مجھے باہر بھجوانے میں سابق آرمی چیف جنرل کیانی کا کردار رہا، ملالہ
کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ پاکستان واپس آنے پر بہت زیادہ خوش ہوں، پاکستان واپسی میں حکومت اور فوج نے مدد کی ہے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقل پاکستان واپس آجاؤں گی، پاکستان میں بچوں کی تعلیم کیلئے کام کروں گی، مثبت ہوں یا منفی خبریں بالکل نہیں دیکھتی ہوں، لوگوں کی مدد کرنا میرا مشن اور اسلام کا پیغام بھی ہے، ملالہ فنڈ کا مقصد ہر بچی کوتعلیم دینا ہے، پڑھے لکھے ترقی پسند لوگوں کی طرف سے مخالفت پر حیرت ہوتی ہے، فاٹا کے مسئلہ کا بہترین حل اسے خیبرپختونخوا کا حصہ بنانا ہے،
پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے چاہئیں،پاکستان اور بھارت دونوں سے کہوں گی مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔ وہ جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہی تھیں۔ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ پاکستان واپس آنے پر بہت زیادہ خوش ہوں، پاکستان میں بچوں کی تعلیم کیلئے کام کروں گی، ہر بچی کو اعلیٰ تعلیم کی فراہمی یقینی بنائیں گے تاکہ وہ اپنے خواب پورے کرسکے،2012ء اور 2018ء کے پاکستان میں فرق نظر آتا ہے، پاکستان میں مثبت تبدیلی آئی ہیں، چیزیں بہتر ہورہی ہیں، لوگ بہتر پاکستان کیلئے متحد اور سرگرم ہورہے ہیں، اس سال پی ایس ایل کے چند میچز پاکستان میں ہوئے، اگلے سال کا پی ایس ایل مزید اچھا ہوگا، تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقل پاکستان واپس آجاؤں گی، پاکستان میرا ملک ہے اس پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور پاکستانی کا ہے۔
ملالہ یوسف زئی نے بتایا کہ میرے ساتھ زخمی ہونے والی کائنات اور شازیہ نے میٹرک اور کالج کی تعلیم ویلز میں اٹلانٹک کالج سے حاصل کی اور اب گلاسکو ایڈنبرا یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں، میں نے ڈونرز کے ذریعہ ان دونوں کو اسکالرشپس دلوائیں۔ ملالہ یوسف زئی کا کہناتھا کہ لوگوں کی مدد کرنا میرا مشن اور اسلام کا پیغام بھی ہے، ملالہ فنڈ کا مقصد ہر بچی کوتعلیم دینا ہے، ملالہ فنڈ کی توجہ ان ممالک پر ہے جہاں بچیاں اسکولوں سے زیادہ تعداد میں باہر ہیں، اس فہرست میں پہلے نمبر پر نائیجیریا پھر پاکستان ہے، پاکستان میں تمام بچے اسکول جائیں اس کیلئے کوششیں کررہے ہیں، اس کیلئے سوات اور شانگلہ میں منصوبے شروع کیے ہیں۔ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ مجھے نہیں پتا پاکستان میں لوگ مجھ پر تنقید کیوں کرتے ہیں، دہشتگرد مائنڈ سیٹ تو میرے خلاف ہوسکتا ہے لیکن ملک کے پڑھے لکھے ترقی پسند لوگوں کی طرف سے مخالفت پر حیرت ہوتی ہے، اگر کوئی میری کتاب کے کچھ حصوں سے خوش نہیں تو آکر بات کرے، اپنی کتاب کے سیکنڈ ایڈیشن میں تھوڑی سی ترمیم کی ہے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کے ساتھ peace be upon him نہیں تھا وہ ہم نے اضافہ کردیا ہے،
