سلمان خان کا جیل جانا ضروری تھا

سلمان خان کو میں ایک اوسط درجہ کا ایسا اداکار مانتا ہوں جس کی مقبولیت کو کسی سبب یا ہنر کی ضرورت نہیں۔ فلم میں سلمان کا ہونا کافی ہے، جب پردے پر دبنگ خان ہو تو کس کافر کو پڑی ہے کہ اداکاری کا جائزہ لے، فلم کی کہانی کو تولے یا فلم کے اندر محاسن تلاش کرے۔ ادھر بھائی کا چہرہ نظر آیا ادھر سنیما ہال میں سیٹیاں بجنے لگیں، ادھر بھائی کے لب ہلے ادھر تالیاں بجنے لگیں، ڈائیلاگ کیا تھا کون سنے؟ ایسی مقبولیت کسی زمانے میں راجیش کھنہ کو ملی تھی، بھارتی سنیما میں پہلی بار سوپر اسٹار کا لقب ہی راجیش کھنہ کو ملا تھا یہ بات الگ ہے کہ مقبولیت کا سورج جب ڈھلنے پر آیا تو وہی راجیش کھنہ ممبئی کے اپنے گھر میں تنہا آخری وقت گزارتے بھی دیکھے گئے۔
سلمان خان جس مقبولیت کے حامل ہیں اس حسن کے ساتھ ایک نہیں کئی نزاکتیں اپنے آپ جڑ جاتی ہیں۔ کسی مہنگی گھڑی کے اشتہار کے لئے اگر سلمان کی کلائی کو زحمت دی جائے گی تو اس کی فیس بھی پانچ کروڑ ہوگی، اگر اپنی چاہنے والی لڑکیوں کے مجمع میں سلمان خان بنا سکیورٹی کے داخل ہو جائے تو چند منٹ کے اندر ان چاہنے والیوں کے جوش عقیدت سے گھبرا کر چیخیں مارنے لگے گا، اگر آج سلمان ضرورت رشتہ کا اشتہار دے اور ڈاک سے خواہشمند لڑکیوں کے بائیوڈاٹا منگوائے تو ممبئی کا جنرل پوسٹ آفس خطوں کے انبار کے سبب چھوٹا پڑ جائے گا، بھائی کسی سڑک چلتی لڑکی کو اٹھاکر اپنے ساتھ ایک فلم میں کام کرنے کا موقع دے دے تو لاکھ اداکاری کی الف ب سے ناواقف ہونے کے باوجود اس لڑکی کو پانچ دس فلمیں اور دس بیس اشتہار یوں ہی مل جائیں گے۔ سلمان کی مقبولیت کے یہ وہ پہلو ہیں جو سب کو اچھے لگتے ہیں، خود سلمان کو بھی، لیکن اس مقبولیت کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی ہیں اور ان میں سب سے اہم یہ کہ جب کبھی سلمان ٹائپ اسٹار قانون شکنی کرتا ہے تو لوگ دیدے گڑا کر دیکھتے ہیں کہ ہمارے حلق میں ہاتھ ڈالنے والا یہ نظام اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
مطلب اس بات سے نہیں ہے کہ سلمان خان کتنے بڑے اسٹار ہیں؟ ان پر انڈسٹری کا کتنا پیسہ لگا ہے؟ مقدمہ کتنا پرانا ہے؟ یا پھر سلمان نے کس کس موقع پر لوگوں کی مدد کی ہے؟ یہاں معاملہ ایک ملزم اور قانون کا ہے۔ یہ ہم لوگ ہیں جو اس بحث میں سلمان کے گلیمر کو گھسیٹ لاتے ہیں۔ یوں تو قانون سب کے لئے برابر ہے لیکن قانون کی ترازوں کا اصل امتحان ہوتا ہی اس وقت ہے جب اس میں اسٹاروں، جاگیرداروں، سیاستدانوں، رسوخ رکھنے والوں اور دبنگوں کا مقدمہ تل رہا ہو۔ ایسے میں آئیڈیل صورتحال یہی ہے کہ جب ملزم با اثر ہو تو قانون کی کسوٹی کو دو درجہ اور سخت کر دیا جائے تاکہ عوام دیکھ لیں کہ انصاف کی ترازو پورا تول رہی ہے۔ عوام کے دلوں میں قانون کی بالادستی کا اعتماد بحال رکھنے کے لئے یہ بڑی معمولی سی قیمت ہے۔ ذرا سوچیئے جودھپور دیہات کا ایک چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کرسی انصاف پر بیٹھا ہے اور سامنے لاکھوں دلوں کی دھڑکن اور انڈسٹری کا مہنگا ترین اداکار کٹہرے میں کھڑا ہے۔ کتنی دیر لگتی ہے جج کو مرعوب ہونے میں لیکن یہ فرض شناسی کی عینک کا کمال ہے کہ وہ جج اس سوپر اسٹار کو شواہد کی بنیاد پر قصوروار قرار دیتا ہے اور پانچ برس قید کی سزا سناتا ہے۔
