پیار کا گھاٹ – کسی پر بیتا ایک افسانہ

میں اپنی اس نئی پوسٹنگ کا سن کر تنگ سا ہو گیا تھا۔ ایک تو جہاں بھجوا رہے تھے یہ شہر بہت چھوٹا تھا۔ وہاں کوئی سوشل لائف تھی ہی نہیں۔ پر میری کسی نے نہ سنی مجھے وہاں جانا ہی پڑا۔ اس شہر آ کر رہنے کے  رہنے قابل جو جگہ ملی تھی وہ بھی ایک امیر صاحب کا گھر تھا۔ امیر صاحب کا اصل کام ویسے تو اسمگلنگ تھا۔ لیکن اپنے علاقے میں ان کا حوالہ کئی نسلوں سے ایک مذہبی گھرانے کا ہی تھا۔

اس گھر میں پورشن کرائے پر لینے کے لئے شادی شدہ ہونا ضروری تھا۔ مجبوری تھی بڑی مشکل سے ایک خاتون کو پیسے دے کر ساتھ رہنے کو راضی کیا۔ یوں یہ گھر کرائے پر لے سکا تھا۔ تین مہینے کا مختصر سا پراجیکٹ تھا۔ اتنے دن اکیلے رہنا وہ بھی ایک ہی بندی کے ساتھ عذاب ہی تھا۔

پارٹنر اچھی مل گئی تھی ویسی ہی جیسی مجھے چاہیے تھی۔ کم عمر اور ناتجربہ کار لڑکی سے تو میری جان ہی جاتی ہے۔ ایسی لڑکی کا ساتھ اک ڈراؤنا خواب ہی لگتا ہے۔ سارا مزہ برباد سا ہوتا دکھائی دیتا۔ اس پارٹنر کی وجہ سے ہی رہائش کامسئلہ حل ہو گیا تھا۔ اس فضول شہر میں رہائش کو گھر مل گیا تھا۔

اچھے لوگ تھے مختصر سی فیملی تھی دو بیٹے پڑھنے باہر گئے ہوئے تھے۔ ایک بیٹی کی شادی ہو چکی تھی اور گھر میں ایک ہی بیٹی تھی جو ابھی اپنی تعلیم مکمل کر کے لوٹی تھی۔ روایتی سا خاندان ہونے کے باوجود ان ہاں گھٹن نہیں تھی۔ گھر کا سربراہ تعلقات بنانے کا شوقین تھا۔ میرے ساتھ بھی اس کی دوستی ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے پہل اس نے ہی کی تھی۔

میرے ساتھ اسی گپ شپ کے نتیجے میں امیر صاحب کی بیٹی ہمارے پراجیکٹ میں انٹرن شپ کرنے لگ گئی تھی۔ میری خاتون پارٹنر کے ساتھ بھی اس کی اچھی گپ شپ بن گئی تھی۔ پارٹنر نے ہی مجھے بتایا تھا کہ لڑکی بتاتی ہے کہ اس کے والد کی میرے بارے میں بہت اچھی رائے ہے۔ میں نے پارٹنر کو جواب دیا کہ پھر اس کو بتا دو کہ ہم بغیر شادی کے رہتے ہیں۔ تاکہ ہمیں سنگسار کرنے کا فوری انتظام کریں۔ ہم دونوں ہی ہنسنے لگے تھے اس بات پر۔

 یہ ایک سرحدی شہر تھا جس کی مختصر سی آبادی تھی۔ چھوٹے شہروں والی سست سی زندگی سے بھی زیادہ سست رفتار میں یہاں وقت رینگتا محسوس ہوتا تھا۔   دفتر دو بجے بند ہو جاتا تھا۔ دفتری کام سے ہم دس بجے ہی فارغ ہو چکے ہوتے تھے۔   فارغ وقت اپنے مالک مکان کی فیملی کے ساتھ گزرتا۔ ان کے پاس ہر وقت چین کارگل اور نورستان سے آئے رشتے داروں کا رش رہتا۔ ان کے مہمانوں سے بھی ملنا ہوتا رہتا تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ یہ اپنی ساری توانائی بولنے اور بولتے ہی رہنے سے حاصل کرتے ہیں۔

