پھر آپ کہتے ہیں کہ عورتیں زیادہ فارغ ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹیکنالوجی نے زندگی بہت ہی آسان کردی ہے، مگر اس کا سب سے بڑ انقصان یہ ہوا کہ مَردوں کی فراغت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ رُکیے! میری یہ تحریر بھی اسی طرح کُھلے دل سے پڑھ کر داد دیجیے گا جیسے مردوں کی دوسری شادی کی حمایت میں لکھی تحریر پڑھ کر خوشی سے آپ سب حضرات کا برا حال ہوا تھا۔ وہ تحریر کتنے ہی مردوں نے بطور خاص بیویوں کو پڑھائی ہوگی اور بعض جملوں کو حفظ ماتقدم کے طور پر یاد کرلیا ہوگا۔ اب تیار ہو جائیے، بیگمات بھی بدلہ لینے کے لیے اس تحریر کا بار بار حوالہ دیں گی اور آپ سب کَنی کترائیں گے۔

مجھے ہمیشہ سے ہر گلی کے نکڑ پر چار پانچ مردوں کا کھڑے ہوکر محلے کے معاملات پر رائے زنی کرنا الجھن میں مبتلا کرتا ہے۔ ان کا کام صرف محلے کے معاملات پر گفتگو کرنا نہیں ہوتا بلکہ آس پاس سے گزرتی خواتین کو دیکھ کر کھنکھارنا بھی ہوتا ہے۔ کبھی یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ کسی گھر کے سامنے کھودے جانے والے کنویں کے گرد ڈھیر سارے مرد گھیرا ڈال کر کیوں کھڑے ہو جاتے ہیں؟ پورا وقت کمر پر ہاتھ باندھ کر اندر جھانکتے ہوئے آخر کھوجتے کیا ہیں؟ جب کہ یہ یقین ہوتا ہے کہ زمین سے بدبودار اور گدلاپانی ہی نکلے گا تیل نہیں! ویڈیو گیمز کی دکانوں سے لے کر ڈبو کھیلنے کے اڈوں تک ہر جگہ کھیلنے والوں کے ساتھ ساتھ تماش بین مردوں کا ایک جھمگٹا نظر آتا ہے۔

ہوٹلوں اور ڈھابوں پر کئی کئی گھنٹے دوستوں کے درمیان چائے کی پیالی رکھ کر پان کے ٹکڑوں اور سگریٹ کے ٹوٹوں کے ساتھ وقت گزارنے والے بھی مرد ہی نظر آتے ہیں۔ کوٹھے پر ناچنے گانے والی طوائف کے گرد گھیرا ڈالے، رال ٹپکاتے جو بھیڑ ہوتی ہے وہ تو مردوں ہی کی ہوتی ہے، وہ مرد جو دل کے عین اوپر لگی جیب خالی کرنے کو بے تاب ہوتے ہیں۔ کراچی کی سڑکوں پر فٹ پاتھوں پر پاؤں پسارے، سردیوں کی دھوپ سینکتے، گرمیوں کی ڈھلتی شامیں دیکھنے والے بھی مرد، بات تو عجیب سی ہے لیکن اجاڑ حلیے اور پھٹے کپڑوں میں ہوش و خرد سے بیگانہ وہ مجنوں ٹائپ کے چرسی بھی مرد ہی ہیں جو کبھی اکیلے اور کبھی جوڑی بناکر چادر میں چھپے چرس سے اپنی زندگی کو آگ لگاتے اور سماجی تعفن میں اضافہ کرتے ہیں۔

لیکن یہاں تو بات ہو رہی تھی ٹیکنالوجی کی! ٹیکنالوجی کے ہاتھوں فارغ مردوں کی جو قسم سامنے آئی ہے وہ نہ تو کسی کنویں کے گرد جمع ہیں، نہ چادر میں جوڑی بنائے نشہ کرتے ہیں، یہ ڈبو پر بھی نظر نہیں آتے۔ یہ صرف فیس بک کی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ یہ نہ سمجھیے کہ اگر آپ کا شوہر پابندی کے ساتھ دفتر جا تا ہے اور ایک دن کا بھی ناغہ نہیں کرتا تو اس کی وجہ اس کی کام سے لگن ہے۔ نہیں! جناب یقین رکھیے! وہ فیس بک کا دَھتی ہوچکا ہے اور آپ کے سامنے گھر پر وہ اپنا اکاؤنٹ کھولنے کی حماقت کبھی نہیں کرے گا۔ اسے خطرہ ہوتا ہے کہ اگر پکڑا گیا تو بیوی کو یہ طعنہ دینے کے کبھی قابل ہی نہیں رہے گا کہ آخر سارا دن کرتی کیا ہو؟ وہ اپنا منہ چھپا کر دفتر نکل جاتا ہے جہاں سارے کاموں کے درمیان اور کبھی کاموں میں ڈنڈی مار کر ایک نئی دنیا کی سیر کرتا ہے۔

