مینوں نچ کے یار مناون دے
یہ زمین ناچ رہی ہے۔ سورج کے اردگرد۔ اجالوں کو منانے کے لئے۔ چندرما ناچ رہا ہے۔ خود کو تابندہ کرنے کے لئے۔ ہوا رقصاں ہے بادلوں اور پروا کو بہلا کر حبس کے خاتمے کے لئے۔ پتے تالیاں بجاتے ہیں جب شاخیں رقص کرتی ہوا کے ساتھ لہرا اٹھتی ہیں۔ ان سب کے رقصاں ہونے سے ایک ردھم سا پیدا ہوتا ہے۔ موسیقی جنم لے رہی ہے۔ موسیقی کی تخلیق رقص نے کی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ رقص موسیقی کے سامنے سرنگوں ہو جاتا ہے۔ انتظار میں رہتا ہے کہ موسیقی طاقت پکڑ کر جب فضا کو سحر زدہ کر دے تو رقص اپنا کام کرے۔ بہت بڑا قلندر ہے یہ رقص بھی۔
زندگی بھی ہر جگہ ناچ رہی ہے۔ اندر بھی باہر بھی۔ باطن کا درویش جب ظاہر ہوتا ہے تو ہر انگ سے، ہر پور سے رقص پھوٹ پڑتا ہے۔ رومی کے مزار پر ہو یا کسی زندہ انسان کے کتبے پر، رقص اپنی مستی دکھا ہی جاتا ہے۔
رقص ہے کیا؟ رقص بھیتر کا بھید اور باہر کا بھاؤ ہے۔ بھیتر میں چھپے راز جب مزید چھپائے نہیں جا سکتے تو یہ ایک کیفیت کی طرح آشکار ہوتے ہیں۔ سطحی نگاہ سے رقص بدن کا بھاؤ نظر آتا ہے جبکہ یہ باطنی جذب ہے۔ جذب ایک کیفیت ہے کہ جب انسان اپنی روح سے ملاقات کرتا ہے۔ عام فہم زبان میں۔ اسے خود کو پا لینا کہتے ہیں۔ جذب لفظ اس لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ انسان خود اپنے وجود کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور پھر دنیا و مافیا سے بے خبر بس بس اپنی دھن میں مگن ہو جاتا ہے۔ میری شدید خواہش ہے کہ میں ہوا بن جاؤں۔ خوشبو کا جھونکا بن جاؤں یا پھر شاید کسی سائیکل کا پہیہ۔ پہیہ بھی تو رقصاں ہے اپنے مالک کو منزل تک پہنچانے کے لئے۔
میں وجود سے چھٹکارا چاہتی ہوں۔ رقص کے بھید بھاؤ مجھے یقین ہے کہ میری مدد کریں گے۔ میرا من منا دیں گے۔ جو خود سے ہی روٹھ کر کہیں کھو گیا ہے۔
میں ایسا کیوں سوچتی ہوں ؟ اس کا جواب جو میری سمجھ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ روح ایک تال ہے۔ اس کے ساتھ من کا میل ایک ایسی کیفیت پیدا کرتا ہے کہ انسان خواہش سے خالی ہو جاتا ہے۔ رقص ایک مراقبہ ہے۔ رقاص تن کا ہوش بھلا کر من کی گھپ کھائیوں کو روشن کرتا ہے۔ اور یہ روشنی انسان کے اندر موجود وہ نور ہے جو بغیر مراقبے کے تلاش نہیں کی جا سکتی۔