یہیں رہ کر مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں لوگوں کی سرحد پار لوگوں سے رشتہ داریاں ہیں۔ اس علاقے میں جو مذہبی فرقہ اکثریت میں ہے۔ وہ باقی ملک میں اقلیت ہے۔ یہاں اقلیت اکثریت کا کوئی کھاتا نہیں تھا۔ سب ہی اپنے اپنے عقائد میں پکے تھے۔ ہمارے امیر صاحب کی سرحد پار رشتہ داری تھی۔ ان کے رشتے داروں میں تمام مقامی فرقوں کے لوگ تھے۔ حیرت ہی ہوتی کہ اپنے اپنے عقائد میں پکے یہ لوگ اک دوسرے کے رشتہ دار بھی ہیں۔

جیسے روح روح کو پہچانتی ہے ایسے ہر پاپی دوسرے کو پہچانتا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ رہتے ان لوگوں کی پاپی طبعیت کا بھی اندازہ ہو گیا۔ پاپی آپ کو برا لگا تو اسے آپ پریمی طبعیت کہہ لیں۔ ان کی گھاتیں وارداتیں بہت دلچسپ ہوتی تھیں۔ مذہب روایت کے پردے پیچھے بہت ڈرامے مسلسل چلتے رہتے تھے۔ امیر صاحب بھی کام والیوں کے ساتھ دست درازی خدمت سمجھ کر ہی کرتے رہتے تھے۔

جوانی اپنا رنگ دکھاتی موسم ماحول دیوانہ کرتا۔ کوئی پیار کہانی مشہور ہونے لگتی۔ تو سب کو یہ شہرت پھر بدنامی محسوس ہوتی۔ ایسا کیس پھر جرگے کے پاس پہنچتا۔ امیر صاحب ایسے جرگوں میں اہم ممبر ہوتے۔ اپنی وارداتیں بھول کر بہت بے دردی سے خوفناک فیصلے کراتے۔ اپنے فیصلوں کی کہانیاں بھی انہوں نے خود ہی مجھے سنائی تھیں۔ ان کی وارداتیں البتہ میں نے خود نوٹ کی تھیں۔ فارغ وقت جو بہت ہوتا تھا۔

باہر امیر صاحب اک جابر قسم کے روایتی خان تھے۔ اندر یہ حال تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ حالت جنگ میں رہتے تھے۔ ان کی بیٹی امیر صاحب کا فیصلہ ماننے سے انکاری تھی۔ امیر صاحب اس کا رشتہ اپنے خاندان میں کرنا چاہتے تھے۔ حیرت یہ ہوتی تھی کہ اتنا جابر انسان گھر میں کیوں مجبور ہے۔ اک لڑکی کیسے کامیاب مزاحمت کر رہی ہے۔

لڑکی کی مزاحمت سے واقفیت یوں ہوئی کہ اس نے میری پارٹنر کو اپنا قصہ سنا دیا۔ جس نے مجھے بھی بتا دیا۔ یہ لڑکی ہمارے ہی دفتر میں انٹرنی تھی۔ جلد ہی یہ براہراست مجھے ہی بتانے لگ گئی۔ اس سے باتیں ہوئیں تو سمجھ آ گئی کہ اس کی مزاحمت کیسے کامیاب ہے۔ لڑکی پڑھی لکھی تھی اپنے حقوق سے واقف تھے۔ صرف حق سے واقف ہونا ہرگز کافی نہ ہوتا۔ وہ اپنے باپ کے کرتوت سے بھی واقف تھی۔ باپ کے سامنے اس لیے کھڑی ہو سکی تھی کہ اکثر باپ کو ایسے مشور ےبھی دیے تھے جس نے اسے فائدہ پہنچایا تھا۔ اس کا نام بنا تھا اسے منافع ہوا تھا۔

