میڈرڈ کے ”سول سکوائر“ کی چند جھلکیاں


شام رات کے پہلے پہر میں ڈھلنے لگی تھی۔ اب نئے مناظر میدان میں داخل ہورہے تھے۔ یہ مانگنے کے بڑے مہذب انداز تھے۔ پورا Sol سکوائر ان سے بھرگیا تھا۔ کہیں ایک معمر خاتون کرسی پر بیٹھی ماؤتھ آرگن بجارہی تھی۔ سامنے ڈبہ پڑا تھا۔ آپ کا جی چاہتا ہے کچھ دیر رُک کر اس کی موسیقی سُنیں۔ اُس سے محظوظ ہوں۔ اس کے ساتھ تصویر بنوائیں۔ جی چاہے پچاس سینٹ یا ایک یورو کا سکہ ڈبے میں ڈال دیں یا نہ ڈالیں۔ کوئی مجبوری نہیں۔ آپ کی مرضی۔

ذرا آگے بڑھئیے۔ ایک نوجوان سارا چہرہ پینٹ کیے اپنے سامنے میز پر شطرنج کی بساط بچھائے بیٹھا ہے۔ ذرا اگلے ایک اور منظر راستہ کھولتا ہے۔ دو فوجی بندوقوں آہنی کنٹوپوں کے ساتھ نظرآتے ہیں۔ چہرے پینٹ شدہ۔
گھوم جائیے دوسری طرف۔ یہاں رنگ و بو کا طوفان آیا ہوا ہے۔ ایک میوزیکل گروپ اپنے آرٹسٹوں کے ساتھ گیت گارہا ہے۔ رقص کررہا ہے۔ تماشائیوں میں سے بھی کچھ جوڑے شامل ہوجاتے ہیں۔ رقص، گیت، خوشی اورسرشاری۔

کوئی پینٹ شدہ چہرہ ڈریکولا کا روپ دھارے آپ کو ڈرا دیتا ہے۔ کوئی عورت موٹر سائیکل پر ہاتھوں کے اوپر اپنے پورے وجود کو فضا میں بکھیرے کھڑی آپ کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ صرف دو ہاتھوں پر اس کا سارا وجود فضا میں کیسے پھیلا ہوا ہے؟

ایسے ہی تفریحی انداز میرے ملک میں بھی ہیں۔ بس تھوڑا سا تڑکا ماڈرن ازم اور رویوں کے حُسن کا ہے۔ جو مجھے یہاں نظرآتا ہے۔ ہم بہت رات گئے اِن سب کھیل تماشوں کا حصّہ بنے رہے۔ کہیں نظروں سے لالچ اور طلب کا سوال نہیں تھا۔ جو دے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلاجیسے سچے اور سُچے رویے کی جھلک تھی۔

یہ حقیقی انداز ابھی ہمارے ہاں نہیں۔ یہاں دھانسو اور آپ کی جان کھا لینے والا انداز ہے کہ آپ اگر کچھ عنایت کئیے بغیر چل دیے تو آپ کی سات پیڑھیوں تک بددعائیں آپ کا تعاقب کرتی ہیں۔
رات کا دوسرا پہر تھا اور یہ کاروبار زندگی اسی طرح اپنے عروج پر تھا۔ اُس وقت ایک ہوک سی میرے دل سے اٹھی تھی۔ میرے اللہ میرے ملک میں وہ وقت کب آئے گا جب اس کے کوچہ و بازار غیرملکیوں سے ایسے ہی سجیں گے۔ اس کے ہوٹلوں، اس کے پرانے اندرون شہروں کے گلی کوچوں میں اُن کا رش ہوگا۔

میں اپنی یادداشتوں میں محفوظ وہ منظر نہیں نکال سکتی ہوں۔ 1985۔ 86 کا وہ وقت جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات غیر ملکی سیاحو ں کے ٹولوں سے بھرے نظر آتے تھے۔ ٹولیاں اور جتھے۔ جب جب میرا اِن علاقوں میں جانا ہوا۔ ہوٹل اِن کے قبضوں میں، سڑکوں پر ان کے پُر ے، دریاؤں کے کناروں پر بیٹھی اِن کی ٹولیاں۔ کھانا کھانے کے لیے کِسی ہوٹل میں چلے جاؤ وہاں کی میزوں کرسیوں پر گورے گوریاں براجمان۔

مجھے یاد ہے ہنزہ کے ایک ہوٹل میں کھانا دیر سے لانے پر میں نے ہوٹل کے مینجر سے شکایت کی جس نے میری طرف دیکھتے ہوئے محبت سے کہا۔ آپ تو اپنی ہیں۔ اِن لوگوں کی طرف ہمیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک آتے ہیں۔ ہمارے مہمان ہیں۔ ہمارے کلچر اور ثقافت کی پرموشن کرتے ہیں۔ ہم پر لکھتے ہیں۔ ہماری چوٹیاں سر کرتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کو یہاں آنے پر اُکساتے ہیں۔ اب یہ لوگ جرمن ہیں۔ ہنزہ کی علاقائی زبانوں بروشسکی اور وخی پر تحقیقی سلسلے میں آئے ہوئے ہیں۔ میں اُن کے پاس چلی گئی تھی۔ اُن سے خوب گپ شپ رہی۔ تو اِس چہکتے مہکتے اجنبی دیس کے اِس سکوائر میں بے اختیار میرے لبوں پر وہ دعا ابھری ہے۔ خدایا میرا وطن امن اور سکون کی جنت بن جائے۔ (آمین)۔ اس کے گلی کوچے اس کے پہاڑ اور میدان سیاحوں سے بھرجائیں۔ (آمین)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2