مجھے سچ بولنا ہے اگر کسی کو سچ سے تکلیف ہے تو میں کچھ نہیں کرسکتی۔ ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک اسکول کے بچوں کے ساتھ موازنہ کرنا نیچ قسم کے خیالات ہیں، مثبت ہوں یا منفی خبریں بالکل نہیں دیکھتی ہوں، میں ٹی وی بھی نہیں دیکھتی، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے دفتر سے ٹی وی ہٹا کر اچھا کیا ہے، مجھے باہر بھجوانے میں سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کردار رہا ان کے کردار کو سراہتی ہوں، حملے کے بعد میرا ٹریٹمنٹ آرمی کے ڈاکٹر نے کیا تھا، اگر انہوں نے میری سرجری وقت پر نہ کی ہوتی تو میں آج یہاں نہ ہوتی، برطانیہ میں ٹریٹمنٹ کیلئے حکومت اور فوج نے میری بہت سپورٹ کی۔ ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ پاکستان واپسی میں حکومت اور فوج نے مدد کی اور سیکیورٹی دی، ان کی مدد کے بغیر میرا پاکستان آنا بہت مشکل ہوتا، انشاء اللہ اگلی بار بغیر سیکیورٹی کے پاکستان آؤں گی، پاکستان کی سڑکوں اور بازاروں میں گھومنا اور لوگوں سے بات کرنا میرا خواب ہے، اہم بات بچوں کی تعلیم ہے اور ہمیں اس پر توجہ دینی چاہئے۔
ملالہ یوسف زئی نے بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستان سوسائٹی کی ترجمان ہوں، اسکول اور باہر کی سرگرمیوں کو مینج کرنا مشکل ہوتا ہے، مجھ پر بننے والی فلم کے حوالے سے کسی نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا، پاکستان بہتری کی طرف جارہا ہے معیشت ترقی کررہی ہے، نوجوان نسل پاکستان کی امید ہے، ہمارے پاس ایسے رول ماڈلز ہیں جنہوں نے پوری زندگی جدوجہد میں گزاری، عاصمہ جہانگیر رول ماڈل تھیں جنہیں ہم نے کھودیا، عاصمہ جہانگیر کے انتقال سے پانچ دن قبل ان سے ملاقات ہوئی تھی، بہادری کو ایک انسان کی شکل دینا ہو تو وہ عاصمہ جہانگیر تھیں۔ ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ آنگ سان سوچی کو میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم پر بولنا چاہئے تھا، آنگ سان سوچی کے رویے سے دنیا میں لوگ خفا ہوئے، ان سے نوبل انعام واپس لینا نوبل پرائز کمیٹی کا فیصلہ ہوگا، کشمیریوں کا فیصلہ ہوگا کہ وہ آزادی چاہتے ہیں، انڈیا کے ساتھ رہنا چاہتے یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں اس میں کسی ملک کو مداخلت نہیں کرنا چاہئے، کشمیری بچوں کا تحفظ اور اسکول جانا ان کا حق ہے، کشمیریوں نے ابھی تک امن نہیں دیکھا ہمیں انہیں امن دینا چاہئے، کس کو قبول ہوگا کہ وہ خطرے میں ہو اور اسکول بھی نہ جاسکے، پاکستان اور بھارت دونوں سے کہوں گی مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے، پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے چاہئیں۔
ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ فاٹا کے لوگوں کو بھی باقی پاکستانیوں کی طرح حقوق ملنے چاہئیں، فاٹا میں ووٹ ڈالنے کیلئے بھی مکمل حقوق حاصل نہیں ہیں، فاٹا کے مسئلہ کا بہترین حل اسے خیبرپختونخوا کا حصہ بنانا ہے۔ ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ برطانیہ میں تعلیمی نظام بہت اچھا ہے، برطانیہ میں بچوں کو کہا جاتا ہے کہ آپ سوال کریں،چیزوں کو سمجھیں، بغیر سمجھے رٹا نہ لگائیں، تمام پاکستانی بچوں سے کہوں گی سوال کریں، تعلیم پر فوکس کریں اور جو بچے اسکول نہیں جاسکتے ان کیلئے بھی بولیں۔
بشکریہ؛ روزنامہ جنگ



Comments are closed.