جلد ہی یہ لڑکی براہ راست مجھے اپنے حالات بتانے لگ گئی۔ فارغ وقت کونسلنگ کرتے گزارنا ایک اچھا مشغلہ تھا۔ وہ بھی اک خوبصورت لڑکی کی لوفر سی کہانیاں مسئلے سنتے ہوئے۔ یوں ہوتے ہوتے ہمارے تعلقات بہت دوستانہ ہو گئے۔

پراجیکٹ میں کچھ ہفتوں کی توسیع ہو گئی کہ مزید فنڈنگ آ گئی تھی۔ خبر اچھی تھی کہ اس کے ساتھ بونس بھی ملا تھا۔ ساری خوشی جاتی رہی جب میری پارٹنر خاتون نے مزید رکنے سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ تین مہینوں کے لیے ہی آئی تھی۔ اب وہ مزید یہاں رہنے کو تیار نہیں تھی۔ اب تک میں خود بھی اس سے اکتا چکا تھا۔ اس لیے ایک الوداعی جشن منا کر سویرے اس کو رخصت کر دیا۔

امیر صاحب کو بتایا کہ ہماری علیحدگی ہو گئی ہے۔ وہ اس علاقے میں بلکہ کہیں بھی خانہ بدوشوں کی طرح گھوم پھر کر میرے ساتھ زندگی گزارنے کو تیار نہیں ہے۔ امیر صاحب کی ہمدردی والے جملے مجھے بہت مزاحیہ لگے تھے۔ میں گھر چھوڑنے کو تیار تھا لیکن انہوں نے کہہ دیا کہ آپ ہمارے فیملی ممبر ہیں یہاں رہ سکتے ہیں۔

اب ہم فارغ تھے اور شہر میں ایک ہی لڑکی تھی میزبانوں کی جس سے بات ہو سکتی تھی۔ گپ شپ ہی ممکن تھی اور وہ ہونے لگی۔ دفتر میں آمنے سامنے بات ہوتی گھر آ کر نیٹ پر بات ہونے لگ جاتی۔ میں نہ صرف اس کی اپنی کہانی کا واقف ہو گیا تھا بلکہ اپنے میزبان اور اس فیملی کے مسائل کا بھی پتہ لگنے لگ گیا تھا۔ اس دوران پتہ لگا کہ ان کے ہاں پار سے مہمان آ رہے۔ میزبان کی بہن اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے ان کے ہاں آ رہی تھیں۔

مجھے بتایا گیا کہ مہمانوں میں رمشہ بھی ہے خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی۔ میں نے عمر پوچھی تو پتہ لگا کہ فسٹ ائر میں ہے۔ اک ناگواری سے میں نے کہا کہ مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ گھر پہنچے تو مہمان آ چکے تھے۔ کھانے کے لئے دعوت ملی تو رمشہ بھی دیکھ لی۔ اک بے مثال اور لازاوال سراپا۔ حیرت ہوئی جب اسے انگریزی بولتے سنا۔ ساتھ ہی مقامی سکولوں کا معیار یاد آگیا۔

رمشہ کو تو میں چور نظروں سے دیکھتا رہا کئی دن دیکھا وہ اپنے والد اور ہمارے میزبان اپنے ماموں کے ساتھ اپنی تعلیم اور داخلے بارے بات کرنے میرے ساتھ بھی بیٹھی جب بھی اس کی آنکھوں میں دیکھا نظریں ٹہر نہ سکیں۔ ایک اداسی دکھائی دی لیکن اس عمر میں اداسی کی وجہ نہ سمجھے یہی سمجھ آئی کہ کوئی دل کا معاملہ ہو گا۔ لیکن چھوٹی کڑی اپنی ٹیسٹ ہی نہیں ہوا کرتی تھی۔ لیکن دل کی بے تابیاں تھیں کہ رکتی نہ تھی۔ کم بخت دھڑک دھڑک کر خود بھی بیحال ہوتا مجھے بھی کرتا۔ بار بار بتاتا کہ دیکھ تو سہی اس کو پر دیکھ کر نظر کدھر ٹہرتی تھی۔ شرمندہ سی ہو کر جھک جاتی۔

بقیہ کہانی پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ پر کلک کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words