میں خود کو بےنور محسوس کر رہی ہوں۔ کچھ عرصہ کتھک کیا ہے اور میں اس سرور آگہی کیفیت کا لطف جانتی ہوں جو میرا بائی نے بھی محسوس کیا تھا۔ اس کو لازوال کی محبّت میں مبتلا ہونا بھی کہا جا سکتا ہے۔ ہر وظیفے، ہر منتر، ہر مراقبے کے اصول اور قاعدے ہوتے ہیں۔ مدّت ہوئی مجھے رقص سے دور ہویے۔ اب مجھے ایک استاد کی پھر سے ضرورت ہے جو مجھے خود سے ملا دے۔ خدا سے ملا دے۔ اسی خواہش کے پیشِ نظر میں نے ارادہ باندھ لیا ہے کہ میں اپنی ذات کی تکمیل کرنا چاہتی ہوں۔ رقص سے میری روح کا ناطہ کبھی ٹوٹا ہی نہیں۔ جب میں نے اس خواہش کا ذکر عزیزوں اور اہل خانہ سے کیا تو سب نے انگلیاں داب لیں۔ اعتراض اٹھا۔ اتنا بھونڈا اعتراض کہ میں کچھ دنوں تک سکتے کی حالت میں رہی یہ جواب مرد اور عورت دونوں اصناف سے ملا۔
جواب عرض خدمت کرتی ہوں۔ اب تم ان لوگوں سے میل جول رکھو گی جنھیں ہم اپنے گھروں میں تقریبات پر تفریح کے لئے بلاتے ہیں۔ جو ہمارے سماج میں بدنما داغ ہیں۔ انھیں سے میل جول بڑھاؤ گی تو لوگ کیا کہیں گے۔
لوگ کچھ بھی کہیں مگر میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ بہت اچھے اور چاہے جانے کے قابل لوگ ہیں۔ تبھی تو ہمارے مرد ان کے پاس خود چل کر جاتے ہیں۔ اپنی عورتوں سے بیوفائی کرتے ہیں۔ ان پر خرچہ کرتے ہیں۔ تلوے بھی چاٹتے ہیں۔ بے قرار ہو جائیں تو قرار انہیں برے لوگوں میں ڈھونڈتے ہیں اور شاداں و فرحان ہو کر آتے ہیں۔ اتنی آسودگی بخشنے والے لوگ برے کیسے ہو سکتے ہیں۔میرے گھر آتے ہیں وہ لوگ تو آپ کی نظر نہیں ہٹتی ان پر سے۔ آپ کی گاڑی جاتی ہے انھیں لینے اور نذرانے دے کر آپ انھیں واپس روانہ کرتے ہیں۔ اچھا برے لوگوں کے ساتھ یوں برتاؤ کرتے ہیں تو پھر آپ بہت عظیم ہیں۔ اس عظمت کا بھرم کچھ تو مجھے بھی رکھنا ہے۔ آخر آپ میں سے ہی ہوں۔ واللہ وہ مجھ سے نذرانہ بھی نہیں مانگ رہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ایک شریف زادی ان کے فن کی دیوانی ہے۔ ان میں صوفی ، معرفت اور سلوک دیکھتی ہے۔ انھیں اپنا استاد بنا کر مکرم کرتی ہے۔ مگر وہ برے لوگ بھی اور میں بھی یہ بھول گئے تھے کچھ وقت کے لیے کہ ان کے ساتھ میل جول شریف زادے رکھ سکتے ہیں جو عزت تو دور کی بات انسانیت کا درجہ بھی نہیں دینا چاہتے۔ برتنے کی شے سمجھتے ہیں۔ سجاوٹ کا سامان مانتے ہیں۔ میں بھی کتنی پاگل ہوں ابھی تک سماج کے دوہرے معیار کو نہیں سمجھی۔ پر کوئی مجھے یہ سمجھائے کہ بلھے شاہ نے پیروں میں گھنگھرو کیوں باندھے تھے۔ یار منانے کے لئے نا۔ تو مجھے میرا من راضی کرنے دو۔ میں اپنے مردوں کی عورت ہوں میں بھی ان کے پاس جا کر عزت دار ہی رہوں گی۔ آپ سمجھتے کیوں نہیں۔ یا میری سمجھ میں آپ کیوں نہیں آتے؟



