سلیم صافی پر حملہ۔۔۔ سب پر حملہ!
گزشتہ دنوں رات گئے معروف ٹی وی اینکر اور میرے پیارے دوست سلیم صافی کے گھر پر حملے کی کوشش ناکام رہی تاہم گیٹ پر موجود سیکورٹی گارڈ پر تشدد کیا گیا۔ شاید وہ نامعلوم افراد گھر میں گھسنا چاہتے تھے لیکن الحمداللہ باقی افراد محفوظ رہے درحقیقت پاکستان میں آزادی صحافت پر خطرے کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ نامعلوم افراد جن کا تعلق سیاسی جماعتوں سے بھی ہوسکتا ہے اور غیر سیاسی قوتوں سے بھی ممکن ہے، کے خلاف تحقیقات تو شاید کبھی کبھار ہوجاتی ہے لیکن کارروائی بالکل بھی نہیں ہوتی شاید ان کے پیچھے اس ریاستی اداروں سے بھی زیادہ طاقتور ہاتھ ہوتے ہوں جس سے ان کو اپنے برے عزائم مزید ڈٹھائی کیساتھ کرنے میں تقویت مل جاتی ہے جو ہم سب کیلئے ایک انتہائی ناقابل برداشت بوجھ ہے جسے ہلکا کرنا ہر صورت ہمارے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے تاکہ اپنے شہریوں کے حقوق سمیت ان کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنائیں۔
سلیم صافی سے میری پہلی ملاقات 10 اگست 2015 میں ہوئی جب انہوں نے مجھے خصوصی طور پر ملاقات کیلئے اپنے دفتر بلایا اس ملاقات میں انہیں بہت ہی بہترین انسان اور مہمان نواز شخصیت کا حامل پایا اور ان کی سب سے اچھی بات یہ کہ جب سارا میڈیا "کے پی” کے حوالے سے خاموش تھا تب وہ ہمیشہ اپنے صوبہ (خیبر پختونخواہ) کے مظلوم اور غریب طبقہ کی آواز بنے وہ واحد صحافی ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ میڈیا پر مظلوم صوبے کے عوامی حقوق کی بات کی پھر چاہے اس اسے آپ علاقائی اور قومی تعصب سمجھیں یا پھر پاکستان تحریک انصاف سے نفرت لیکن آپ ان حقائق سے منہ نہیں موڑ سکتے جو انہوں نے اپنے پروگرامز اور کالموں میں بتائی ہیں۔
میزبان جرگہ سے دوستی اپنی جگہ لیکن خاکسار نے بھی ان کے ساتھ ہمیشہ کھل کر اختلاف کیا جسے وہ اختلاف رائے سمجھ کر معاف کردیتے ہیں جو ان کا بڑا پن ہے اور یہی حقیقی جمہوریت اور اس کا حسن ہے آپ بہتر جانتے ہوں گے کہ سلیم صافی اپنے کالموں میں حامد میر سے شدید اختلاف رائے کا اظہار کرتے رہے لیکن جب اس پر حملہ ہوا تھا تو سب سے پہلے اسی دن کیپٹل ٹاک کی میزبانی بھی سلیم صافی نے کی اور اس کے علاوہ یہ کہ ان کا آپسی اختلاف رائے ایک طرف لیکن وہ ایک ہو کر متحد ہیں اس ملک کے مستقبل کیلئے اور یہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو حق سچ بولنے پر گولیوں سے چھلنی کردے یا اسکے گھر پر ہلہ بول دے۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو عدالتیں کھلی ہیں وہاں جا کر ان کے خلاف ثبوت لائیں اور پھر ہم بھی ساتھ ہوں گے۔
اس روز مجھے آمنہ مسعود جنجوعہ کا پیغام ملا کہ آپ نے 5 تاریخ کو ہمارے احتجاج میں شرکت کرنی ہے دراصل یہ احتجاج گمشدہ اور لاپتہ افراد کیلئے تھا میں نے انہیں فون کرکے اسلام آباد میں غیرموجودگی کا کہہ کر ان سے شرکت کی معذرت کرلی لیکن اگلے روز معلوم ہوا کہ ایک طرف لاپتہ ہوجانے والے افراد کے لواحقین ان کی جبری گمشدگی پر سراپا احتجاج تھے تو دوسری طرف سلیم صافی کے گھر پر حملہ کی مذمت میں صحافی برادری گمشدگی سے بچنے کے لئے احتجاج کررہی تھی ان احتجاج کرنے والوں میں وہی حامد میر بھی شریک تھے جن سے سلیم صافی شدید اختلاف کرتے ہیں لیکن اس سے پیغام یہ ملتا ہے کہ صحافت اور سیاست میں اختلاف رائے ہوتے ہیں جوکہ بہت اچھی بات لیکن کسی پر بھی جبری طور پر حملہ کیا گیا تو ان سے شدید اختلاف کرنے والا بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگا کیونکہ ایک حملہ درحقیقت سب پر حملہ ہے۔