جن دوستوں کا شکوہ ہے کہ سلمان خان کو ان کے اسٹار ہونے کی سزا ملی ہے ان کا شکوہ بے جا ہے۔ اول تو اسٹار ہونے کا مطلب قانون شکنی کا استثنی نہیں اور دوسری بات یہ کہ سلمان کو اسی اسٹار ہونے کے سبب اب تک جو آسانیاں ملی ہیں ان پر بھی شکرانے بجا لانےچاہئیں۔ سلمان کو اسٹار ہونے کا فائدہ اس روز ملا تھا جب مزدوروں پر گاڑی چڑھانے کے الزام میں ذیلی عدالت نے سلمان کو قید کی سزا سنائی اور چند گھنٹے کے اندر اعلی عدالت سے پروانہ مل گیا کہ سلمان کو جیل جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسٹار ہونے کا فائدہ اسے کہتے ہیں کہ سلمان کے ڈرائیور نے برسوں بعد اچانک عدالت میں کھڑے ہوکر کہا کہ جس گاڑی سے لوگ کچلے گئے وہ صاحب نہیں میں چلا رہا تھا۔ اسٹار ہونے کی برکت یہ ہوتی ہے کہ ہرن مارنے کے ایک دیگر معاملہ میں سلمان عدالت سے شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر بری ہو گئے جب کہ گواہ جگہ جگہ فریاد کرتا رہا کہ میں سلمان کے جرم کا عینی شاہد ہوں میری گواہی کیوں نہیں لیتے؟
میرا مسئلہ سلمان خان نہیں بلکہ طاقت اور رسوخ میں نہایا وہ اداکار ہے جو لوگوں کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے کے جرم میں سزا پاتا ہے اور چند ہی لمحوں میں دنیا حرکت میں آ جاتی ہے۔ دہلی سے وکیل دوڑ جاتے ہیں، بامبے ہائی کورٹ اس دن کچھ زیادہ دیر کھلی رہتی ہے، شام ڈھلے جس وقت جج عموماً گولف کھیلتے ہیں اس وقت عدالت لگتی ہے اور چٹ عرضی پٹ ضمانت ہو جاتی ہے۔
یہ سب صرف اس لئے کہ بھائی کو ایک رات بھی جیل میں نہ رہنا پڑے۔ رات کی سیاہی پڑتے پڑتے چمچاتی سفید لگژری کار میں اسٹار کا قافلہ عدالت سے گھر کے لئے نکلتا ہے۔ کیمروں کے فلیش میں نہائی کار میں اگلی سیٹ پر بیٹھا بھائی ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی کارنامہ انجام دینے والا ہیرو ہو۔ یہ منظر میں نے بھی دیکھا تھا اور درجنوں بھارتی چینلوں سے براہ راست نشر ہوتے کروڑوں لوگوں نے بھی دیکھا ہوگا۔ میرا تو کچہری سے سابقہ نہیں پڑا لیکن ذرا سوچیئے کسی جھوٹے مقدمہ میں پھنس کر برسوں مفت کی جیل بھگتنے والے اور ضمانت کے لئے ایڑیاں رگڑنے والے کسی شخص کے لئے یہ منظر کیسا تجربہ رہا ہوگا؟ یقین مانیے، اپنے رسوخ سے سرشار ایک طاقتور اسٹار کی اس فاتحانہ واپسی کے منظر کے بعد یہ منظر ضروری ہو گیا تھا کہ جودھ پور دیہات کی عدالت سے اسی سوپر اسٹار کو جیل لے جایا جائے، بھلے ہی ایک رات کو۔

