار بہت دھانسو پارٹی ہوگی اس دفعہ یوم پاکستان پر، میرا تو گرین ٹائٹس اور ٹی شرٹ ریڈی ہے۔ ویسے بھی لمبا ویک اینڈ ہوگا، فارم ہاؤس پہ شغل میلہ کرتے ہیں عاطف نے تجویز دی، یار یہ ڈن کرلو گرلز کو بھی بلا لینا، بلال نے کہا، اوئے تم کیوں خاموش ہو بولتیں کیوں نہیں، کیا بولوں مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یوم پاکستان پر ایسے پروگرام ارینج کرنے کی تک کیا ہے۔

میں دور بیٹھی ان نوجوان بچوں کی باتیں سن رہی تھی انھیں یوم پاکستان پر اپنی چھٹی کو رنگین اور یاد گار بنانے کی سوجھ رہی ہے لیکن کسی کے دل میں پاکستان کو سجانے سنوارنے کاس خیال بھی نہیں آرہا، جو میرے بزرگوں کی لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا، میرے خاندان کی خواتین نے عزت بچانے کی خاطر اپنی جانیں کنوؤں میں کود کر قربان کردیں، میری ماں کے جوان بھائی بلوائیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے اور بچا کھچا خاندان بھرا پرا گھر چھوڑ کر پاکستان جانے کے لیے نکل پڑا، راستے کی تکالیف، پاؤں کے چھالے، بھوکے پیٹ، لٹے پٹے زمینی راستے سے جب پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئے تو سر سجدہ شکر میں جھک گئے اور فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔

وہ سمجھے تھے کہ پاکستان پہنچ کر سب تکالیف دور ہو جائیں گی اورایک پرسکون روح پرور طرز زندگی مل جائے گا، بہت محنت کی سب نے ملکر پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے لیکن پھر بھی ایک دراڑ رہ گئی اور کہیں سے تعصب اور نفرت نے جگہ بنالی اور پھروہ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا یعنی ہمارا ایک بازو کٹ گیا اور صرف مغربی پاکستان رہ گیا، یہ میں آپ کو کیا تاریخ بتانے بیٹھ گئی۔

ہم نے نئی نسل کے ساتھ بہت دھوکا کیا انھیں کچھ بتایا ہی نہیں نہ ان کی تربیت اس نہج پر کی کہ انھیں اپنے قومی دنوں پر کچھ احساس ہو کہ یہ وطن کتنی قربانیوں کے بعد ملا۔ ہم نے انھیں نئی نئی ایجادات سے لطف اندوز ہونا تو سکھا دیا لیکن ان کا مثبت استعمال نہیں سکھایا، وہ گوگل پر نت نئے گانے اور ویڈیوز تو سرچ کر کے دیکھ لیتے ہیں لیکن پاکستان کی تاریخ کھول کر نہیں پڑھ سکتے۔ وہ پاکستان کے قومی دن بھی ایک عام چھٹی کے دن کی طرح سیر وتفریح میں گذارتے ہیں انھیں ان اہم دنوں کی بابت معلومات ہی نہیں ہیں اور نہ ہی انھیں پتہ کرنے کا شوق ہے وہ صرف کھیل کود کرکے یہ دن گزارتے ہیں، حالانکہ نئی جنریشن بہت شارپ ہے ہر بات جلدی سمجھ جاتی ہے ہم ان کے دل میں وطن سے محبت اور دماغ میں اجداد کی روایات ڈال سکتے ہیں۔ انھیں زندگی کے مثبت پہلو سمجھا کر زندگی گذارنے کے ڈھنگ سکھا سکتے ہیں انھیں یوم پاکستان، یوم آزادی، اور یوم دفاع کی اہمیت بتائی جاسکتی ہے کیونکہ ان کے کچے دماغ ہر بات اپنے اندرجذب کرکے پختہ ہوں گے تو ان کے دل مین وطن سے محبت کا جذبہ سچے دل سے جا گزیں ہوگا اسی لیے علامہ اقبالؒ نے فرمایا
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند!

آج کے نوجوان کو سیدھا راستہ دکھانے کی ضرورت ہے منزل وہ خود پالیں گے، انھیں یہ تربیت ہم اپنے گھر سے دیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ اچھا برا کیا ہے، انھیں اپنے اسلاف کے کارناموں سے روشناس کروائیں اور ان میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کریں ہمیں انھیں سمجھانا ہوگا علامہ اقبالؒ کی زبان میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •