ڈاکٹر خالد سہیل کے نام


ڈاکٹر صاحب آپ کا مضمون با عنوان” کیا مذہب کے ماننے والے اور نہ ماننے والے دوست ہوسکتے ہیں” پڑها۔ پہلی بات جو منفرد تهی وہ آپ کا اقرار تها کہ آپ ملحد ہیں۔ وگرنہ پاکستانی معاشرے میں اسلام کا لبادہ پہن کر الحاد کا پرچار کرنے والوں کی کمی نہی۔ اس لحاظ سے آپ ان پر اخلاقی برتری رکهتے ہیں۔

مجهے یا کسی کو بهی آپ کے نظریے پر اعتراض اس لئے نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ آپ پڑهے لکهے انسان ہیں اور ہم نے آپ کا جواب نہیں دینا۔ بس کچھ سوال ہیں جو آپ ہی سے کرنے کا دل چاہا۔

کیوں نہ وہیں سے شروع کیا جائے جہاں سے آپ کا بدلائو شروع ہوا تها۔

آپ ایک کمنٹ کے جواب میں لکهتے ہیں کہ بارہ سال کی عمر میں ایک بزرگ سے ہوئے مکالمے نے آپ کو سوچنے پر مجبور کیا۔ گذارش یہ تهی کہ کیا واقعی آپ کسی مذہب کے پیروکاروں کے رویے یا خلط ملط نظریات جن میں کسی مخصوص خطے کے سماجی و معاشرتی رسوم کا غلبہ ہوتا ہے ، سے متنفر ہوئے یا پهر آپ نے ان ادیان اور ان کے راہبروں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا۔ آپ کی بات سے لگتا ہے کہ پہلے والی بات ہی اس تبدیلی کا محرک تهی۔ اگر ایسا ہے تو آپ نے اپنے لوگوں کے ساتھ واقعی زیادتی کی ہے۔ آپ کو ایک ایسا ماحول اور صلاحیتیں ملیں کہ آپ معاشرے کی خرابیوں کی اصلاح کرسکتے تهے ، آپ نے ان برائیوں سے کنارہ کشی کرلی۔

آپ ایک ڈاکٹر ہیں۔ کوئی مریض آپ کے پاس آئے جس کے بدن میں ڈهیر ساری بیماریاں ہوں تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا۔ اسے مرنے کے لئے چهوڑ دیں گے یا کوئی تدبیر اس کے معالجے کی کریں گے۔ آپ جیسے انسان دوست معالج کے بارے میں کوئی سوچ بهی نہیں سکتا کہ اسے مرنے کے لئے چهوڑدیں۔ تو پهر دو صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ یا تو آپ اس کا علاج کریں گے اور اگر وہ آپ کی مہارت کے علاوہ کوئی مرض ہے تو بهی دو ہی صورتیں ہیں۔ پہلی کہ اگر کوئی ماہر آپ کے علم میں ہے تو اسکی طرف ریفر کریں گے۔ اور اگر کوئی معالج نہیں تو آپ کی کوشش ہوگی کہ اس مرض پہ میڈیکل کی رو سے کوئی تحقیق کرکے کوئی حل نکالیں۔ سائینس انسان کو سوچنے اور دستیاب چیزوں میں سے ہی حل نکالنے کا بتاتی ہے۔

آپ کا معاملہ اس کے بر عکس نظر آتا ہے۔ آپ معاشرے سے بیزار ہوئے اور نیا معاشرہ بنا لیا۔

کیا آپ نے اسلام کو بطور دین پڑها؟

کیا آپ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو پڑها اور اگر پڑها بهی تو کس کتاب سے۔

کیا انسانوں کے حقوق سے متعلق قرآنی تعلیمات کا مطالعہ کیا؟

خواتین سے متعلق احکامات خداوندی کیا ہیں؟

یقینا آپ نے ہم ایسے حرص و ہوس کے پجاری، جو اخلاق رذیلہ کے مجسم نمونے ہیں، کو دیکه کر اتنا بڑا فیصلہ کیا ہوگا ۔ آپ نے لوگوں کو دیکها ہوگا جو اسلام کو بطور مذہب اپنائے ہوئے ہیں اور اس میں بهی اپنے مطلب کی آمیزش کی ہوئی ہے۔

یقینا آپ نے ایسے سیاستدانوں کو دیکها ہوگا جو مذہب کے نام پہ لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ بلاشبہ مذہب فروش ملا اپ کو جا بجا ملے ہونگے جو مذہب کی آڑ میں اختیارات کا پہاڑ سروں پہ اٹهائے پهرتے ہیں۔ ہر گلی کونے میں ایسے لوگ مل جائیں گے جو ملاوٹ کا زہر نسوں میں گهول کر بهی سخی و غنی کہلاویں۔

لیکن کیا جو لادین ہیں وہ ان برائیوں سے پاک ہیں۔

کیا بارود سے لیکر ایٹم بم تک ایسے لوگوں کی ایجادات نہیں ہیں؟

دنیا میں آج جاری جنگوں کے پیچهے کون سی قوتیں کار فرما ہیں؟

خیر یہ میرا مدعا نہیں۔ میری گذارش یہ ہے کہ آپ ایک بار دین اسلام کا مطالعہ کریں۔ اس کے لئے آپ کسی کی تحریر کا سہارا نہ لیں۔ شاید آپ کو لگے کہ مسلمانوں نے سائنس میں تو کچھ کیا نہیں بس ایک ہی کام کیا کہ مذہب کا پرچار کیا جائے۔ اپنی اپنی کتابیں چهاپ کر علیحدہ دکانداری چمکائی جائے۔ آپ قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور نبی کریم کی ذندگی کا مطالعہ کریں۔ پهر ایک مضمون "ہم سب” کے لئے لکهیں۔ جس کا عنوان ہو -انسانیت اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ۔

میرا خیال ہے کہ آپ کا قلم عدل کرے گا اور بلا شبہ یہ ادب کی خدمت بهی ہوگی۔