کیا پاکستانی ڈرامہ بدلنے کو ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ کچھ عرصے کے دوران ہمیں مختلف چینلز پر ایسے ڈرامے دیکھنے کو ملے اور جاری بھی ہیں جو ہمارے روایتی موضوعات کے برعکس ہیں۔ اڈاری، سمی، یقین کا سفر، او رنگریزا، آخری سٹیشن، ڈر سی جاتی ہے صلہ، زن مرید وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ یہ ڈرامے بالترتیب چائلڈ ابیوز، ونی، چوہدری کے بیٹے کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کا مجرم کو قتل کر دینا اور ایک دوسری لڑکی کا تمام تر مخدوش حالات کے باوجود ڈاکٹر بن جانا، ایک نوجوان لڑکی کا اداکارہ بننے کا خواب پورا کرنے کے لیے ہر حد تک چلے جانا، ازدواجی زیادتی (marital abuse)، گھر کے اندر رشتہ دار مردوں کے ہاتھوں خواتین اور بچیوں کی جنسی ہراسگی اور زیادتی، اور ایک بیوی کا تحفظِ خواتین بل کے تحت شوہر کے تشدد کے خلاف پولیس کی مدد حاصل کرنے کے موضوعات پر مبنی تھے / ہیں۔ ایک اور ڈرامہ ’استانی جی‘ شروع ہونے کو ہے جس میں ایک خاتون مسائل کا شکار اور مظلوم خواتین کی مدد کرتی ہے۔ اسکے پروموز دلچسپی سے خالی نہیں۔

ان ڈرامے کو دیکھ کر کئی مرد و خواتین ناظرین نے شکر ادا کیا ہو گا کہ ہمارے زنانہ کرداروں کو کچھ تو سکھ کا سانس ملا اور اپنے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنے اور لڑنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ یقیناً ہمارے ڈرامہ کو شدت سے اس تبدیلی کی ضرورت تھی جو آخرِ کار پوری ہو رہی ہے۔ ہمارے ناظرین کئی سالوں سے یکسانیت کا شکار اور ازدواجی مسائل جیسے رونے پیٹنے پر مبنی ڈرامے کو دیکھ بلکہ برداشت کر رہے تھے۔ اب ان نئے موضوعات سے تازگی کا خوشگوار احساس ہوا ہے۔

ٹی وی ایک ایسا ذریعہ ابلاغ ہے جو معاشرے کو بیک وقت خراب اور درست کر سکتا ہے۔ اگر مسلسل رونا پیٹنا اور مظلومیت دکھائی جاتی رہے تو خواتین ناظرین آخرِ کار یہ یقین کر لیں گی کہ زندگی اسی کا نام ہے۔ لیکن جب انہیں ’دیوار میں دروازہ‘ نظر آنے لگے تو وہ دوبارہ امید، مثبت سوچ، اور زندگی کی طرف پلٹنا شروع کر دیں گی۔ صد شکر کہ رفتہ رفتہ اب خواتین ناظرین کو یہ پیغام ملنے لگا ہے کہ وہ خانگی مسائل اور ذیادتیوں کو خاموشی سے سہتی نہ رہیں بلکہ انکے خلاف آواز بلند کریں ۔ مذکورہ کہانیاں عورت کو یہ عقل و شعور دیتی ہیں کہ اگر انہیں ایسے مسائل کا سامنا ہو تو وہ کیا طریقہ اختیار کریں۔

خواتین ہماری کل آبادی کا باون فیصد ہیں۔ اس باون فیصد آبادی کو تعلیم و شعور سے آراستہ کیے بغیر کیا ہم ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں اپنا نام درج کروا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ لیکن مسئلہ دراصل یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہمارا مرد کبھی بھی عورت کو تعلیم و شعور دلوانے کے حق میں نہیں رہا کیونکہ اس طرح عورت نہ صرف اپنے حقوق سے آگاہ ہو جائے گی بلکہ انکا مطالبہ بھی کرے گی۔ اور یہ مرد کو ہرگز گوارہ نہیں ۔ ہمارے مرد پروڈیوسر اور ہدایتکار تو یہاں تک کہتے رہے ہیں کہ خواتین ناظرین مظلومیت دیکھنا چاہتی ہیں کیونکہ وہ خود مظلوم ہیں۔ بہرحال، اب رائٹرز بھی برسوں کے لگے بندھے موضوعات سے ہٹ کر نیا لکھنے کی طرف مائل ہو رہے / رہی ہیں۔ ظاہر ہے حالیہ برسوں میں عورتوں کے ہر میدان میں آگے بڑھنے اور ان کی زندگی میں آنے والی نئی تبدیلیوں کو بھی موضوع بنانا ضروری ہے ۔ جب تک جدت نہ ہو گی، تب تک ناظرین کو بھی متوجہ کرنا مشکل ہو گا۔

مندرجہ بالا جن سابقہ، موجودہ، اور آئندہ آنے والے ڈرامے کا ذکر کیا گیا ہے، ان سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ دیگر چینلز، رائٹرز، پروڈیوسرز، اور ڈائریکٹرز کو بھی اس نئے رجحان کی طرف مائل کرنے کا سبب ہونگے۔ یوں خواتین کی تعلیم و آگہی میں ٹیلیویژن اپنا کردار زیادہ مثبت طور پر ادا کر سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •