ایک خط وجاہت مسعود کے نام
شہر آگہُی
2018مارچ 24
میرے عزیز وجاہت مسعود!
یقین ہے کہ آپ خیریت سے ہیں۔ میں بھی بھلی چنگی ہوں۔ عرض کرنا مجھے آتا نہیں اس لئے کہنا یہ ہے کہ آپ کو اس طرح کے کئی خطوط موصول ہوتے ہوں گے۔ جس میں آپ کا شکریہ ادا کیا جاتا ہو گا اور آپ کی تعریف بیان کی جاتی ہو گی۔ مگر یہ خط کچھ خاص ہے کیونکہ یہ خط آپ کو میں لکھ رہی ہوں۔ حضرت میں وہی ہوں جس کی پہلی لکھائی آپ نے خود ٹا ئپ کروائی تھی کیونکہ میرے پاس کوئی ٹا ئپسٹ نہیں تھا۔
میری کچی سی تحریر کو آپ نے حوصلہ افزائی کے لئے چھاپ دیا تھا۔ جانتی ہوں۔ آپ جان گئے تھے کہ میرے اس جہاں فانی میں باقی رہ جانے کے پیچھے کیا پوشیدہ مصلحت ہے۔ آپ اور صرف آپ جانتے تھے کہ مجھ سے قدرت کو کیا کام لینا ہے۔ اس راز کو پا جانے والے میرے بعد آپ دوسرے شخص ہیں۔ آپ کچھ بھی کہے بغیر مجھ سے بہت کچھ کہتے رہے۔ وہ جو میری کچھ تحریریں آپ کے پاس پڑی ہیں میں جانتی ہوں وہ کیوں نہیں چھپیں۔ میں اپنی راہ سے ہٹ جاتی۔ آپ مجھے ایک خاص مقصد حیات سمجھانے میں جٹے رہے۔ میری تحریروں کو ہم سب پر چھاپ کر۔ آپ جان گئے تھے کہ میرا قلم برقع نہیں اوڑھ سکتا۔ اور یہ جبر آپ نے میرے قلم پر ہونے بھی نہیں دیا۔ نہ تو آپ خدا ہیں نہ میں کوئی فرشتہ۔ مگر ہمارا تعلق کسی دیوتا اور جوگی کا سا ہے۔
آپ نے دور لاہور میں بیٹھ کر مجھ کو وہ آگہی دی جس کو میں اپنے اندر ہی کھو چکی تھی۔ آپ نے مجھ سے انسانیت کی خدمت کروائی جس میں آپ خود دیوتا کی طرح بیٹھے مسکراتے رہے۔ میرے بڑھتے قدموں پر۔ ایک کمزور عورت کو مضبوط کر کے معاشرے کی کمزور عورتوں کی آواز بنا دیا۔ روزانہ کی بنیاد پر موصول ہونے والی میلز، کالز اور ٹیکسٹ میسیجز اس بات کی گواہی ہیں کہ میرے ذریعے آپ نے جو پیغام دینا تھا وہ میں نے پہنچا دیا۔ میرے لئے وہ دن پہلی کامیابی کا دن تھا جس دن ایک خاتون نے ازدواجی عصمت دری کا کیس سرگودھا میں فائل کیا تھا۔ پھر اس کے بعد شمع رانی کے ڈسگلیمر نے اور تقویت بخشی۔ اب میری کام والی کو بھی اس کا شوہر نہیں مارتا کیونکہ اس نے میری زبانی میری تحریریں سن کر میاں کو مرنے پر جیل کروا دیا تھا۔ اب وہ خوش ہے۔ اگر آپ میرا ہاتھ نہ پکڑتے تو شاید میں تھک جاتی۔
آپ نے مجھے عام سے خاص ہونے کا احساس دلایا۔ بلکہ جگایا۔ ایک بھی لفظ کہے بغیر۔ ہم دونوں کے بیچ خاموشی شور کرتی رہی اور ہم دونوں ہی اسے سنتے رہے۔ آپ کی بدولت گوہر تاج جیسی خاتون سے میرا تعلق قائم ہوا۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے میری روحانی تربیت کی۔ عدنان خان کاکڑ کی شگفتگی با عث راحت بنی۔ اویس احمد اور تحریم عظیم سے دوستی ہوئی۔ دونوں روتوں کو ہنسا دیتے ہیں۔ بڑے نٹ کھٹ ہیں۔ عفت نوید سے بھی زندگی کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ یہ سب آگے چل کر میرے لئے مشعل راہ بنیں گے۔ ایک انٹر پاس عورت کو آپ نے آگہی کی اس منزل پر لا کھڑا کیا کہ قریب ہے میں بدھا بن جاؤں۔ اب بتائیں یہ ایک خاص عورت کا خط آپ کے نام ہے کہ نہیں۔ جسے آپ کی حوصلہ افزاُیوں نے پل پل تقویت بخشی۔ میرے لئے دعا کیجیے گا کہ میں انسانیت کی فلاح کے لئے کام کرتی رہوں اور کبھی حوصلہ نہ ہاروں۔ اور اگر کہیں میں تھک جاؤں تو ہمیشہ کی طرح چپکے سے آ کر ان باکس میں سرگوشی کر دیجئے گا ”بھائی آپ کام جاری رکھیں آپ ٹھیک سمت جا رہی ہیں۔ “
وسلام
ہم سب کے وجاہت مسعود کی عقیدت مند
صائمہ ملک
