میرا جسم میری مرضی تو جس کی آنکھیں اس کی نظریں بھی سہنا سیکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میرا جسم میری مرضی“ اور ”کھانا خود گرم کرو“ کے بینر پہلی بار ایک احتجاج میں دکھائی دیے۔ تب سے ہر کوئی اس پر لکھ رہا ہے۔ ہم نے ایک رقاصہ سے اس بارے میں بات کی۔ وہ اپ کو بعد میں سنائیں گے۔ پہلے ایک بوڑھی اماں کا قصہ بتانا ہے۔   اماں کی باتیں ان کے لیے تازیانہ ہیں جو ہراسانی کا بتاتی ہیں۔ یہ کہتی ہیں کہ انہیں گھورا جاتا ہے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ یہ  اماں سفر کر رہی تھیں۔ بس میں ایک لڑکی بھی تھی جس نے ٹائٹس پہن رکھی تھیں۔ اماں نے اس سے پوچھا کہ بیٹی یہ کیا پہنا ہوا ہے۔ اماں  میں سکن ٹائیٹ جینز میں ایک لڑکی کے ساتھ ہم سفر تھی تب بی اماں کی نظر لڑکی کے لباس پر پڑی تو اماں نے پوچھ لیا کہ بیتی یہ کیا پہن رکھا ہے؟ لڑکی نے جواب دیا اماں یہ آج کل فیشن ہے۔

اماں نے کہا آئے ہائے شرم کر۔ لڑکی نے آگے سے جواب دیا اماں میرا جسم ہے میری مرضی۔ اماں چپ کر گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ لڑکی اماں سے بولی کہ سامنے والا لڑکا اسے گھور رہا ہے۔ اماں نے کہا تمھارا جسم تمھاری مرضی ہے تو اس کی آنکھیں اس کی مرضی۔ اب اس میں برا لگنے کی کیا بات ہے۔

یہی ٹاپک لے کر ہم نے ایک رقاصہ سے بات کی۔ وہ حیات آباد پشاور میں رہتی ہے۔ رقص ہی اس کا ذریعہ روزگار ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ گھریلو خواتین پر رشک کرتی ہوں۔ ہماری قسمت ایسی تھی کہ یہ زندگی گزار رہے ہیں۔ رقاصہ تھی جسم فروش بن کے رہ گئی ہوں۔ لوگ رقص میں اتنی دلچسپی نہیں لیتے جتنی جسم میں لیتے ہیں۔ روٹی روزی کے لیے اس گڑھے میں گری تھی تو گرتی چلی گئی۔

اس کا کہنا تھا ”میرا جسم میری مرضی“ خطرناک بات ہے۔ ”کھانا خود گرم کرو“ جیسے نعرے لگانے آسان ہیں۔ مجھے یہ باتیں سن کر پڑھ کے خوف آتا ہے۔ ایسی باتیں کرنے والیوں سے ہی ہمارے کوٹھے آباد ہوتے ہیں۔ مردوں کے معاشرے میں یہ نعرے تباہی ہیں۔ ایسی باتیں تنہا کرتی ہیں۔ تنہائی بھوک لاتی ہے۔ بھوک انسان کو وہاں پہنچا دیتی جہاں آج میں بیٹھی ہوں۔

جسم میری مرضی کا نعرہ سوچے سمجھے بغیر لگ رہا ہے ۔ یہ باتیں کرنے والیوں نے ہماری طرف دھیان کیا ہوتا تو ایسے نہ کہتیں چپ رہتیں۔ یہاں سب تن کے متلاشی ہیں۔ من کوکوئی نہیں دیکھتا۔ ہماری بھی خواہش ہے ہمارا بھی گھر ہو۔ بچے ہوں صبح اُن کے لئے ناشتے کی تیاری کریں۔ ہر وقت بچوں کی کھٹ پٹ ہو۔ کوئی گھر والا ہوتا اس سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں ہوتیں۔ اک دوسرے کو منایا کرتے۔ اس کے لیے گول روٹی بناتے کھانا گرم کرتے۔ جب جب اسے بھوک لگتی ہم خدمت کو تیار ملتیں۔

ناچ گانے سے تنگ آ گئے ہیں۔ یہ اچھا لگتا ہے جب اپنی شادی پر کوئی خوشی سے ناچے۔ اس کے گھر والے اس کے دوست ناچیں۔ پرائی شادی پر پیسوں کے لیے ناچنا بے کسی ہے۔ زمانہ خراب ہے ایسے جینا کوئی جینا نہیں۔ میرا جسم میری مرضی کھانا خود گرم کر لو کہنا میرے لیے گناہ ہے۔ میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ میرا کوئی ہو جس کے لیے میں کھانا گرم کروں جس کی مرضی ہی میری مرضی ہو۔
میرا جسم میری مرضی کہیں گے تو جس کی آنکھیں اس کی نظریں بھی سہنی ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •