شہید کی بیوہ اور اخلاقی موقف کی تنہائی


طالب علمی کے دن تھے۔ یہ دریافت کا موسم ہوتا ہے۔ توقعات کا مرحلہ ہوتا ہے، امکان کا خوش رنگ پرندہ گویا کندھوں کے آس پاس ہوا میں چھوٹے چھوٹے چکر لگاتا ہے۔ ایک ہم جماعت کے بارے میں معلوم ہوا کہ کسی شہید فوجی افسر کی بیوہ ہیں۔ عمر میں پانچ سات برس بڑی رہی ہوں گی۔ ایک سوگوار سا ہیولا تھا جو دھویں کی طرح برآمدے سے گزر جاتا تھا۔ حزن کی ایک تصویر تھی، کچھ حقیقی اور کچھ غیر مرئی۔ کچھ کم عمری تھی اور کچھ طبقاتی حجاب۔ کبھی بات نہیں ہو سکی۔ اڑتی اڑتی سی خبر معلوم ہوئی کہ ہمارے شعبے کے ایک عمر رسیدہ استاد اٹھائیس برس کی بیوہ کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسے پھر سے شادی کر کے شہید کی بیوہ ہونے کا اعزاز کھونا نہیں چاہئے۔ اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ شہید کے نام پر باقی زندگی گزار دے۔

ہم لوگوں کا کوئی ذاتی ربط تو نہیں تھا مگر استاد کی یہ بات کچھ غیر فطری اور ظالمانہ سی محسوس ہوئی۔ چند ماہ بعد معلوم ہوا کہ محترمہ نے کسی سے رفاقت کا بندھن قائم کر لیا ہے۔ استاد محترم کا تجویز کردہ اعلیٰ اخلاقی مقام غالباً ردی کی کسی ٹوکری میں پھینک دیا گیا تھا۔ ایک نامعلوم سی خوشی ہوئی۔ پارسائی اور بلند اخلاقی موقف کی تلقین کرنے والے استاد سے قطع نظر، ہمیں خوشی تھی کہ ہماری بیوہ ہم جماعت نے زندگی سے رابطہ استوار رکھا۔ زندگی کی حقیقتوں سے کٹ کے اپنایا جانے والا اخلاقی موقف بالآخر بے مقصد زیاں اور داخلی ٹوٹ پھوٹ کا نشان بن جاتا ہے۔

معاملہ محض ایک انسان کی ذات کا نہیں۔ ہم نے اپنے ملک کے لئے بھی ایک المیہ کردار تخلیق کر رکھا ہے جو اپنے تجویز کردہ اخلاقی موقف کی پگڈنڈی پر بار بار لڑکھڑاتا ہے، کچلا جاتا ہے۔ حقیقتوں کے منہ زور گھوڑے وقفے وقفے اپنے سموں سے چنگھاڑیاں اڑاتے اس خاک کے پتلے کو روندتے ہوئے گزرتے ہیں۔ مگر ہم گھائل جسم و جاں کے ساتھ پھر سے اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے ایک بلند اخلاقی موقف اختیار کر رکھا ہے اور یہ کہ ہم سچائی پر ہیں۔ ہمارا راستہ ہی حقیقی ترقی اور حقیقی بہتری کی طرف لے کر جاتا ہے۔

پاکستان قائم ہوا تو حقیقی خدشات موجود تھے کہ کیا دستیاب معاشی مسائل کے ساتھ اس قوم کو زندہ رکھا جا سکے گا؟ شرح خواندگی بہت کم تھی۔ فی کس آمدنی تین ہندسوں میں بھی نہیں تھی۔ ریاستی بندوبست کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ صنعتوں کا نام و نشان نہیں تھا۔ لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری کا مسئلہ پیش آ گیا تھا۔ معیشت، سیاست اور تجارت کے بڑے بڑے مراکز ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ ان حالات میں ہم نے ایک دوسرے کا حوصلہ بندھانے کے لئے کچھ نکات دریافت کیے۔ ہم نے اعلان کیا کہ ہمارے ملک میں غیر معمولی صلاحیت کے حامل افراد موجود ہیں۔ اس میں کچھ حقیقت بھی تھی۔

اصل نکتہ تو یہ ہے کہ قوموں کو محض غیر معمولی صلاحیت مند افراد کے بل پر نہیں چلایا جا سکتا۔ اسی مشق میں ہم نے وہ تمام وسائل بیان کئے جو ہمارے پاس موجود تھے اور جو نہیں تھا، اس کا ذکر نہیں کیا۔ تیل ہمارے پاس نہیں تھا۔ ضروری دھاتوں کے ذخائر ہمارے پاس نہیں تھے۔ ساز و سامان، مصنوعات حتیٰ کہ کیمیائی اجزا بھی درآمد کرنا تھے۔ ملک کا آئین بنانا تھا۔ جمہوری ثقافت کی بنیاد رکھنا تھی۔ قومی اور تہذیبی توانائی کے نئے سرچشمے دریافت کرنا تھے۔ ہم نے آئین بنانے میں تاخیر کی۔ جمہوریت سے گریز کو اپنے لئے افتخار جانا۔ ہم نے معیشت کی کمزوریوں کا مداوا کچھ بڑی قوتوں کی سرپرستی میں ڈھونڈا۔

عام آدمی کے معیار زندگی میں بہتری، پیداوار، مصنوعات اور تجارت کے راستے آتی ہے۔ بیرونی مدد پر انحصار کیا جائے تو بیرونی مفاد کی اطاعت بھی کرنا پڑتی ہے۔ اگر ہمارے پاس بیچنے کو کچھ نہیں تو بیرونی دنیا کے عسکری مفادات کا تحفظ ہی کرنا ہو گا۔ ہم نے یہی راستہ اپنایا۔ بیرونی مدد کا بڑا حصہ دفاعی قوت کو بڑھانے میں لگا دیا۔ خواندگی ہماری ترجیح نہیں تھی۔ زرعی اصلاحات ہم نے نہیں کیں۔ آئین ہم نے نہیں بنایا۔ جمہوریت کو ہم نے اجنبی اور ناموزوں بندوبست قرار دے دیا۔ اب ہمارا انحصار مفروضہ فوجی فتوحات میں تھا۔ اکتوبر 1947 میں واضح ہوگیا کہ ہم عسکری قوت کے بل پر بھارت سے اپنا موقف نہیں منوا سکتے۔ ہم نے خارجی دنیا سے مدد چاہی۔ خارجی دنیا تو اپنے مفاد کے تابع ہوتی ہے۔

ہماری مایوسی، بیگانگی اور مخاصمت میں اضافہ ہوتا رہا لیکن ہم اپنی ناکامیاں دوسروں کے دروازے پر چھوڑ آتے تھے۔ 65 کی لڑائی میں ہم نے دستیاب ہتھیاروں کے بارے میں ریاستی ضمانت سے روگردانی کی۔ میدان جنگ میں دو طرفہ تعطل کو ہم نے اپنی فتح گردانا اور مطلوبہ ہدف کے حصول میں ناکامی کو مذاکرات کی میز پر منڈھ دیا۔ وفاق کا ڈھانچا ہم نے اطمینان بخش بنیادوں پر نہیں اٹھایا تھا۔ ملک کے مشرقی حصے کی لڑائی ہم ہار گئے۔ ہم نے کچھ افراد کی ناہلی اور اغیار کی بے وفائی پر الزام دھرا۔ اس عرصے میں بیرونی امداد، سرمایہ کاری، فوجی امداد اور زراعت میں کھاد اور مشین کے انقلاب کی بدولت ہماری شرح نمو پانچ سے چھ فیصد رہی۔ اس میدان میں ہمسایہ حریف ہم سے پیچھے رہا۔ خلیج میں محنت کشوں کی برآمد سے ہمیں فائدہ ہوا۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف غیرعلانیہ مزاحمت سے ہمیں فائدہ ہوا۔ ہمارے اتحادیوں نے سرد جنگ جیت لی تو ہماری توقعات بڑھ گئیں۔

اب سے ٹھیک پچیس برس پہلے تین اہم تبدیلیاں نمودار ہوئیں۔ سرد جنگ کے خاتمے سے عالمی معیشت کا نیا دور شروع ہوا۔ دوم ہمسایہ ملک بھارت نے نہرو کا معاشی نمونہ ترک کر کے نئی معیشت میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ بھارت کی صنعتی، تجارتی، ثقافتی، تمدنی اور جمہوری بنیاد موجود تھی۔ تیسری اہم پیش رفت یہ کہ ہم نے سرد جنگ کے دوران دریافت کردہ درپردہ اثاثوں کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ ہم سرد جنگ کے دوستوں کی حمایت کھو بیٹھے۔ ہماری معیشت بدستور دست نگر رہی۔ تعلیم اور خواندگی کے ہدف ہم ہار گئے۔ ہماری درپردہ پالیسی کا ملبہ ہماری زمین پر آن گرا۔

ہمیں پچیس برس پہلے دہشت گردی کا مسئلہ درپیش ہو چکا تھا۔ فرقہ وارانہ مار دھاڑ شروع ہوچکی تھی۔ کراچی میں جرم اور سیاست کی سرحدیں گڈ مڈ ہوچکی تھیں۔ ملک کے اندر اقتدار کے متوازی مراکز قائم ہوچکے تھے۔ سیاسی جماعتوں کے نام پر کٹھ پتلیوں کی حکومت بنائی اور گرائی جاتی تھیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں 1989 سے 1996 تک افغان خانہ جنگی میں ملوث رہنے سے کیا ملا۔ کیا کشمیر میں اخلاقی اور سفارتی مدد بارآور ہوئی؟ کیا 1997 میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کابینہ کے کسی اجلاس میں کیا گیا تھا؟ 1996 میں بھارت نے ورلڈ ٹریڈ آرگنازیشن کا تقاضا پورا کرتے ہوئے پاکستان کو ایم ایف این کا اسٹیٹس دیا تھا۔ (پاکستان کی وفاقی کابینہ نے بھی دو ہزار گیارہ کے موسم خزاں میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا۔ اس کی فیصلے پھر کوئی سن گن نہیں ملی۔) 1993 کے بمبئی دھماکوں سے داؤد ابراہیم کا نام اچھلا۔

ایمل کانسی اور یوسف رمزی انہی برسوں کی بازگشت ہیں۔ ریاض بسرا نامی ایک شخص دسمبر 2001 میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد نامعلوم مقام پر مارا گیا۔ 1999 میں کارگل ہوا۔ اسی برس دسمبر میں بھارت کا ایک ہوائی جہاز اغوا کر کے قندھار لے جایا گیا تھا۔ دسمبر 2001 میں بھارت کی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا جب مشرقی سرحد پر تورا بورا کی لڑائی جاری تھی۔ 7 جولائی 2005 کے لندن دھماکوں میں مرنے والی لڑکے کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔ 2008 میں ممبئی حملے ہوئے۔ اجمل قصاب کی شناخت کے معاملے پر ہم نے جنرل محمود درانی کی چھٹی کرائی تھی۔ ٹائم اسکوائر میں دہشت گردی کی کوشش کرنے والا پاکستانی نژاد تھا۔ 2011 میں اسامہ بن لادن پاکستان میں مارا گیا۔ ساں بارناڈینو میں حملہ آور عورت اور مرد پاکستان نژاد تھے۔ ملا اختر منصور پاکستان میں مارا گیا۔ پٹھان کوٹ کے حملوں کے بعد ہم نے کچھ لوگوں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ستمبر 2016 میں اڑی کے حملے تو سامنے کی بات ہے۔

دنیا بھر میں دہشت گردی کے بہت سے ایسے واقعات ہوئے جہاں قدموں کے نشان ہماری دہلیز تک آئے۔ دنیا نے پاکستان کی ریاست پر دہشت گردوں کی مدد کرنے کا الزام نہیں لگایا۔ مشکل یہ رہی کہ پاکستان نے دہشت گردی کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت تو کی لیکن خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں دہشت گردی کو ایک پالیسی متبادل کے طور پر رد نہیں کیا۔ نتیجہ یہ کہ ہمارا اخلاقی موقف دنیا میں پٹ گیا۔ تین ممالک لیجئے۔ امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب۔

گزشتہ تین برس میں ان ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں تبدیلیوں پر غور کریں۔ سعودی عرب کے شاہ عبدالله، ہندوستان کے قومی یوم جمہوریہ میں مہمان خصوصی تھے۔ آئندہ برس یو اے ای کے ولی عہد یوم جمہوریہ پر مہمان ہوں گے۔ ہم نے روس اور پاکستان کی مشترکہ فوجی مشقوں کا ڈھنڈورا پیٹا لیکن یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ عین اس وقت چین بھی بھارت کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں مصروف تھا۔ جنوری 2015میں صدر اوباما بھارت کے دورے پر تھے اور انہوں نے بمبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔عین اس وقت حافظ سعید لاہور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ گزشتہ برسوں میں برطانیہ اور بھارت کے ہر مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان تمام اعلامیوں میں کشمیر کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔

اس وقت امریکہ میں تیس لاکھ بھارتی باشندے آباد ہیں۔ تیس لاکھ بھارتی باشندے برطانیہ میں ہیں اور پندرہ لاکھ سعودی عرب میں۔ چین کے ساتھ بھارت کا تجارتی حجم 72 ارب ڈالر ہے۔ امریکہ کے ساتھ بھارتی تجارت 64 ارب ڈالر ہے۔ متحدہ عرب امارت کے ساتھ بھارت کی تجارت 60 ارب ڈالر ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ بھارت کی تجارت 40 ارب ڈالر ہے۔ سمجھنا یہ چاہیے کہ یہ ممالک پاکستان کے ساتھ دشمنی میں بھارت کے تعلقات پیدا نہیں کر رہے۔ بھارت کا اقتصادی امکان دنیا بھر کی معاشی قوتوں کو وہاں لا رہا ہے۔ بھارت کے زرمبادلہ کی ذخائر 367 ارب ڈالر ہیں اور پاکستان میں زرمبادلہ کا حجم 24 ارب ڈالر ہے۔ بھارت کا جغرافیائی محل وقوع اہم ہے۔ اس کی عسکری صلاحیت بہت زیادہ ہے اور اس ملک میں جمہوری بندوبست کا تسلسل موجود ہے۔ ایک نظر جنوبی ایشیا پر ڈال لینی چاہئے۔ حال ہی میں بھارت نے اسلام آباد میں سارک ممالک کے سربراہ اجلاس سے علیحدگی کا اعلان کیا تو افغانستان بنگلہ دیش اور بھوٹان نے بھی سارک کانفرنس سے شرکت سے انکار کر دیا۔ کشمیر سمیت تمام معاملات پر پاکستان کا ریاستی موقف بلند اخلاقی اصولوں پر استوار ہے لیکن ہم اس اصولی موقف کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں کر پا رہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ

پاکستانی سفارتکار زیادہ مستعد ہوں۔ پاکستان کی سیاسی قیادت زیادہ دو ٹوک موقف اختیار کرے۔ مشکل یہ ہے کہ دو ٹوک موقف اختیار کرنے والے ملک میں معاشی مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ پاکستان کا قوم پرست صحافی، پاکستان کا عقاب صفت سیاستدان اور پاکستان کا اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر کاربند دانشور اپنے ہاتوں میں اخلاقی موقف لئے فٹ پاتھ پر کھڑے ہیں اور دنیا جوق در جوق ان دکانوں کا رخ کر رہی ہے جہاں بیچنے کو بہت سا مال ہے، جہاں امن و امان کی صورت حال بہتر ہے اور جہاں گاہک خود کو محفوظ خیال کرتے ہیں۔ ہم بار بار اعلان کر رہے ہیں کہ ہم عالمی تنہائی کا شکار نہیں ہیں۔ تاہم ہم یہ نشاندھی کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ دوستی کے اس نخلستان میں ہمارا ساتھ دینے والے ممالک کون کون سے ہیں اور ہم ان کے ساتھ کن بنیادوں پر ہم آہنگی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

شہید کی کم عمر بیوہ ہر ایک سے اپنا دکھ بیان نہیں کرتی مگر یہ واضح ہے کہ اعلیٰ اخلاقی موقف کی تلقین کرنے والا سن رسیدہ استاد اپنا موقف ہار چکا ہے۔ جیت زمینی حقیقت، جبلت کے تقاضوں اور معیشت کے اصولوں کی ہوتی ہے۔


2 thoughts on “شہید کی بیوہ اور اخلاقی موقف کی تنہائی”

  • 10/11/2016 at 11:50 شام
    Permalink

    بہت جامع سہ جہتی چنگھاڑتی ہوی تحریر،،واہ جی واہ

  • 11/11/2016 at 1:51 شام
    Permalink

    برصغیری معاشرے میں جوان بیوائیں دو طرح کی ہوتی ہیں ۔ ایک وہ جن کے شوہر مر جاتے ہیں اور دوسری وہ جن کے شوہر زندہ ہوتے ہیں ۔ دنیا میں موجود ہوتے ہیں مگر نہ ہونے کے برابر ۔ اور اس نہ ہونے کی بھی دو قِسمیں ہوتی ہیں ۔ اور ان کے پیچھے متعدد محرکات ۔ اور وہ مؤقف جو عورت کو عالم برزخ قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔ اور ہمارے سماج میں اس نام نہاد اخلاقی مؤقف کی جڑیں کتنی مضبوط اور توانا ہیں اسکا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی کے بہت سارے قیمتی سنہرے سال ندی کے دو کناروں کی طرح گذار دیئے جاتے ہیں کہ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں پھر بھی تنہا ہیں ایکدوسرے سے دور اور جدا ہیں ۔ ایک شہید کی بیوہ کے پاس ایک آپشن تو ہوتا ہے اور بیوی کو اپنی زندگی ہی میں بیوہ کر دینے والوں کے پاس بھی ۔

Comments are closed.