اب آپ کہیں گے کہ سراسر الزام ہے! ”ہم سب“ پر ایسی تحریریں ریٹنگ بڑھانے کے لیے لکھی جاتی ہے، فلاں اور فلاں۔ آئیے الزام کو ثابت کرتے ہیں۔ میرے فیس بک فرینڈز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس میں خواتین دو فی صد بھی نہیں۔ یہ نہیں سمجھیے گا کہ میں خواتین کو دوست بنانا چاہتی ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مردوں نے خواتین کو فیس بک کی دنیا سے ہی دور دھکیلا ہوا ہے۔ مجھے فیس بک پر مرد جتنی بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں اس کے مقابلے میں خواتین بہت کم ہیں۔ پہلے تو یہ صرف میرا مشاہدہ اور اندازہ ہی تھا لیکن 2018 کی ابتدا میں جاری کردہ ایک گلوبل رپورٹ نے اس بات کی تصدیق بھی کردی کہ اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر کے درمیان فیس بک صارفین کی صرف بارہ فی صد تعداد عورتوں پر مشتمل ہے۔ پچیس سال کی عمر سے آگے جا کر یہ تناسب اور کم ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو خواتین کی گھریلو ذمہ داریاں ہیں لیکن دوسری طرف یہ وجہ بھی ہے کہ پاکستان میں فیس بک پر خواتین کی تعداد کو بڑھنے سے ایسے ہی روکا جاتا ہے جیسے چین میں بچوں کی پیدائش کو! یہاں گھر کی کسی خاتون نے فیس بک پر اکاؤنٹ بنایا وہاں بھائیوں اور شوہروں کی غیرت جاگی۔ یہ نام نہاد غیرت زیادہ تر اس خوف کا شکار ہو کر جاگتی ہے کہ اگر گھر کی عورتوں تک ان کے کرنی کرتوت پہنچ گئے تو ان کی دہاڑ کے جواب میں اس سے زیادہ اونچی زنانہ دہاڑ آئے گی اور وہ بوڑھے شیر کی طرح کونے سے لگا دیے جائیں گے۔

فیس بک پر مردوں کی تعداد اور ان کی فراغت کا اندازہ ایک سال سے تو مجھے بھی بہ خوبی ہو رہا ہے۔ ان باکس میں آنے والے طویل پیغامات اور محبت نامے فارغ دماغ کی کارستانی کے سوا اور کیا ہیں؟ وہ کون کون سے پیار بھرے القابات نہیں جن سے مخاطب کرکے توجہ حاصل کرنے کی دُھن مین مردوں کا بچکانہ پن اپنے عروج پر نہیں! ہر گھنٹے بعد ایک ہی فرد سے خیر خیریت پوچھتے رہنے کی ہمت اگر کسی میں ہے تو وہ فیس بک کے فارغ مرد صارفین ہی ہیں۔ کچھ تو اس سے بھی زیادہ فارغ ہیں، یہاں کسی خاتون کو ایڈ کیا وہاں لگاتار کال کرنے کا جو سلسلہ شروع کرتے ہیں وہ خود کو بلاک کیے جانے تک بنا تھکے اور رکے جاری ہی رکھتے ہیں۔ بعض تو اپنے فارغ مُکھڑے کا دیدار کروانے کے لیے ویڈیو کال ہی ملا دیتے ہیں۔ فیس بک پر مردوں کی فراغت کی کہانی تو بہت طویل ہے لیکن کیوں کہ کچھار میں رہ کر شیروں سے بیر نہیں رکھ سکتے اس لیے اس قصے کو تمام کرتے ہیں۔ بس ایک درخواست ہے کہ جب آپ دفتر سے گھر لوٹیں تو گھر کی عورتوں کو یہ طعنہ دینا بند کردیں کہ آخر سارا دن کرتی کیا ہو، کیوں کہ جو آپ کرتے ہیں اس کے مقابلے میں ان کا کچھ نہ کرنا قابل ستائش ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •