خدا کرے کہ بھٹو پھر نہ مرے 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری اور بھٹو صاحب کی تاریخ پیدائش میں ایک دن کا فرق ہے۔ میں چھ جنوری کو پیدا ہوا اور بھٹو صاحب پانچ جنوری کو۔ میری پیدائش ان کی عوامی سیاست میں جنم والے سال کو ہوئی جب انھوں نےتاشقند سے واپس آکر عوام میں جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

میں جب سکول جانے لگا تو بنگال میں حالات خراب تھے۔ میرا تعلق سلسہ کوہ ہندوکش اورکوہ پامیر کے بیچ ہنسارا دریا کے کنارے ایک ایسے گاؤں سے ہےجہاں اس وقت سڑک بھی نہیں بنی تھی۔ گاؤں میں علاج ناپید تھا ، بیماری کی صورت میں صرف دعا ہی کی جاسکتی تھی اور موت کو اللہ کی مرضی سمجھ کر قبول کیا جاتا تھا۔ میرے باپ نے بڑی مشکل سے میٹرک تک پڑھا تھا اور ایوب خان کی بنیادی جمہوریت کے نئے محکمے میں نوکری کیا کرتے تھے۔ وہ اخبار، رسالے اور ڈائجسٹ وغیرہ گھر لاتے تھے اور ریڈیو سننا ان کا معمول تھا۔ میں نے اس وقت جو نام ریڈیو سے سنے یا پھر حرف شناسی ہوئی تو اخبارات اور رسائل میں پڑھے ان میں مسٹر بھٹو، صدر ایوب،جنرل یحیٰ اورمسز اندرا گاندھی  تھے ۔ پھر وقت کے ساتھ باقی نام معدوم ہوگئےاور ایک نام جو ہر وقت گونجنے لگا وہ نام ذوالفقار علی بھٹو کا تھا ۔

میں ابھی پرائمری کلاسوں میں تھا کہ بھٹو صاحب ہمارے علاقے میں تشریف لائے ۔ ان کے آنے پر لوگ جمع ہوئے اور انھوں نے 1947ء سے یہاں پر رائج فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے خاتمے کا اعلان کیا اور راجگی کے نظام کو ختم کیا ۔ لوگوں نے جشن منایا۔ پیپلز پارٹی کی ممبر سازی ہوئی تو لوگوں نے آٹھ آنے کی ممبر شپ لی اور اس رسید کو ان سے مالیہ نہ لینے کی بطور سند سنبھال کر رکھا۔

اس دور کی جو باتیں مجھے یاد ہیں ان میں سے ایک شناختی کارڈ بنانے کے لئے میرے دور دراز کے گاؤں میں آنے والی ٹیم بھی ہے جس کے ساتھ ایک فوٹو گرافر بھی تھا ۔ چنار کے ایک درخت کے تنے کے ساتھ لوگوں کی تصاویر بنا دی گئیں تو کئی لوگوں نے اس پر اعتراض بھی کیا کہ یہ غیر شرعی ہے مگر ٹیم کے ساتھ آئی پولیس کو دیکھ کر زیادہ شور مچانے کی کسی کو جرات نہ ہوسکی۔

میرے سکول کے استاد نے جو بھٹو صاحب کو پسند نہیں کرتے تھے مگر ہماری پرائیمری کے سکول میں بھی طلبہ یونین بنا دی۔ وہ سکول کے بچوں سے ایک سوال پوچھتے تھے کہ دین بڑا ہوتا ہے یا آئین اور خود ہی کہتے تھے کہ ملک میں دین کے مقابلے میں ایک آئین بن رہا ہے جو غلط ہے۔ میرے پرائمری پاس کرنے کے ساتھ ہی ملک میں دوبارہ الیکشن بھی ہوگئے۔ اس دوران مجھے گاؤں چھوڑ کر ہائی سکول کے لئے جانا پڑا مگر مجھے اب بھی یاد ہے کہ پرائمری میں پہلی پوزیشن لینے پر دس روپے کا انعام سکول انسپکٹر کے دفتر سے ملا تھا۔

ایک دن میرے والد بھٹو صاحب کو انتخابات جیتنے پر مبارکباد کے خط لکھ رہے تھے تو میں نے بھی خط لکھنے کی ضد کی تو انھوں نے ایک کاغذ تھماتے ہوئے کہا کہ میں بیگم نصرت بھٹو کو مبارکباد کا خط لکھوں۔ کچھ والد کی نقل اور کچھ اپنی عقل سے ایک خط لکھا جو میرے والد نے اپنے خط کے ساتھ دس پیسے کا ٹکٹ لگا کر لیٹر بکس میں ڈال دیا ۔ میرے والد کو تو بھٹو صاحب نے جواب نہیں دیا مگر بیگم نصرت بھٹو نے اپنے ہاتھوں سے اردو میں لکھ کر میرے خط کا جواب دیا۔ خط چونکہ سکول کے ہیڈ ماسٹر کے توسط سے آیا تھا تو سکول کے تمام طلبہ کی اسمبلی میں پڑھا گیا ۔پھر اس خط کو سکول کے بچے اپنے گھروں اور گاؤں لے جاتے تھے اور پڑھ کر سناتے تھے ۔

