باجوہ ڈاکٹرائن کا 18ویں ترمیم یا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں: ترجمان پاک فوج
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ’باجوہ ڈاکٹرائن‘ کا تعلق صرف اور صرف پاکستان کو امن کی طرف لے جانے کے لئے اور ہے اس کا تعلق 18ویں ترمیم یا عدلیہ سے نہیں۔
جی ایچ کیو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے پچھلے ہفتہ واقعات کے لحاظ سے بہت اہم تھا، عوام نے یوم پاکستان کی پریڈ میں بھرپور شرکت کی، کراچی کے ایونٹس میں عوام نے بھرپور طورپر شرکت کی۔
ترجمان پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 2017 میں ایل او سی پر سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں اور 2018 کا آغاز بھی 2017 سے مختلف نہیں، بھارت کو ایل او سی پر سیز فائر خلاف ورزیاں ختم کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت غیر ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کررہا ہے، پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے، خطے میں امن کے لئے پاکستان کے کردار کو مثبت انداز سے دیکھنا چاہیے، پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا تو پاکستان کی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کےساتھ تعلقات میں ٹھہراؤ نہیں آیا، بات چیت چل رہی ہے، ہماری مطلوبہ ضروریات پر بھی عمل ہونا شروع ہوا ہے، پاکستان نے دنیا کے لیے مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا تو امریکا واحد سپر پاور نہ ہوتا، امریکا جان جائےگا پاکستان کےاقدامات کے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی تھی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغان فورسز نے ہماری تشویش کے مطابق ایکشن شروع کیا ہے، افغانستان میں بہت ساری پناہ گاہوں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے، افغانستان میں امن کے لیے ابھی بہت کام وہاں ہوناہے، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے مفاد میں جو ہوسکا وہ کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم انفرا اسٹرکچر نہیں، تمام دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جارہی ہے، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان کا کردار نہ ہوتا تو خطرہ بھارت تک پہنچ چکا ہوتا، غیر مستحکم پاکستان بھارت کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھاکہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے، پچھلے دنوں آرمی چیف تربت گئے، وہاں قیام بھی کیا جہاں کھلے میدان میں ایک شو کا انعقاد کیا گیا جس میں 10 ہزار شہری رات گئے شریک رہے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہاں امن و امان میں بہتری آئی ہے۔
’کراچی امن کی طرف لوٹ رہا ہے‘
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کراچی امن کی طرف لوٹ رہا ہے، 2017 میں کراچی میں 70 نوگو ایریاز تھے لیکن اب نہیں ہے اور آج کے کراچی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا کوئی تصور نہیں، کراچی اور لاہور کے اسٹیڈیم بحال ہوچکے ہیں، چیئرمین پی سی بی کو تجویز دی کہ آئندہ پی ایس ایل ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہو، امید ہے آئندہ پی ایس ایل میچز راولپنڈی، پشاور، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں بھی ہوں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے لئے سب سے پہلا چیلنج سی پیک ہے جسے ہمیں مکمل کرنا ہے، جو پاکستان کو امن کی طرف جاتا دیکھنا نہیں چاہتے وہ اس چیز کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور جو ان کے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہ خفیہ ادارے اور سیکیورٹی فورسز ہیں۔
آرمی چیف اور شہبازشریف کی خفیہ ملاقاتوں کی تردید
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کی اور یہ خبریں چلیں کہ وزیراعلیٰ کی 72 گھنٹوں میں دو مرتبہ ملاقات ہوئی شاید کوئی این آر او ہونے جارہا ہے لیکن ملاقات میں سرحد پر باڑ لگانے کی بات ہوئی، اگر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ کوئی چھپ کر ملاقات ہوئی تو یہ غیرذمہ داری والی بات ہے۔
ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ سیکیورٹی کا معاہدہ ہے، سعودی عرب سے باہمی معاہدے کے تحت ہی پاکستانی فوج وہاں جائے گی اور سعودی عرب بھیجی جانے والی پاکستانی فوج یمن جنگ کا حصہ نہیں ہوگی، پاکستانی فوج ایران کےخلاف بھی کسی عمل کاحصہ نہیں ہوگی، پاکستانی فوج صرف سعودی عرب کی سرحدی حدود کے اندر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قراراد د تھی کہ یمن کے خلاف فوج نہیں بھیجیں گے اور فوج نہیں گئی، پاکستان کسی ایسی چیز کا حصہ نہیں بنے گا جو کسی ملک کے مفاد کے خلاف ہو، افواج پاکستان کا تعلق بنیادی طورپر سیکیورٹی کے ساتھ ہے۔
باجوہ ڈاکٹرائن پر وضاحت
باجوہ ڈاکٹرائن سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی خواہش ہے کہ پاکستان اُس امن کی طرف چلا جائے جو تمام پاکستانیوں کی خواہش ہے اور یہی باجوہ ڈاکٹرائن ہے اس کا کچھ اور مطلب نہ لیا جائے، باجوہ ڈاکٹرائن میں 18 ویں ترمیم یا عدلیہ کا کوئی ذکر نہیں لہٰذا 18 ویں ترمیم کو باجوہ ڈاکٹرائن کا حصہ بناکر نہی دیکھا جائے۔
نقیب اللہ کیس کا تذکرہ
نقیب اللہ قتل کیس سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نقیب محسود سے متعلق زیادہ معاملہ افغانستان کی طرف سے اٹھایا گیا، اس کیس میں راؤ انوار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، نقیب اللہ محسود کے قتل میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کرانا اور اس کا ٹائم فریم آئین میں ہے، آرمی نے الیکشن کا اعلان نہیں کرنا، الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، اس میں تمام لوگوں کا کردار ہے اور انتخابات کے حوالے سے ہر وہ کام کریں گے جو آئین کے تحت کہا جائے گا۔
بشکریہ جیو نیوز۔