وہ طلبا جن کے گھر سکول سے دور تھے، جو ہاسٹلوں اور رشتے داروں کے پاس رہتے تھے ان کو بھٹو سرکار کی طرف سے راشن کے طور پر بیس کلو گندم، دو کلو چینی، ایک سیر نمک اور کچھ تیل مٹی ملتا تھا۔ میں بھی ان میں شامل تھا جن کو میٹرک پاس کرنے تک یہ راشن ملتا رہا۔ ہائی سکول میں بھی طلبہ یونین بنی تو ہیڈ ماسٹر نے اس میں مجھے بھی شامل کیا تھا۔

1977ء کے سال جب ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزار کر واپس آئے تو ماحول بدل چکا تھا۔ میرے علاقے کو بھٹو کے دور میں جو ضلع کا درجہ ملا تھا اب ختم ہوچکا تھا ۔ تمام دفاتر یہاں سے اٹھالئے گئے تھے۔ سکول کے دوپہر کے وقفے میں نماز کا اضافہ ہوچکا تھا ، ہر گاؤں اور محلے میں صلواۃ کمیٹیاں بن گئی تھیں اور مسجدوں میں نمازیوں کی حاضری لگنی شروع ہوئی تھی۔ ہمارے سکول میں بھی کچھ نئے باریش اساتذہ بھی آگئے تھے جو صرف ناظرہ قران کے لئے بھرتی ہوئے تھےجنھوں نے میٹرک بعد میں ہمارے ساتھ پاس کیا ۔ اب سکول کی ابتدا تلاوت کلام پاک سے ہوا کرتی تھی سکول میں لفظ جمہوریت، بھٹو اور آئین کہنا جرم قرار پا چکا تھا۔ اب سکول میں جنرل محمد ضیالحق اور نظام مصطفیٰ کے الفاظ گونج رہے تھے۔ جمعہ کی چھٹی بھٹو کے دور سے ہونے لگی تھی، جو جاری رہی۔

دو سال بعد میں ہائی سکول میں ہی تھا جب بھٹو کا مقدمہ چلا اور چار اپریل کی صبح حسب معمول ریڈیو پر بی بی سی کی خبریں سن رہے تھے تو پتہ چلا کہ بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ریڈیو پاکستان نے تو صرف یہ کہا کہ صبح چار بجے اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے کیس میں سزائے موت دی گئی لیکن بی بی سی نے تفصیلات بتادیں کہ کیسے ان کی لاش گڑھی خدا بخش پہنچا دی گئی اور دفنا دی گئی۔

اس دن میرے سکول میں موت کی سے خاموشی تھی۔ کوئی اس موضوع پر بات نہیں کر رہا تھا لیکن کچھ چہروں پر پھیلی مسکراہٹ کی لکیر اور زیادہ تر لوگوں کے چہروں پر غم کے گہرے رنگ نمایاں تھے۔ سکول میں اسی سال اعلان ہوا تھا کہ درسی کتابیں بدل رہی ہیں اس لئے پرانی کتابیں نہیں پڑھائی جائیں۔ طلبا کو ہیڈ ماسٹر صاحب نے سکول کے ارد گرد دیواریں اور گراؤنڈ بنانے پر لگا یا ہوا تھا ۔ کہیں جاکر جون میں نئی کتابیں آگئیں تو گزشتہ پانچ سالوں میں پڑھایا جانے والا مواد غائب تھا اور ایک نیا آغاز ہو چکا تھا۔ جمہوریت اور آئین کے الفاظ شریعت اور خلافت سے بدل دئے گئے تھے۔

1979ء کے سال میں بھٹو کی موت کے علاوہ دنیا میں تین بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں سے ایک انقلاب ایران اور دوسرا افغان انقلاب ثور تھا جبکہ تیسرا واقعہ خانہ کعبہ پرعرب انتہا پسندوں کا قبضہ تھا ۔ اسلامی کیلنڈر میں 1979ء میں 1400ھ کا آغاز ہوا جو کچھ پیش گوئیوں کے مطابق قیامت کا سال بھی قرار پایا تھا۔ ایران میں خمینی کے انقلاب کو ظہور امام مہدی سے جوڑا گیا تو جہیمان نے خانہ کعبہ پر قبضے کے ساتھ ہی اپنے سالے کے امام مہدی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ خانہ کعبہ کے واقعہ کے بعد سعودی عرب نے اپنے نوجوانوں کو پاکستان منتقل کرکے افغان جہاد کا اغاز کیا جس کی وجہ سے ہمارے ہاں مدرسوں کا ایک جال پھیل گیا اور پاکستان افغانستان کی جنگ میں شرکت کرنے والے بین الاقوامی مجاہدین کی گزرگاہ، پناہ گاہ اور تربیت گاہ بن گیا۔ اس کے بعد سے آج تک غزوہ ہند کی تیاری جاری ہے اور افغانستان میں شروع کیا جانے والا جہاد اب آغاز کرنے والوں کی طرف پلٹ چکا ہے۔

میں نے بھٹو صاحب کو کبھی دیکھا نہیں مگر ان کی موجودگی اور غیر حاضری دونوں کو اپنی درسی کتابوں، سکول کی عمارت، گھر کی چار دیواری، گلیوں اور بازاروں میں محسوس کیا ۔ بھٹو ایک بے آئین ملک کو آئین دے کر اس میں زندہ ہیں مگر بدقسمتی سے اسی آئین کو جب بھی توڑا گیا میں نے بھٹو کو مرتے دیکھا۔ بھٹو کو صرف ایک بار نہیں بلکہ بار بار مرتے دیکھا۔ خدا کرے کہ بھٹو پھر نہ مرے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 247 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan